کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: لونڈی کی کمائی کی ممانعت کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان جب کہ وہ کسی مستقل معلوم کام پر مقرر نہ ہو۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ كَسْبِ الْأَمَةِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ لَهَا عَمَلٌ وَاصِبٌ، أَوْ كَسْبٌ يُعْرَفُ وَجْهُهُ. وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، عَنِ الزَّنْجِيِّ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ حَرَامِ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرٍ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”لونڈی کی کمائی سے منع فرمایا ہے، ہاں اگر اس کا کوئی مستقل کام ہو یا ایسی کمائی ہو جس کا ذریعہ معلوم ہو تو جائز ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النفقات / حدیث: 15784
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره»
أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِيُّ، وَأَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، قَالَا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الصِّبْغِيُّ، ثنا ⦗١٥⦘ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ: " لَا تُكَلِّفُوا الصَّغِيرَ الْكَسْبَ؛ فَإِنَّكُمْ مَتَى كَلَّفْتُمُوهُ الْكَسْبَ سَرَقَ، وَلَا تُكَلِّفُوا الْأَمَةَ غَيْرَ ذَاتِ الصَّنْعَةِ الْكَسْبَ؛ فَإِنَّكُمْ مَتَى كَلَّفْتُمُوهَا الْكَسْبَ كَسَبَتْ بِفَرْجِهَا لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ، زَادَ ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ فِي رِوَايَتِهِ " وَأَعِفُّوا إِذْ أَعَفَّكُمُ اللهُ، وَعَلَيْكُمْ مِنَ الْمَطَاعِمِ مَا طَابَ مِنْهَا ". رَفَعَهُ بَعْضُهُمْ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، وَرَفْعُهُ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابو سہیل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ ”بچوں کو کمائی کی تکلیف نہ دو؛ کیونکہ اگر تم انہیں تکلیف دو گے تو وہ چوری کریں گے اور ایسی لونڈی جو کوئی کام نہیں جانتی اسے کمائی پر نہ لگاؤ؛ کیونکہ وہ پھر اپنی فرج کی کمائی ہی سے لائے گی“ اور ابن ابی اویس کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ ”جب اللہ نے تمہیں پاک دامن رکھا ہے تو تم بھی (انہیں) پاک دامن رکھو اور کھانوں میں سے پاکیزہ (حلال) کو لازم پکڑو۔“
بعض راویوں نے اسے ثوری کی حدیث سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بیان کیا ہے، اور اس کا مرفوع ہونا ضعیف ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب النفقات / حدیث: 15785
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»