❮
❯
حدیث نمبر: 16478
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُطَرِّفٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ: كَانَ أَبُو حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ شَيْخًا كَبِيرًا، فَرُفِعَ فِي الْآطَامِ مَعَ النِّسَاءِ يَوْمَ أُحُدٍ، فَخَرَجَ يَتَعَرَّضُ الشَّهَادَةَ، فَجَاءَ مِنْ نَاحِيَةِ الْمُشْرِكِينَ فَابْتَدَرَهُ الْمُسْلِمُونَ ⦗٢٢٨⦘ فَتَوَشَّقُوهُ بِأَسْيَافِهِمْ، وَحُذَيْفَةُ يَقُولُ: أَبِي أَبِي، فَلَا يَسْمَعُونَهُ مِنْ شُغْلِ الْحَرْبِ حَتَّى قَتَلُوهُ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: يَغْفِرُ اللهُ لَكُمْ، وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، فَقَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ بِدِيَةٍ.
حافظ ثناء اللہ

عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے والد بہت بوڑھے تھے، احد کے دن انہیں عورتوں کے ساتھ قلعوں میں اوپر پہنچا دیا گیا تھا، وہ شہادت کی تلاش میں نکلے اور مشرکین کی جانب سے آئے تو مسلمان ان کی طرف لپکے اور اپنی تلواروں سے انہیں مارنے لگے، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہہ رہے تھے: ”میرے والد! میرے والد!“ لیکن لڑائی میں مشغول ہونے کی وجہ سے وہ ان کی بات نہ سن سکے یہاں تک کہ انہیں قتل کر دیا، تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ﴿يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ ۖ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ﴾ ”اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔“ تو نبی ﷺ نے ان کے بارے میں دیت کا فیصلہ فرمایا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسامة / حدیث: 16478