أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الطِّيبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّعِيرِيُّ، ثنا مِحْمَشُ بْنُ عِصَامٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنِ ابْنِ غَنْمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دِيَةُ الْمَرْأَةِ عَلَى النِّصْفِ مِنْ دِيَةِ الرَّجُلِ " وَرُوِيَ ذَلِكَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”عورت کی دیت مرد کے مقابلے میں نصف ہے۔“
یہ روایت ایک اور سند سے بھی عبادہ بن نسی سے مروی ہے اور اس میں ضعف ہے۔
یہ روایت ایک اور سند سے بھی عبادہ بن نسی سے مروی ہے اور اس میں ضعف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَعَنْ مَكْحُولٍ، وَعَطَاءٍ، قَالُوا: أَدْرَكْنَا النَّاسَ عَلَى أَنَّ دِيَةَ الْمُسْلِمِ الْحُرِّ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، فَقَوَّمَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تِلْكَ الدِّيَةَ عَلَى أَهْلِ الْقُرَى أَلْفَ دِينَارٍ أَوِ اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، ⦗١٦٧⦘ وَدِيَةَ الْحُرَّةِ الْمُسْلِمَةِ إِذَا كَانَتْ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى خَمْسُمِائَةِ دِينَارٍ أَوْ سِتَّةُ آلَافِ دِرْهَمٍ، فَإِذَا كَانَ الَّذِي أَصَابَهَا مِنَ الْأَعْرَابِ، فَدِيَتُهَا خَمْسُونَ مِنَ الْإِبِلِ، وَدِيَةُ الْأَعْرَابِيَّةِ إِذَا أَصَابَهَا الْأَعْرَابِيُّ خَمْسُونَ مِنَ الْإِبِلِ، لَا يُكَلَّفُ الْأَعْرَابِيُّ الذَّهَبَ وَلَا الْوَرِقَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب، مکحول اور عطاء رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے لوگوں کو اس موقف پر پایا کہ مسلمان آزاد کی دیت عہدِ رسالت میں 100 اونٹ تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے شہر والوں پر 1000 دینار یا 12000 درہم مقرر کر دی اور آزاد مسلمان عورت جب شہر سے ہو تو اس کی دیت 500 دینار یا 6000 درہم ہے، اور اگر اسے زخمی کرنے والا دیہاتی ہو تو اس کی دیت 50 اونٹ ہے، اور دیہاتی عورت کو جب دیہاتی زخمی کرے تو اس کی دیت 50 اونٹ ہے، اور دیہاتی کو درہم و دینار کا مکلف نہیں بنایا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا، أَوْطَأَ امْرَأَةً بِمَكَّةَ، فَقَضَى فِيهَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بِثَمَانِيَةِ آلَافٍ دِيَةٍ وَثُلُثٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: ذَهَبَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى التَّغْلِيظِ لِقَتْلِهَا فِي الْحَرَمِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو نجیح سے منقول ہے کہ ایک شخص نے مکہ میں ایک عورت کو روند ڈالا (جس سے وہ مر گئی) تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے 8000 درہم یعنی ایک دیت اور ایک تہائی دیت کا فیصلہ فرمایا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سخت دیت اس لیے لی کہ اس نے حرم میں قتل کیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سخت دیت اس لیے لی کہ اس نے حرم میں قتل کیا۔