السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: حلمتي الثديين باب: چھاتیوں کے دونوں ابھاروں کی دیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 16316
قَالَ: وَأَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ رَبِيعَةَ، أَنَّهُ قَالَ: فِي ثَدْيِ الْمَرْأَةِ سَدَادٌ لِصَدْرِهَا وَثِمَالٌ لِوَلَدِهَا، وَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الْمَالِ فِي الْغِنَى، وَبِمَنْزِلَةِ الْأَثَاثِ فِي الْجَمَالِ، وَبِمَنْزِلَةِ الْجُرْحِ الشَّدِيدِ فِي الْمُصِيبَةِ، فَأَرَى فِيهِ نِصْفَ دِيَةِ الْمَرْأَةِ وَرُوِّينَا عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَالنَّخَعِيِّ نَحْوُ قَوْلِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَنِ النَّخَعِيِّ فِي ثَدْيِ الرَّجُلِ حُكْمُ الْعَدْلِ.حافظ ثناء اللہ
ربیعہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ عورت کے پستان سینے کے لیے خوبصورتی، بچے کے لیے پرورش کا ذریعہ، غنی میں مال کے قائم مقام اور اثاث کے لحاظ سے خوبصورتی ہیں۔ اس کا زخم زیادہ تکلیف دہ ہے، میرے خیال میں اس میں نصف دیت ہے اور نخعی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مرد کے پستان میں برابر ہے۔