کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک قتلِ عمد کا تقاضا قصاص ہے اور دیت صرف اس صورت میں واجب ہوتی ہے جب قصاص معاف کر کے دیت پر صلح کر لی جائے۔
حدیث نمبر: 16044
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ دَاوُدَ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَفَعَهُ، قَالَ: " مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّةٍ أَوْ رِمِّيَّةٍ بِحَجَرٍ أَوْ بِسَوْطٍ أَوْ عَصًا، فَعَقْلُهُ عَقْلُ الْخَطَأِ، وَمَنْ قُتِلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدٌ، وَمَنْ حَالَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مرفوعاً روایت فرماتے ہیں کہ: ”جو پتھر یا کوڑے یا عصا کے لگنے سے قتل کرے تو اس میں دیت ہے اور جو اس کے درمیان حائل ہوا تو اس پر اللہ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، نہ اس کا کوئی فرض قبول ہوگا اور نہ نفل۔“