أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: لَا تَعْقِلُ الْعَاقِلَةُ، وَلَا يَعُمُّهَا الْعَقْلُ إِلَّا فِي ثُلُثِ الدِّيَةِ فَصَاعِدًا كَذَا رَوَاهُ أَيُّوبُ، وَالْمَحْفُوظُ أَنَّهُ مِنْ قَوْلِ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عاقلہ رشتہ دار صرف ثلث دیت یا اس سے زیادہ کے ضامن ہیں۔
ایوب نے اسی طرح روایت کیا ہے، اور محفوظ یہ ہے کہ یہ سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار کا قول ہے۔
ایوب نے اسی طرح روایت کیا ہے، اور محفوظ یہ ہے کہ یہ سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار کا قول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُمَا قَالَا: لَا تَحْمِلُ الْعَاقِلَةُ إِلَّا ثُلُثَ الدِّيَةِ فَصَاعِدًا، كَذَا قَالَا وَذَهَبَ الشَّافِعِيُّ إِلَى أَنَّهَا تَحْمِلُ كُلَّ مَا كَثُرَ وَقَلَّ؛ لِأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا حَمَّلَهَا الْأَكْثَرَ دَلَّ عَلَى تَحْمِيلِهَا الْأَيْسَرَ، قَالَ: وَقَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ، وَقَضَى بِهِ عَلَى الْعَاقِلَةِ، وَذَلِكَ نِصْفُ عُشْرِ الدِّيَةِ.
حافظ ثناء اللہ
ابنِ مسیب رحمہ اللہ اور سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عاقلہ ثلثِ دیت یا اس سے زیادہ کے ضامن ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پوری دیت کم ہو یا زیادہ، اس کے وہ ضامن ہیں؛ کیونکہ نبی ﷺ نے کم یا زیادہ کی اس میں کوئی تفریق نہیں فرمائی اور اس عورت کے ساقط شدہ بچے میں آپ ﷺ نے دیت کے نصفِ عشر کا فیصلہ بھی عاقلہ پر سنایا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي مَنْصُورٌ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ، يُحَدِّثُ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ رَجُلًا، مِنْ هُذَيْلٍ كَانَتْ لَهُ امْرَأَتَانِ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَأَسْقَطَتْ، فَقِيلَ: أَرَأَيْتَ مَنْ لَا أَكَلَ، وَلَا شَرِبَ، وَلَا صَاحَ وَلَا اسْتَهَلَّ، فَقِيلَ: أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ: فَقَضَى فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُرَّةٍ، وَجَعَلَهُ عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ ⦗١٩٠⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
«تَقَدَّمَ» ”یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے“ (دیکھیے: ۱۶۱۳۰)۔
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ " الْغُرَّةَ تُقَوَّمُ خَمْسِينَ دِينَارًا أَوْ سِتَّمِائَةِ دِرْهَمٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ربیعہ بن ابی عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «غُرَّہ» (جنین کے بدلے دیا جانے والا غلام یا لونڈی) کی قیمت 50 دینار یا 600 درہم لگائی جاتی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ بَعْضُهُمْ: فَإِنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ قَالَ: مِنَ الْأَمْرِ الْقَدِيمِ أَنْ تَعْقِلَ الْعَاقِلَةُ الثُّلُثَ فَصَاعِدًا قُلْنَا: الْقَدِيمُ قَدْ يَكُونُ مِمَّنْ يُقْتَدَى بِهِ وَيَلْزَمُ قَوْلُهُ، وَيَكُونُ مِنَ الْوُلَاةِ الَّذِينَ لَا يُقْتَدَى بِهِمْ وَلَا يَلْزَمُ قَوْلُهُمْ، أَفَنَتْرُكُ الْيَقِينَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَضَى بِنِصْفِ عُشْرِ الدِّيَةِ عَلَى الْعَاقِلَةِ بِظَنٍّ؟.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض نے یہ کہا کہ یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امرِ قدیم یہ ہے کہ عاقلہ ثلثِ دیت یا اس سے زیادہ کے ضامن ہیں۔ ہم نے کہا: قدیم کبھی ایسے شخص سے ہوتا ہے جس کی اقتدا کی جاتی ہے اور جس کی بات لازم ہوتی ہے، اور کبھی ایسے حکمرانوں سے ہوتا ہے جن کی نہ اقتدا کی جاتی ہے اور نہ ان کی بات لازم ہوتی ہے، تو کیا ہم اس یقینی بات کو کہ نبی ﷺ نے عاقلہ پر نصفِ عشر دیت کا فیصلہ فرمایا تھا، محض گمان کی وجہ سے چھوڑ دیں؟