السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: ما جاء في الكفارة في الجنين وغير ذلك باب: جنین (پیٹ کے بچے) اور دیگر اموات میں کفارہ کے متعلق وارد شدہ احکامات کا بیان۔
قَالَ: وَثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، فِي امْرَأَةٍ ضُرِبَتْ فَأَسْقَطَتْ ثَلَاثَةً، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: نَرَى فِي كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ غُرَّةً، وَنَرَى فِي كُلِّ جَنِينٍ قَدْ تَبَيَّنَ أَنَّهُ حَبَلٌ غُرَّةً قَالَ يُونُسُ: وَقَالَ ابْنُ شِهَابٍ فِي امْرَأَةٍ حَامِلٍ ضَرَبَهَا رَجُلٌ فَمَاتَتْ وَهِيَ حَامِلٌ، قَالَ: فِيهَا دِيَةُ الْمَرْأَةِ، وَلَيْسَ لِحَمْلِهَا مَعَهَا إِذَا هَلَكَ بِهَلَاكِهَا دِيَةٌ، وَلَا نَعْلَمُ سَبَقَ فِيهَا قَضَاءٌ، وَقَالَ ذَلِكَ مَالِكٌ وَحَكَى ابْنُ الْمُنْذِرِ الْكَفَّارَةَ فِي الْجَنِينِ، عَنْ عَطَاءٍ، وَالْحَسَنِ، وَالنَّخَعِيِّ.ابن شہاب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک عورت کو مارا گیا، اس کے پیٹ میں تین بچے تھے جو ساقط ہو گئے، تو زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہر ایک کے بدلے ہماری رائے کے مطابق جرمانہ ہے، اور ہماری رائے یہ ہے کہ ہر وہ جنین جس کا حمل ہونا واضح ہو چکا ہو، اس میں جرمانہ ہے۔ یونس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن شہاب رحمہ اللہ نے اس عورت کے بارے میں فرمایا کہ جس کو ایک شخص نے مارا، وہ مر گئی اور اس کا حمل بھی ضائع ہو گیا، فرمایا: عورت کی تو دیت ہے، رہا بچہ تو وہ بھی عورت کے ساتھ تھا، اس کی کوئی دیت ہمارے خیال میں نہیں ہے، اور ہمیں معلوم نہیں کہ اس بارے میں پہلے کوئی فیصلہ ہوا ہو۔ امام مالک رحمہ اللہ نے بھی یہی کہا ہے۔
ابن منذر رحمہ اللہ نے جنین میں کفارہ عطاء، حسن اور نخعی رحمہم اللہ سے نقل کیا ہے۔