السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: ما تحمل العاقلة باب: عاقلہ پر دیت کی جو مقدار لازم ہوتی ہے اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 16388
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ بَعْضُهُمْ: فَإِنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ قَالَ: مِنَ الْأَمْرِ الْقَدِيمِ أَنْ تَعْقِلَ الْعَاقِلَةُ الثُّلُثَ فَصَاعِدًا قُلْنَا: الْقَدِيمُ قَدْ يَكُونُ مِمَّنْ يُقْتَدَى بِهِ وَيَلْزَمُ قَوْلُهُ، وَيَكُونُ مِنَ الْوُلَاةِ الَّذِينَ لَا يُقْتَدَى بِهِمْ وَلَا يَلْزَمُ قَوْلُهُمْ، أَفَنَتْرُكُ الْيَقِينَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَضَى بِنِصْفِ عُشْرِ الدِّيَةِ عَلَى الْعَاقِلَةِ بِظَنٍّ؟.حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بعض نے یہ کہا کہ یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امرِ قدیم یہ ہے کہ عاقلہ ثلثِ دیت یا اس سے زیادہ کے ضامن ہیں۔ ہم نے کہا: قدیم کبھی ایسے شخص سے ہوتا ہے جس کی اقتدا کی جاتی ہے اور جس کی بات لازم ہوتی ہے، اور کبھی ایسے حکمرانوں سے ہوتا ہے جن کی نہ اقتدا کی جاتی ہے اور نہ ان کی بات لازم ہوتی ہے، تو کیا ہم اس یقینی بات کو کہ نبی ﷺ نے عاقلہ پر نصفِ عشر دیت کا فیصلہ فرمایا تھا، محض گمان کی وجہ سے چھوڑ دیں؟