السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنايات— جنایات (جرائم) کا بیان
باب: النفر يقتلون الرجل باب: ایک جماعت کا کسی ایک شخص کو مل کر قتل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15973
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَتَلَ نَفَرًا خَمْسَةً أَوْ سَبْعَةً بِرَجُلٍ قَتَلُوهُ قُتِلَ غِيلَةً وَقَالَ: لَوْ تَمَالَأَ عَلَيْهِ أَهْلُ صَنْعَاءَ لَقَتَلْتُهُمْ جَمِيعًا.حافظ ثناء اللہ
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پانچ یا سات آدمیوں کو ایک شخص کے بدلے میں قصاصاً قتل کیا، جس کو انہوں نے دھوکے سے قتل کر دیا تھا اور فرمایا: اگر تمام اہل صنعاء اس کے قتل میں شریک ہوتے تو میں سب کو قتل کر دیتا۔