کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: غلام کی رضامندی کے ساتھ اس پر کوئی مقررہ ٹیکس (مخارجہ) لگانے کا بیان بشرطیکہ وہ کمائی کرنے والا ہو۔
حدیث نمبر: 15786
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَسُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ، أَنَّ حُمَيْدًا الطَّوِيلَ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: حَجَمَ أَبُو طَيْبَةَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَعْطَاهُ صَاعَيْنِ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، وَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ حُمَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابو طیبہ نے آپ ﷺ کو سینگی لگائی تو آپ نے دو یا ایک صاع اسے کھجوریں دیں اور ان کے اہل کو حکم دیا کہ ”اس سے خراج لینے میں تخفیف کرو۔“
حدیث نمبر: 15787
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ الصَّيْرَفِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَّا يُقَالُ لَهُ نَهِيكُ بْنُ يَرِيمَ، حَدَّثَنِي مُغِيثُ بْنُ سُمَيٍّ، قَالَ: كَانَ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَلْفُ مَمْلُوكٍ يُؤَدِّي إِلَيْهِ الْخَرَاجَ فَلَا يُدْخِلُ بَيْتَهُ مِنْ خَرَاجِهِمْ شَيْئًا.
حافظ ثناء اللہ
مغیث بن سمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے ایک ہزار غلام تھے، جو انہیں اپنی کمائی سے دیا کرتے تھے، لیکن انہوں نے ان کی کمائی کو اپنے گھر میں داخل نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 15788
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ دِرْهَمٍ، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: ضَرَبَ عَلَيَّ مَوْلَايَ كُلَّ يَوْمٍ دِرْهَمًا، فَأَتَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَالَ: " اتَّقِ اللهَ، وَأَدِّ حَقَّ اللهِ وَحَقَّ مَوْلَاكَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ذئب، درہم سے جو عبدالرحمن کے مولیٰ ہیں روایت کرتے ہیں کہ میرے مولیٰ نے مجھ پر ہر روز کا ایک درہم مقرر کیا۔ میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو وہ فرمانے لگے: اللہ سے ڈر اور اپنے مولیٰ کا حق ادا کر۔