کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جنین (پیٹ کے بچے) اور دیگر اموات میں کفارہ کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
قَالَ اللهُ تَعَالَى: {فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ}.
حافظ ثناء اللہ
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ﴾ ”تو ایک مومن گردن (غلام) آزاد کرنا ہے۔“ [سورة النساء: 92]
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فِي رَجُلٍ ضَرَبَ امْرَأَتَهُ أَوْ سُرِّيَّتَهُ، فَطَرَحَتْ مَا فِي بَطْنِهَا، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فِي وَلَدِهَا غُرَّةٌ، وَعَلَيْهِ كَفَّارَةٌ،.
حافظ ثناء اللہ
مالک بن انس رحمہ اللہ، امام زہری رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک عورت کو مارا، جس سے اس کا حمل ساقط ہو گیا؛ ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کے بچے کے بدلے اس پر جرمانہ ہے اور اس پر کفارہ ہے۔
قَالَ: وَثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فِي امْرَأَةٍ ضُرِبَتْ فَأَسْقَطَتْ ثَلَاثَةً، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: نَرَى فِي كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ غُرَّةً، وَنَرَى فِي كُلِّ جَنِينٍ قَدْ تَبَيَّنَ أَنَّهُ حَبَلٌ غُرَّةً قَالَ يُونُسُ: وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ فِي امْرَأَةٍ حَامِلٍ ضَرَبَهَا رَجُلٌ فَمَاتَتْ وَهِيَ حَامِلٌ، قَالَ: فِيهَا دِيَةُ الْمَرْأَةِ، وَلَيْسَ لِحَمْلِهَا مَعَهَا إِذَا هَلَكَ بِهَلَاكِهَا دِيَةٌ، وَلَا نَعْلَمُ سَبَقَ فِيهَا قَضَاءٌ، وَقَالَ ذَلِكَ مَالِكٌ وَحَكَى ابْنُ الْمُنْذِرِ الْكَفَّارَةَ فِي الْجَنِينِ، عَنْ عَطَاءٍ، وَالْحَسَنِ، وَالنَّخَعِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک عورت کو مارا گیا، اس کے پیٹ میں تین بچے تھے جو ساقط ہو گئے، تو زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہر ایک کے بدلے ہماری رائے کے مطابق جرمانہ ہے، اور ہماری رائے یہ ہے کہ ہر وہ جنین جس کا حمل ہونا واضح ہو چکا ہو، اس میں جرمانہ ہے۔ یونس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن شہاب رحمہ اللہ نے اس عورت کے بارے میں فرمایا کہ جس کو ایک شخص نے مارا، وہ مر گئی اور اس کا حمل بھی ضائع ہو گیا، فرمایا: عورت کی تو دیت ہے، رہا بچہ تو وہ بھی عورت کے ساتھ تھا، اس کی کوئی دیت ہمارے خیال میں نہیں ہے، اور ہمیں معلوم نہیں کہ اس بارے میں پہلے کوئی فیصلہ ہوا ہو۔ امام مالک رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا ہے۔
ابن منذر رحمہ اللہ نے جنین میں کفارہ عطاء، حسن اور نخعی رحمہم اللہ سے نقل کیا ہے۔
ابن منذر رحمہ اللہ نے جنین میں کفارہ عطاء، حسن اور نخعی رحمہم اللہ سے نقل کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ التَّابِعِينَ، مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ كَانُوا يَقُولُونَ فِي الرَّجُلِ يَضْرِبُ الْمَرْأَةَ فَتَطْرَحُ جَنِينَهَا: ⦗٢٠٢⦘ إِنْ سَقَطَ مَيِّتًا فَفِيهِ الْغُرَّةُ، وَإِنْ سَقَطَ حَيًّا فَمَاتَ فَفِيهِ الدِّيَةِ كَامِلَةً، وَكَانُوا يَقُولُونَ: مَنْ قَتَلَ امْرَأَةً حَامِلًا فَلَا عَقْلَ لِمَا فِي بَطْنِهَا، يَكُونُ عَقْلَ الْمَقْتُولَةِ وَلَا جَنِينَ فِي بَطْنِهَا.
حافظ ثناء اللہ
ابوزناد رحمہ اللہ فقہائے مدینہ (تابعین) رحمہم اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ وہ اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو مار کر عورت کا حمل ضائع کر دے، اگر وہ مردہ ہی ساقط ہوا ہے تو اس میں جرمانہ ہے اور اگر زندہ ساقط ہوا ہے اور بعد میں مرا ہے تو مکمل دیت ہے، اور وہ فرماتے تھے کہ جو حاملہ قتل کی جائے اور بچہ اس کے پیٹ ہی میں ہو تو صرف عورت کی دیت ہوگی، بچے کی نہیں۔
وَرُوِّينَا عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: إِذَا وَقَعَ السِّقْطُ حَيًّا كَمُلَتْ دِيَتُهُ، اسْتَهَلَّ أَوْ لَمْ يَسْتَهِلَّ، وَهُوَ فِيمَا أُخْبِرْتُ عَنْ زَاهِرٍ، عَنِ الْبَغَوِيِّ، عَنْ أَحْمَدَ، عَنِ الْعَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ، عَنْ حَجَّاجٍ، وَفِيهِ انْقِطَاعٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بچہ جب زندہ ساقط ہو جائے، وہ چیخا ہو یا نہ، اس میں مکمل دیت ہے۔
اس کی سند میں انقطاع ہے۔
اس کی سند میں انقطاع ہے۔
وَرَوَى فِي الْكَفَّارَةِ، مَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ الصَّبَّاحِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْأَيْلِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ قَيْسُ بْنُ عَاصِمٍ التَّمِيمِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي وَأَدْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ثَمَانَ بَنَاتٍ، فَقَالَ: " أَعْتِقْ عَنْ كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ نَسَمَةً " وَلِهَذَا شَاهِدٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قیس بن عاصم تمیمی نبی ﷺ کے پاس آئے اور کہا: میں نے جاہلیت میں آٹھ بیٹیوں کو زندہ درگور کیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر ایک کے بدلے ایک جان آزاد کر۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قِرَاءَةً، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، أنبأ الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا قَيْسٌ، عَنِ الْأَغَرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي وَأَدْتُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أَوْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ بِنْتًا لِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْتِقْ عَدَدَهُنَّ نَسَمًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: میں نے جاہلیت میں بارہ یا تیرہ بچیاں زندہ درگور کیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کی تعداد کے مطابق گردن آزاد کر دے۔“
أنبأني أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، إِجَازَةً، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زُهَيْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، أَنَّ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، صَاحَ بِامْرَأَةٍ فَأَسْقَطَتْ، فَأَعْتَقَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ غُرَّةً إِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.
حافظ ثناء اللہ
شہر بن حوشب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو بہت زور سے ڈانٹا تو اس عورت کا بچہ ساقط ہو گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کا جرمانہ ادا کیا۔
اس کی سند منقطع ہے۔
اس کی سند منقطع ہے۔