أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَتَلَ نَفَرًا خَمْسَةً أَوْ سَبْعَةً بِرَجُلٍ قَتَلُوهُ قُتِلَ غِيلَةً وَقَالَ: لَوْ تَمَالَأَ عَلَيْهِ أَهْلُ صَنْعَاءَ لَقَتَلْتُهُمْ جَمِيعًا.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پانچ یا سات آدمیوں کو ایک شخص کے بدلے میں قصاصاً قتل کیا، جس کو انہوں نے دھوکے سے قتل کر دیا تھا اور فرمایا: اگر تمام اہل صنعاء اس کے قتل میں شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کر دیتا۔
قَالَ الْبُخَارِيُّ فِي تَرْجَمَةِ الْبَابِ: قَالَ لِيَ ابْنُ بَشَّارٍ: ثنا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ غُلَامًا قُتِلَ غِيلَةً، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَوِ اشْتَرَكَ فِيهَا أَهْلُ صَنْعَاءَ لَقَتَلْتُهُمْ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، فَذَكَرَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ صَبِيًّا قُتِلَ بِصَنْعَاءَ غِيلَةً، فَقَتَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِهِ سَبْعَةً، وَقَالَ: لَوِ اشْتَرَكَ فِيهِ أَهْلُ صَنْعَاءَ لَقَتَلْتُهُمْ.
حافظ ثناء اللہ
امام بخاری رحمہ اللہ ترجمہ الباب میں فرماتے ہیں کہ مجھے ابن یسار نے بیان کیا، وہ یحییٰ عن عبید اللہ عن نافع عن سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ ایک لڑکا دھوکے سے قتل کر دیا گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: ”اگر اہل صنعاء اس کے قتل میں شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کر دیتا۔“
اور یحییٰ بن سعید سے یہ بھی منقول ہے کہ ایک بچہ حمل میں یا زمانہ بچپن میں قتل کر دیا گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے قتل میں شریک پانچ یا سات لوگوں کو قتل کیا اور فرمایا: ”اگر سارا صنعاء اس کے قتل میں شریک ہوتا تو میں سب کو قتل کر دیتا۔“
اور یحییٰ بن سعید سے یہ بھی منقول ہے کہ ایک بچہ حمل میں یا زمانہ بچپن میں قتل کر دیا گیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے قتل میں شریک پانچ یا سات لوگوں کو قتل کیا اور فرمایا: ”اگر سارا صنعاء اس کے قتل میں شریک ہوتا تو میں سب کو قتل کر دیتا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ ⦗٧٤⦘ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَتَلَ سَبْعَةً مِنْ أَهْلِ صَنْعَاءَ اشْتَرَكُوا فِي دَمِ غُلَامٍ، وَقَالَ: " لَوْ تَمَالَأَ عَلَيْهِ أَهْلُ صَنْعَاءَ لَقَتَلْتُهُمْ جَمِيعًا قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَالْأَوَّلُ يَحْيَى الْقَطَّانُ قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ مُغِيرَةُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ أَرْبَعَةً قَتَلُوا صَبِيًّا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مِثْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے صنعاء کے سات آدمیوں کو جو ایک بچے کے قتل میں ملوث تھے، قتل کروایا اور فرمایا: اگر سارے اہل صنعاء اس میں شریک ہوتے تو میں ان سب کو قتل کروا دیتا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کی روایت ہے اور پہلے یحییٰ قطان رحمہ اللہ تھے اور بخاری میں چار آدمیوں کا ذکر ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ کی روایت ہے اور پہلے یحییٰ قطان رحمہ اللہ تھے اور بخاری میں چار آدمیوں کا ذکر ہے۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ حَكِيمٍ الصَّنْعَانِيَّ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً، بِصَنْعَاءَ غَابَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَتَرَكَ فِي حِجْرِهَا ابْنًا لَهُ مِنْ غَيْرِهَا، غُلَامٌ يُقَالُ لَهُ: أَصِيلٌ فَاتَّخَذَتِ الْمَرْأَةُ بَعْدَ زَوْجِهَا خَلِيلًا، فَقَالَتْ لِخَلِيلِهَا: إِنَّ هَذَا الْغُلَامَ يَفْضَحُنَا فَاقْتُلْهُ، فَأَبَى، فَامْتَنَعَتْ مِنْهُ فَطَاوَعَهَا، وَاجْتَمَعَ عَلَى قَتْلِهُ الرَّجُلُ وَرَجُلٌ آخَرُ وَالْمَرْأَةُ وَخَادِمُهَا، فَقَتَلُوهُ ثُمَّ قَطَّعُوهُ أَعْضَاءً، وَجَعَلُوهُ فِي عَيْبَةٍ مِنْ أَدَمٍ فَطَرَحُوهُ فِي رَكِيَّةٍ فِي نَاحِيَةِ الْقَرْيَةِ، وَلَيْسَ فِيهَا مَاءٌ ثُمَّ صَاحَتِ الْمَرْأَةُ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَخَرَجُوا يَطْلُبُونَ الْغُلَامَ قَالَ: فَمَرَّ رَجُلٌ بِالرَّكِيَّةِ الَّتِي فِيهَا الْغُلَامُ فَخَرَجَ مِنْهَا الذُّبَابُ الْأَخْضَرُ، فَقُلْنَا: وَاللهِ إِنَّ فِي هَذِهِ لِجِيفَةً، وَمَعَنَا خَلِيلُهَا، فَأَخَذَتْهُ رِعْدَةٌ، فَذَهَبْنَا بِهِ فَحَبَسْنَاهُ وَأَرْسَلْنَا رَجُلًا فَأَخْرَجَ الْغُلَامَ، فَأَخَذْنَا الرَّجُلَ فَاعْتَرَفَ فَأَخْبَرْنَا الْخَبَرَ فَاعْتَرَفَتِ الْمَرْأَةُ وَالرَّجُلُ الْآخَرُ وَخَادِمُهَا، فَكَتَبَ يَعْلَى، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ أَمِيرٌ بِشَأْنِهِمْ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِقَتْلِهِمْ جَمِيعًا، وَقَالَ: " وَاللهِ لَوْ أَنَّ أَهْلَ صَنْعَاءَ شَرِكُوا فِي قَتْلِهِ لَقَتَلْتُهُمْ أَجْمَعِينَ وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ: خَرَجَ قَوْمٌ وَصَحِبَهُمْ رَجُلٌ فَقَدِمُوا وَلَيْسَ مَعَهُمْ، فَاتَّهَمَهُمْ أَهْلُهُ فَقَالَ شُرَيْحٌ: شُهُودَكُمْ أَنَّهُمْ قَتَلُوا صَاحِبَكُمْ، وَإِلَّا حَلَفُوا بِاللهِ مَا قَتَلُوهُ فَأَتَوْا بِهِمْ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ سَعِيدٌ: وَأَنَا عِنْدَهُ، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمْ فَاعْتَرَفُوا قَالَ: فَسَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: أَنَا أَبُو حَسَنٍ الْقَرْمُ، فَأَمَرَ بِهِمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقُتِلُوا.
حافظ ثناء اللہ
مغیرہ بن حکیم صنعانی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ صنعاء میں ایک عورت کا خاوند غائب ہو گیا۔ اس عورت کی گود میں ایک بچہ تھا۔ عورت نے خاوند کے غائب ہونے کے بعد ایک دوسرے مرد سے تعلقات بنا لیے تو وہ عورت اپنے اس آشنا سے کہنے لگی: ”اس بچے کو قتل کر دو، کیونکہ یہ ہمیں رسوا کر دے گا۔“ اس نے انکار کیا تو اس عورت نے اس سے دوستی ختم کرنے کا کہا اور اسے مجبور کیا، تو اس کو قتل کرنے کے لیے دو آدمی (عورت کا آشنا اور دوسرا ایک اور آدمی)، وہ عورت اور اس کا غلام تیار ہوئے۔ انہوں نے اسے قتل کر دیا اور اس کے ٹکڑے کر کے ایک چمڑے کے تھیلے میں ڈالے اور اسے بستی کے قریب ایک ایسے کنویں میں پھینک دیا جس میں پانی نہیں تھا اور عورت نے واویلا کرنا شروع کر دیا کہ: ”میرا بچہ غائب ہو گیا ہے۔“ لوگ آئے اور بچے کی تلاش شروع کر دی۔ ایک شخص کا کنویں کے پاس سے گزر ہوا تو دیکھا کہ اس کنویں سے سبز رنگ کی مکھیاں نکل رہی ہیں۔ جب اس سے وہ چمڑے کا تھیلا نکالا گیا تو اس عورت کے آشنا پر کپکپی طاری ہو گئی۔ ہم نے اسے پکڑ لیا اور قید میں ڈال دیا تو اس مرد، عورت، دوسرے مرد اور ان کے غلام نے قتل کا اعتراف کر لیا۔ یعلی رضی اللہ عنہ جو اس وقت صنعاء کے امیر تھے، انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سب لکھ کر بھیجا تو آپ رضی اللہ عنہ نے تمام کے قتل کا حکم دے دیا اور فرمایا: ”اگر سارا صنعاء اس میں شریک ہوتا تو میں سب کو قتل کروا دیتا۔“
اور سعید بن وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قوم جب اس کی تلاش میں نکلی تو ایک شخص ان سے آکر ملا جو ان کے ساتھ پہلے نہیں تھا تو اس کے اہل نے اس کو مجرم سمجھا تو شریح رحمہ اللہ فرمانے لگے: ”تمہاری گواہی یہ ہے کہ انہوں نے تمہارے آدمی کو قتل کیا ہے، گواہ لاؤ، ورنہ تم قسم اٹھاؤ کہ ہم نے قتل نہیں کیا۔“ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے تو انہوں نے ان کو جدا جدا کر کے معلوم کیا تو انہوں نے اعتراف کر لیا، تو میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: ”میں حسن کا والد سردار ہوں“ اور انہوں نے انہیں قتل کرنے کا حکم دے دیا۔
اور سعید بن وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قوم جب اس کی تلاش میں نکلی تو ایک شخص ان سے آکر ملا جو ان کے ساتھ پہلے نہیں تھا تو اس کے اہل نے اس کو مجرم سمجھا تو شریح رحمہ اللہ فرمانے لگے: ”تمہاری گواہی یہ ہے کہ انہوں نے تمہارے آدمی کو قتل کیا ہے، گواہ لاؤ، ورنہ تم قسم اٹھاؤ کہ ہم نے قتل نہیں کیا۔“ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے تو انہوں نے ان کو جدا جدا کر کے معلوم کیا تو انہوں نے اعتراف کر لیا، تو میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے سنا: ”میں حسن کا والد سردار ہوں“ اور انہوں نے انہیں قتل کرنے کا حکم دے دیا۔