السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: من عليه القصاص في القتل وما دونه باب: قتل اور اس سے کم تر (اعضاء کے نقصان) میں کس پر قصاص واجب ہوتا ہے، اس کا بیان۔
حدیث نمبر: 15979
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: قَالَ مَالِكٌ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، كَتَبَ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّهُ أُتِيَ بِمَجْنُونٍ قَتَلَ رَجُلًا، فَكَتَبَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ أَنِ اعْقِلْهُ وَلَا تُقِدْ مِنْهُ، فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَى مَجْنُونٍ قَوَدٌ.حافظ ثناء اللہ
مروان بن حکم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ایک مجنوں آدمی سے قتل ہو گیا ہے تو کیا کروں؟ تو انہوں نے جواب میں لکھا کہ اسے قتل نہ کرو، دیت لے لو؛ کیونکہ مجنون پر قصاص نہیں ہے۔