کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: موضحہ سے کم تر درجے کے زخموں کی دیت کا بیان۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، وَرَبِيعَةَ، وَأَبِي الزِّنَادِ، وَإِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَعْقِلْ مَا دُونَ الْمُوضِحَةِ، وَجَعَلَ مَا دُونَ الْمُوضِحَةِ عَفْوًا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب، ربیعہ، ابوزناد اور اسحاق بن عبداللہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”واضح زخم کے علاوہ میں دیت نہیں لی بلکہ اسے مسلمانوں کے درمیان معاف کر دیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16208
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جداً
تخریج حدیث «ضعيف جداً»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، قَالَ: الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا أَنَّهُ لَيْسَ فِيمَا دُونَ الْمُوضِحَةِ مِنَ الشِّجَاجِ عَقْلٌ حَتَّى تَبْلُغَ الْمُوضِحَةَ، وَإِنَّمَا الْعَقْلُ فِي الْمُوضِحَةِ فَمَا فَوْقَهَا، وَذَلِكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، انْتَهَى إِلَى الْمُوضِحَةِ فِي كِتَابِهِ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، فَجَعَلَ فِيهَا خَمْسًا مِنَ الْإِبِلِ.
حافظ ثناء اللہ
مالک بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو اجماعی امر ہم تک پہنچا ہے، وہ یہ ہے کہ واضح زخم جس میں ہڈی ظاہر ہو جائے کے علاوہ میں دیت نہیں ہے۔ دیت ہے ہی واضح زخم میں اور یہی بات نبی ﷺ نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ والے خط میں تحریر فرمائی ”اور اس کی دیت پانچ اونٹ مقرر فرمائی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16209
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مالك»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: مَا دُونَ الْمُوضِحَةِ خُدُوشٌ فِيهَا صُلْحٌ وَرَوَى ابْنُ عُلَاثَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ، أَنَّ مُعَاذًا وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، جَعَلَا فِيمَا دُونَ الْمُوضِحَةِ أَجْرَ الطَّبِيبِ ⦗١٤٦⦘ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ غَنْمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا: وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَكُلُّ شَيْءٍ كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَعَلَى قَدْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو زخم واضح نہ ہو مثلاً خراش وغیرہ ہو تو اس میں صلح ہے اور سیدنا معاذ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے غیر واضح زخم میں صرف طبیب کا خرچہ مقرر کیا۔
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے ایک مرفوع روایت بھی ہے کہ ”واضح زخم جس میں ہڈی ظاہر ہو جائے پانچ اونٹ ہیں اور اس سے کم زخم میں اسی کے تناسب سے ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16210
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ الثِّقَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، ـ إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ اللهِ ـ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ، وَعُثْمَانَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَضَيَا فِي الْمِلْطَاةِ بِنِصْفِ دِيَةِ الْمُوضِحَةِ،.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن المسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے سر کے اس زخم (ملطاۃ) میں، جو ہڈی کے اوپر کی باریک جھلی تک پہنچے، واضح زخم جس میں ہڈی واضح ہو، اس سے نصف دیت مقرر فرمائی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16211
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَأَبُو زَكَرِيَّا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ، وَعُثْمَانَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِثْلَهُ أَوْ مِثْلَ مَعْنَاهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ ابْنَ نَافِعٍ يَذْكُرُ عَنْ مَالِكٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَقَرَأْنَا عَلَى مَالِكٍ: إِنَّا لَمْ نَعْلَمْ أَحَدًا مِنَ الْأَئِمَّةِ فِي الْقَدِيمِ وَلَا الْحَدِيثِ قَضَى فِيمَا دُونَ الْمُوَضِّحَةِ بِشَيْءٍ.
حافظ ثناء اللہ
سابقہ روایت۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16212
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ، وَعُثْمَانَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَضَيَا فِي الْمِلْطَاةِ، وَهِيَ السِّمْحَاقُ بِنِصْفِ مَا فِي الْمُوضِحَةِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: ثُمَّ قَدِمَ عَلَيْنَا سُفْيَانُ فَسَأَلْنَاهُ عَنْهُ، فَحَدَّثَنَا بِهِ عَنْ مَالِكٍ، ثُمَّ لَقِيتُ مَالِكًا فَقُلْتُ: إِنَّ سُفْيَانَ ثنا عَنْكَ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَضَيَا فِي الْمِلْطَاةِ بِنِصْفِ الْمُوضِحَةِ؟ قَالَ: صَدَقَ قَدْ حَدَّثْتُهُ قُلْتُ: حَدِّثْنِي بِهِ، قَالَ: مَا أُحَدِّثُ بِهِ الْيَوْمَ، فَقَالَ لَهُ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، وَهُوَ إِلَى جَنْبِهِ: عَزَمْتُ عَلَيْكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ إِلَّا حَدَّثْتَهُ بِهِ، قَالَ: تَعْزِمُ عَلَيَّ لَوْ كُنْتُ مُحَدِّثًا بِهِ الْيَوْمَ لَحَدَّثْتُهُ بِهِ، قُلْتُ: لِمَ لَا تُحَدِّثُنِي بِهِ وَقَدْ حَدَّثْتَ بِهِ غَيْرِي؟ قَالَ: إِنَّ الْعَمَلَ عِنْدَنَا عَلَى غَيْرِهِ، وَرَجُلُهُ عِنْدَنَا لَيْسَ ⦗١٤٧⦘ هُنَاكَ، يَعْنِي ابْنَ قُسَيْطٍ فَهَذَا عُذْرُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، رَحِمَنَا اللهُ وَإِيَّاهُ فِي الرَّغْبَةِ عَنْ هَذِهِ الرِّوَايَةِ قَالَ الشَّافِعِيُّ، رَحِمَهُ اللهُ فِيمَا سَاقَ كَلَامَهُ إِلَيْهِ: رُوِّينَا أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَدْ قَضَى فِيمَا دُونَ الْمُوضِحَةِ حَتَّى فِي الدَّامِيَةِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن المسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے ملطاۃ، جو سمحاق ہے، میں موضحہ (ہڈی ظاہر کر دینے والے زخم) کی دیت کا نصف مقرر فرمایا۔ عبدالرزاق رحمہ اللہ کہتے ہیں: پھر سفیان ہمارے پاس آئے تو ہم نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے ہمیں یہ روایت امام مالک سے بیان کی۔ پھر میں امام مالک سے ملا اور کہا: سفیان نے ہمیں آپ سے، انہوں نے ابن قسیط سے، انہوں نے ابن المسیب سے بیان کیا ہے کہ سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے ملطاۃ میں موضحہ کا نصف مقرر فرمایا؟ انہوں نے کہا: انہوں نے سچ کہا، میں نے انہیں یہ بیان کی تھی۔ میں نے کہا: مجھے بھی بیان کیجیے۔ انہوں نے کہا: آج میں اسے بیان نہیں کرتا۔ مسلم بن خالد، جو ان کے پہلو میں تھے، نے ان سے کہا: اے ابوعبداللہ! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ انہیں یہ ضرور بیان کریں۔ انہوں نے کہا: تم مجھے قسم دیتے ہو؟ اگر میں آج اسے بیان کرنے والا ہوتا تو انہیں ضرور بیان کر دیتا۔ میں نے کہا: آپ مجھے کیوں بیان نہیں کرتے جبکہ دوسروں کو بیان کر چکے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہمارے ہاں عمل اس کے خلاف ہے، اور اس کا راوی، یعنی ابن قسیط، ہمارے نزدیک اس درجے کا نہیں ہے۔
اس روایت سے اعراض کرنے میں یہ امام مالک بن انس کا عذر ہے، اللہ ہم پر اور ان پر رحم فرمائے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنی گفتگو کے دوران فرمایا: ہمیں یہ روایت پہنچی ہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے موضحہ سے کم زخموں میں بھی فیصلہ فرمایا، یہاں تک کہ دامیہ (خون آلود زخم) میں بھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16213
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: فِي الدَّامِيَةِ بَعِيرٌ، وَفِي الْبَاضِعَةِ بَعِيرَانِ، وَفِي الْمُتَلَاحِمَةِ ثَلَاثٌ، وَفِي السِّمْحَاقِ أَرْبَعٌ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ قَالَ الشَّيْخُ: مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، وَإِنْ كُنَّا نَرْوِي حَدِيثَهُ لِرِوَايَةِ الْكِبَارِ عَنْهُ، فَلَيْسَ مِمَّنْ تَقُومُ الْحُجَّةُ بِمَا يَنْفَرِدُ بِهِ وَرُوِّينَا عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: فِي السِّمْحَاقِ أَرْبَعٌ مِنَ الْإِبِلِ وَعَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلَهُ وَالْأَوَّلُ مُنْقَطِعٌ، وَالثَّانِي مُنْقَطِعٌ ثُمَّ إِنْ صَحَّتْ هَذِهِ الرِّوَايَةُ فَهِيَ مَحْمُولَةٌ عَلَى أَنَّهُمْ حَكَمُوا فِيمَا دُونَ الْمُوَضِحَةِ بِحُكُومَةٍ بَلَغَتْ هَذَا الْمِقْدَارَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ زخم جس سے خون نکلے اس میں ایک اونٹ ہے، جو گوشت کو چیر دے اس میں دو اونٹ اور جس میں گوشت ظاہر ہو جائے اس میں تین اونٹ اور سر کا وہ زخم جو ہڈی کے اوپر کی باریک جھلی تک پہنچے اس میں چار اونٹ اور واضح زخم جس میں ہڈی ظاہر ہو جائے اس میں پانچ اونٹ ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: محمد بن راشد کی حدیث ہم اگرچہ اس لیے روایت کرتے ہیں کہ بڑے محدثین نے ان سے روایت کی ہے، لیکن وہ ان لوگوں میں سے نہیں جن کی منفرد روایت حجت ہو۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی ہڈی کے اوپر کی جھلی تک پہنچنے والے زخم میں چار اونٹ منقول ہیں، یہ حکم بن عتیبہ کے واسطے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اور جابر جعفی کے واسطے سے عبداللہ بن نجی سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔ پہلی روایت منقطع ہے اور دوسری بھی منقطع ہے، پھر اگر یہ روایت صحیح ہو تو اسے اس پر محمول کیا جائے گا کہ انہوں نے موضحہ سے کم زخموں میں اندازے (حکومت) سے فیصلہ کیا جو اس مقدار تک پہنچا۔ واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الديات / حدیث: 16214
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»