کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: عورت کے زخموں کی دیت و قصاص کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، وَابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَزَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ: جِرَاحَاتُ النِّسَاءِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ دِيَةِ الرَّجُلِ فِيمَا قَلَّ وَكَثُرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورت کے زخموں میں مرد کے مقابلے میں نصف دیت ہے، کم ہو یا زیادہ۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16308
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، أنبأ أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: عَقْلُ الْمَرْأَةِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ عَقْلِ الرَّجُلِ فِي النَّفْسِ، وَفِيمَا دُونَهَا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قتل یا زخم میں عورت کی دیت مرد سے نصف ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16309
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَمْرٌو، ثنا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّهُ قَالَ: جِرَاحَاتُ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ سَوَاءٌ إِلَى ⦗١٦٨⦘ الثُّلُثِ، فَمَا زَادَ فَعَلَى النِّصْفِ وَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: إِلَّا السِّنَّ وَالْمُوضِحَةَ، فَإِنَّهَا سَوَاءٌ، وَمَا زَادَ فَعَلَى النِّصْفِ وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: عَلَى النِّصْفِ فِي كُلِّ شَيْءٍ قَالَ: وَكَانَ قَوْلُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَعْجَبَهَا إِلَى الشَّعْبِيِّ لَفْظُ حَدِيثِ الْعُمَرِيِّ، وَرَوَاهُ أَيْضًا إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَكِلَاهُمَا مُنْقَطِعٌ، وَرَوَاهُ شَقِيقٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَهُوَ مَوْصُولٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عورتوں اور مردوں کے زخم ثلث دیت تک برابر ہیں، اس سے زائد ہوں تو پھر عورت کی مرد کے مقابلے میں نصف دیت ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سوائے دانت اور اس زخم کے جس میں ہڈی ظاہر ہو جائے، یہ دونوں برابر ہیں اور جو اس سے زائد ہیں وہ نصف ہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہر چیز میں نصف دیت ہی ہے اور شعبی رحمہ اللہ کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول سب سے زیادہ پسند تھا۔
اسے ابراہیم نخعی نے بھی سیدنا زید بن ثابت اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور یہ دونوں روایتیں منقطع ہیں، اور شقیق نے اسے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور وہ متصل ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16310
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ عن علي و زيد و منقطع عن ابن مسعود»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ: كَمْ فِي إِصْبَعِ الْمَرْأَةِ؟ قَالَ: عَشْرٌ قَالَ: كَمْ فِي اثْنَتَيْنِ؟ قَالَ: عِشْرُونَ قَالَ: كَمْ فِي ثَلَاثٍ؟ قَالَ: ثَلَاثُونَ قَالَ: كَمْ فِي أَرْبَعٍ؟ قَالَ: عِشْرُونَ قَالَ رَبِيعَةُ: حِينَ عَظُمَ جَرْحُهَا وَاشْتَدَّتْ مُصِيبَتُهَا نَقَصَ عَقْلُهَا؟ قَالَ: أَعِرَاقِيٌّ أَنْتَ؟ قَالَ رَبِيعَةُ: عَالِمٌ مُتَثَبِّتٌ، أَوْ جَاهِلٌ مُتَعَلِّمٌ؟ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي إِنَّهَا السُّنَّةُ.
حافظ ثناء اللہ
ربیعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ابن مسیب رحمہ اللہ سے سوال کیا کہ عورت کی انگلی کی دیت کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: دس اونٹ۔ پوچھا: دو انگلیوں میں؟ فرمایا: بیس۔ پوچھا: تین میں؟ فرمایا: تیس۔ پوچھا: چار میں؟ فرمایا: بیس۔ ربیعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب زخم بڑھ جائے اور تکلیف زیادہ ہو تو دیت کم ہوجائے گی۔ پوچھا: کیا تو عراقی ہے؟ ربیعہ رحمہ اللہ نے کہا: مضبوط عالم یا متعلم جاہل؟ فرمایا: اے بھتیجے! یہ سنت ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16311
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ لابن المسيب»
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَمَّا قَالَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ: هِيَ السُّنَّةُ أَشْبَهَ أَنْ يَكُونَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ عَنْ عَامَّةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَلَمْ يُشْبِهْ زَيْدٌ أَنْ يَقُولَ هَذَا مِنْ جِهَةِ الرَّأْيِ؛ لِأَنَّهُ لَا يَحْمِلُهُ الرَّأْيُ وَلَا يَكُونُ فِيمَا قَالَ سَعِيدٌ السُّنَّةُ، إِذَا كَانَ يُخَالِفُ الْقِيَاسَ وَالْعَقْلَ إِلَّا عِلْمُ اتِّبَاعٍ فِيمَا نَرَى، وَاللهُ أَعْلَمُ وَقَدْ كُنَّا نَقُولُ بِهِ عَلَى هَذَا الْمَعْنَى، ثُمَّ وَقَفْتُ عَنْهُ، وَأَسْأَلُ اللهَ الْخِيَرَةَ مِنْ قَبْلُ، إِنَّا قَدْ نَجِدُ مِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: السُّنَّةُ، ثُمَّ لَا نَجِدُ لِقَوْلِهِ: السُّنَّةُ نَفَاذًا بِأَنَّهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْقِيَاسُ أَوْلَى بِنَا فِيهَا، قَالَ: وَلَا يَثْبُتُ عَنْ زَيْدٍ إِلَّا كَثُبُوتِهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِيَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْنَادٍ لَا يَثْبُتُ مِثْلُهُ وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ، مِثْلَ قَوْلِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَهُوَ قَوْلُ الْفُقَهَاءِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ابن مسیب رحمہ اللہ نے یہ کہا کہ یہ سنت ہے تو اغلب یہ ہے کہ یہ نبی ﷺ سے ہے یا عام صحابہ سے۔ اور زید رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ گمان نہیں کہ انہوں نے یہ بات اپنی رائے سے کہی ہو کیونکہ رائے اس تک نہیں پہنچاتی، اور جس کے بارے میں سعید رحمہ اللہ نے کہا کہ یہ سنت ہے، جب وہ قیاس اور عقل کے خلاف ہو تو ہماری رائے میں اس کی بنیاد اتباع (یعنی نقل) کے علم کے سوا کچھ نہیں ہو سکتی، واللہ اعلم۔ ہم بھی اسی معنیٰ میں یہ کہا کرتے تھے، پھر میں اس سے رک گیا اور میں اللہ سے بھلائی کا سوال کرتا ہوں، کیونکہ ہم ان میں سے کسی کو پاتے ہیں جو کہتا ہے: یہ سنت ہے، پھر ہم اس کے ”سنت“ کہنے میں یہ ثبوت نہیں پاتے کہ وہ نبی ﷺ سے ہے، اس لیے ہمارے نزدیک اس میں قیاس اولیٰ ہے۔ اور فرمایا: زید رضی اللہ عنہ سے یہ اسی طرح ثابت ہے جیسے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے۔
یہ بات سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی ﷺ سے ایسی سند کے ساتھ مروی ہے جس جیسی سند ثابت نہیں ہوتی، اور عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کے واسطے سے نبی ﷺ سے ضعیف سند کے ساتھ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے قول کی طرح مروی ہے، اور یہی اہل مدینہ کے فقہاء کا قول ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16312
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ للشافعي»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، بِبُخَارَا، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّارَابَجِرْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ: كَتَبَ إِلِيَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِخَمْسٍ مِنْ صَوَافِي الْأُمَرَاءِ: أَنَّ الْأَسْنَانَ سَوَاءٌ، وَالْأَصَابِعَ سَوَاءٌ، وَفِي عَيْنِ الدَّابَّةِ رُبُعُ ثَمَنِهَا، وَأَنَّ الرَّجُلَ يُسْأَلُ عِنْدَ مَوْتِهِ عَنْ وَلَدِهِ فَأَصْدَقُ مَا يَكُونُ عِنْدَ مَوْتِهِ، وَجِرَاحَةُ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ سَوَاءٌ إِلَى الثُّلُثِ مِنْ دِيَةِ الرَّجُلِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَقَدْ خُولِفَ فِي لَفْظِهِ وَحُكْمِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے پانچ باتیں لکھ کر بھیجیں کہ دانت اور انگلیاں آپس میں برابر ہیں اور جانور کی آنکھ میں اس کی قیمت کا چوتھائی ہے اور آدمی سے اس کی موت کے وقت اس کے بچے کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ اپنی موت کے وقت سب سے زیادہ سچا ہوتا ہے اور ثلث دیت تک مردوں اور عورتوں کے زخم برابر ہیں۔
جابر جعفی قابلِ حجت نہیں اور اس روایت کے الفاظ اور حکم میں اس کی مخالفت کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16313
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ فِيمَا جَاءَ بِهِ عُرْوَةُ الْبَارِقِيُّ إِلَى شُرَيْحٍ مِنْ عِنْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ الْأَصَابِعَ سَوَاءٌ الْخِنْصَرَ وَالْإِبْهَامَ، وَأَنَّ جُرْحَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ سَوَاءٌ فِي السِّنِّ وَالْمُوضِحَةِ، وَمَا خَلَا ذَلِكَ فَعَلَى النِّصْفِ، وَأَنَّ فِي عَيْنِ الدَّابَّةِ رُبُعَ ثَمَنِهَا، وَأَنَّ أَحَقَّ أَحْوَالِ الرَّجُلِ أَنْ يُصَدَّقَ عَلَيْهَا عِنْدَ مَوْتِهِ فِي وَلَدِهِ إِذَا أَقَرَّ بِهِ قَالَ مُغِيرَةُ: وَنَسِيتُ الْخَامِسَةَ حَتَّى ذَكَّرَنِي عُبَيْدَةُ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا وَرِثَتْهُ مَا دَامَتْ فِي الْعِدَّةِ وَفِي هَذَا انْقِطَاعٌ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بارقی رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس ایک مکتوب لے کر گئے جس میں تھا کہ ”تمام انگلیاں برابر ہیں“ اور ”دانت اور ہڈی کے ظاہر ہونے والے زخم میں مرد و عورت برابر ہیں“ اور جو اس کے علاوہ ہیں اس میں عورت کی دیت نصف ہے، چوپائے کی آنکھ میں اس کی قیمت کا ربع ہے اور بندے کی موت کے وقت اس کی بات کا اعتبار کرنا اس کی اولاد کے بارے میں زیادہ حق رکھتا ہے۔ مغیرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: پانچویں میں بھول گیا تو عبیدہ رحمہ اللہ نے مجھے یاد دلائی کہ ”اگر مطلقہ عورت عدت میں ہے تو وارث ہوگی۔“
اس میں انقطاع ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16314
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»