کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قتل اور اس سے کم تر (اعضاء کے نقصان) میں کس پر قصاص واجب ہوتا ہے، اس کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ مُوسَى قَالَا: أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ، وَعَنِ الْمَعْتُوهِ حَتَّى يُفِيقَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ ".
حافظ ثناء اللہ
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے، پاگل سے کہ جب تک وہ صحیح نہ ہو جائے، سوئے ہوئے سے جب تک وہ بیدار نہ ہو جائے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّهُ أُتِيَ بِمَجْنُونٍ قَتَلَ رَجُلًا، فَكَتَبَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ أَنِ اعْقِلْهُ وَلَا تُقِدْ مِنْهُ، فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَى مَجْنُونٍ قَوَدٌ.
حافظ ثناء اللہ
مروان بن حکم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ایک مجنوں آدمی سے قتل ہو گیا ہے تو کیا کروں؟ تو انہوں نے جواب میں لکھا کہ اسے قتل نہ کرو، دیت لے لو؛ کیونکہ مجنون پر قصاص نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ يَذْكُرُ لَهُ أَنَّهُ أُتِيَ بِسَكْرَانَ قَدْ قَتَلَ رَجُلًا، فَكَتَبَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ أَنِ اقْتُلْهُ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مروان بن حکم رحمہ اللہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ایک شخص نے نشے کی حالت میں قتل کر دیا ہے، تو انہوں نے جواب دیا کہ اسے بھی قصاصاً قتل کر دو۔