السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: ما دون الموضحة من الشجاج باب: موضحہ سے کم تر درجے کے زخموں کی دیت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ، وَعُثْمَانَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَضَيَا فِي الْمِلْطَاةِ، وَهِيَ السِّمْحَاقُ بِنِصْفِ مَا فِي الْمُوضِحَةِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: ثُمَّ قَدِمَ عَلَيْنَا سُفْيَانُ فَسَأَلْنَاهُ عَنْهُ، فَحَدَّثَنَا بِهِ عَنْ مَالِكٍ، ثُمَّ لَقِيتُ مَالِكًا فَقُلْتُ: إِنَّ سُفْيَانَ ثنا عَنْكَ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَضَيَا فِي الْمِلْطَاةِ بِنِصْفِ الْمُوضِحَةِ؟ قَالَ: صَدَقَ قَدْ حَدَّثْتُهُ قُلْتُ: حَدِّثْنِي بِهِ، قَالَ: مَا أُحَدِّثُ بِهِ الْيَوْمَ، فَقَالَ لَهُ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، وَهُوَ إِلَى جَنْبِهِ: عَزَمْتُ عَلَيْكَ يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ إِلَّا حَدَّثْتَهُ بِهِ، قَالَ: تَعْزِمُ عَلَيَّ لَوْ كُنْتُ مُحَدِّثًا بِهِ الْيَوْمَ لَحَدَّثْتُهُ بِهِ، قُلْتُ: لِمَ لَا تُحَدِّثُنِي بِهِ وَقَدْ حَدَّثْتَ بِهِ غَيْرِي؟ قَالَ: إِنَّ الْعَمَلَ عِنْدَنَا عَلَى غَيْرِهِ، وَرَجُلُهُ عِنْدَنَا لَيْسَ ⦗١٤٧⦘ هُنَاكَ، يَعْنِي ابْنَ قُسَيْطٍ فَهَذَا عُذْرُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، رَحِمَنَا اللهُ وَإِيَّاهُ فِي الرَّغْبَةِ عَنْ هَذِهِ الرِّوَايَةِ قَالَ الشَّافِعِيُّ، رَحِمَهُ اللهُ فِيمَا سَاقَ كَلَامَهُ إِلَيْهِ: رُوِّينَا أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَدْ قَضَى فِيمَا دُونَ الْمُوضِحَةِ حَتَّى فِي الدَّامِيَةِ.ابن المسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے ملطاۃ، جو سمحاق ہے، میں موضحہ (ہڈی ظاہر کر دینے والے زخم) کی دیت کا نصف مقرر فرمایا۔ عبدالرزاق رحمہ اللہ کہتے ہیں: پھر سفیان ہمارے پاس آئے تو ہم نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے ہمیں یہ روایت امام مالک سے بیان کی۔ پھر میں امام مالک سے ملا اور کہا: سفیان نے ہمیں آپ سے، انہوں نے ابن قسیط سے، انہوں نے ابن المسیب سے بیان کیا ہے کہ سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے ملطاۃ میں موضحہ کا نصف مقرر فرمایا؟ انہوں نے کہا: انہوں نے سچ کہا، میں نے انہیں یہ بیان کی تھی۔ میں نے کہا: مجھے بھی بیان کیجیے۔ انہوں نے کہا: آج میں اسے بیان نہیں کرتا۔ مسلم بن خالد، جو ان کے پہلو میں تھے، نے ان سے کہا: اے ابوعبداللہ! میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ انہیں یہ ضرور بیان کریں۔ انہوں نے کہا: تم مجھے قسم دیتے ہو؟ اگر میں آج اسے بیان کرنے والا ہوتا تو انہیں ضرور بیان کر دیتا۔ میں نے کہا: آپ مجھے کیوں بیان نہیں کرتے جبکہ دوسروں کو بیان کر چکے ہیں؟ انہوں نے کہا: ہمارے ہاں عمل اس کے خلاف ہے، اور اس کا راوی، یعنی ابن قسیط، ہمارے نزدیک اس درجے کا نہیں ہے۔
اس روایت سے اعراض کرنے میں یہ امام مالک بن انس کا عذر ہے، اللہ ہم پر اور ان پر رحم فرمائے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اپنی گفتگو کے دوران فرمایا: ہمیں یہ روایت پہنچی ہے کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے موضحہ سے کم زخموں میں بھی فیصلہ فرمایا، یہاں تک کہ دامیہ (خون آلود زخم) میں بھی۔