السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الديات— دیت کا بیان
باب: ما دون الموضحة من الشجاج باب: موضحہ سے کم تر درجے کے زخموں کی دیت کا بیان۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: فِي الدَّامِيَةِ بَعِيرٌ، وَفِي الْبَاضِعَةِ بَعِيرَانِ، وَفِي الْمُتَلَاحِمَةِ ثَلَاثٌ، وَفِي السِّمْحَاقِ أَرْبَعٌ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ قَالَ الشَّيْخُ: مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، وَإِنْ كُنَّا نَرْوِي حَدِيثَهُ لِرِوَايَةِ الْكِبَارِ عَنْهُ، فَلَيْسَ مِمَّنْ تَقُومُ الْحُجَّةُ بِمَا يَنْفَرِدُ بِهِ وَرُوِّينَا عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ قَالَ: فِي السِّمْحَاقِ أَرْبَعٌ مِنَ الْإِبِلِ وَعَنْ جَابِرٍ الْجُعْفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُجَيٍّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلَهُ وَالْأَوَّلُ مُنْقَطِعٌ، وَالثَّانِي مُنْقَطِعٌ ثُمَّ إِنْ صَحَّتْ هَذِهِ الرِّوَايَةُ فَهِيَ مَحْمُولَةٌ عَلَى أَنَّهُمْ حَكَمُوا فِيمَا دُونَ الْمُوَضِحَةِ بِحُكُومَةٍ بَلَغَتْ هَذَا الْمِقْدَارَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ زخم جس سے خون نکلے اس میں ایک اونٹ ہے، جو گوشت کو چیر دے اس میں دو اونٹ اور جس میں گوشت ظاہر ہو جائے اس میں تین اونٹ اور سر کا وہ زخم جو ہڈی کے اوپر کی باریک جھلی تک پہنچے اس میں چار اونٹ اور واضح زخم جس میں ہڈی ظاہر ہو جائے اس میں پانچ اونٹ ہیں۔
شیخ فرماتے ہیں: محمد بن راشد کی حدیث ہم اگرچہ اس لیے روایت کرتے ہیں کہ بڑے محدثین نے ان سے روایت کی ہے، لیکن وہ ان لوگوں میں سے نہیں جن کی منفرد روایت حجت ہو۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی ہڈی کے اوپر کی جھلی تک پہنچنے والے زخم میں چار اونٹ منقول ہیں، یہ حکم بن عتیبہ کے واسطے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اور جابر جعفی کے واسطے سے عبداللہ بن نجی سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔ پہلی روایت منقطع ہے اور دوسری بھی منقطع ہے، پھر اگر یہ روایت صحیح ہو تو اسے اس پر محمول کیا جائے گا کہ انہوں نے موضحہ سے کم زخموں میں اندازے (حکومت) سے فیصلہ کیا جو اس مقدار تک پہنچا۔ واللہ اعلم۔