أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: فِي ثَدْيِ الْمَرْأَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ، وَفِيهِمَا الدِّيَةُ "،.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک پستان میں نصف اور دونوں میں مکمل دیت ہے۔ [صحیح]
قَالَ: وَأَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ رَبِيعَةَ، أَنَّهُ قَالَ: فِي ثَدْيِ الْمَرْأَةِ سَدَادٌ لِصَدْرِهَا وَثِمَالٌ لِوَلَدِهَا، وَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمَالِ فِي الْغِنَى، وَبِمَنْزِلَةِ الْأَثَاثِ فِي الْجَمَالِ، وَبِمَنْزِلَةِ الْجُرْحِ الشَّدِيدِ فِي الْمُصِيبَةِ، فَأَرَى فِيهِ نِصْفَ دِيَةِ الْمَرْأَةِ وَرُوِّينَا عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَالنَّخَعِيِّ نَحْوُ قَوْلِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَنِ النَّخَعِيِّ فِي ثَدْيِ الرَّجُلِ حُكْمُ الْعَدْلِ.
حافظ ثناء اللہ
ربیعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عورت کے پستان سینے کے لیے پردہ، بچے کے لیے پرورش کا ذریعہ، غنی میں مال کے قائم مقام اور خوبصورتی میں سامانِ زینت کی طرح ہیں اور ان کا زخم سخت تکلیف دہ زخم کی طرح ہے، میرے خیال میں اس میں عورت کی نصف دیت ہے۔ شعبی اور نخعی رحمہما اللہ سے ابن مسیب رحمہ اللہ کے قول کی طرح منقول ہے اور نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مرد کے پستان میں عادل کے فیصلے (حکومتِ عدل) کے مطابق تاوان ہے۔