السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
باب: ما جاء في النهي عن كسب الأمة إذا لم تكن في عمل واصب باب: لونڈی کی کمائی کی ممانعت کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان جب کہ وہ کسی مستقل معلوم کام پر مقرر نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ كَامِلُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُسْتَمْلِيُّ، وَأَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، قَالَا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الصِّبْغِيُّ، ثنا ⦗١٥⦘ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ فِي خُطْبَتِهِ: " لَا تُكَلِّفُوا الصَّغِيرَ الْكَسْبَ؛ فَإِنَّكُمْ مَتَى كَلَّفْتُمُوهُ الْكَسْبَ سَرَقَ، وَلَا تُكَلِّفُوا الْأَمَةَ غَيْرَ ذَاتِ الصَّنْعَةِ الْكَسْبَ؛ فَإِنَّكُمْ مَتَى كَلَّفْتُمُوهَا الْكَسْبَ كَسَبَتْ بِفَرْجِهَا لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ، زَادَ ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ فِي رِوَايَتِهِ " وَأَعِفُّوا إِذْ أَعَفَّكُمُ اللهُ، وَعَلَيْكُمْ مِنَ الْمَطَاعِمِ مَا طَابَ مِنْهَا ". رَفَعَهُ بَعْضُهُمْ عَنْ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، وَرَفْعُهُ ضَعِيفٌ.ابو سہیل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ ”بچوں کو کمائی کی تکلیف نہ دو؛ کیونکہ اگر تم انہیں تکلیف دو گے تو وہ چوری کریں گے اور ایسی لونڈی جو کوئی کام نہیں جانتی اسے کمائی پر نہ لگاؤ؛ کیونکہ وہ پھر اپنی فرج کی کمائی ہی سے لائے گی“ اور ابن ابی اویس کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ ”جب اللہ نے تمہیں پاک دامن رکھا ہے تو تم بھی (انہیں) پاک دامن رکھو اور کھانوں میں سے پاکیزہ (حلال) کو لازم پکڑو۔“
بعض راویوں نے اسے ثوری کی حدیث سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بیان کیا ہے، اور اس کا مرفوع ہونا ضعیف ہے۔