کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جب والدین الگ ہو جائیں اور وہ ایک ہی بستی میں ہوں، تو ماں اپنے بچے کی زیادہ حق دار ہے جب تک کہ وہ آگے نکاح نہ کرے اور بچے چھوٹے ہوں، پھر جب ان میں سے کوئی بچہ سات یا آٹھ سال کی عمر کو پہنچ جائے اور وہ سمجھدار ہو تو اسے ماں باپ کے درمیان اختیار دیا جائے گا، اور وہ جسے چنے گا اسی کے پاس رہے گا۔
حدیث نمبر: 15757
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: أَظُنُّهُ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَأنا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ غُلَامًا بَيْنَ أَبِيهِ وَأُمِّهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک لڑکے کو اس کی والدہ اور والد کے درمیان اختیار دیا۔
حدیث نمبر: 15758
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، أنبأ الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ أَبُو عَاصِمٍ، ح وَأنا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأَبُوعَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ، أَنَّ أَبَا مَيْمُونَةَ سُلَيْمًا مَوْلًى مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ رَجُلَ صِدْقٍ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ فَارِسِيَّةٌ مَعَهَا ابْنٌ لَهَا، فَادَّعَيَاهُ وَقَدْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا، فَقَالَتْ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ رَطَنَتْ بِالْفَارِسِيَّةِ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اسْتَهِمَا عَلَيْهِ وَرَطَنَ لَهَا بِذَلِكَ فَجَاءَ زَوْجُهَا، فَقَالَ: مَنْ يُحَاقُّنِي فِي وَلَدِي؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اللهُمَّ إِنِّي لَا أَقُولُ هَذَا، إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا قَاعِدٌ ⦗٥⦘ عِنْدَهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي، وَقَدْ سَقَانِي مِنْ بِئْرِ أَبِي عِنَبَةَ، وَقَدْ نَفَعَنِي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَهِمَا عَلَيْهِ " فَقَالَ زَوْجُهَا: مَنْ يُحَاقُّنِي فِي وَلَدِي؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَذَا أَبُوكَ، وَهَذِهِ أُمُّكَ، فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ " فَأَخَذَ بِيَدِ أُمِّهِ فَانْطَلَقَتْ بِهِ. لَفْظُ حَدِيثِ الرُّوذْبَارِيِّ، وَحَدِيثُ ابْنِ بِشْرَانَ أَقْصَرُ مِنْهُ، وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج فرماتے ہیں کہ مجھے ہلال بن اسامہ نے بیان کیا کہ ابو میمونہ سلیم جو اہل مدینہ کے مولیٰ ہیں اور ایک سچے انسان ہیں، فرماتے ہیں: میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک فارسی عورت آئی، اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا اور وہ مطلقہ تھی، وہ فارسی زبان میں کہنے لگی: اے ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ)! میرا خاوند مجھ سے میرا بچہ چھیننا چاہتا ہے، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: قرعہ اندازی کرلو، اتنے میں اس کا خاوند بھی آگیا اور کہنے لگا: کون میرے بچے کو روکنا چاہتا ہے؟ تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: یہ بات میں نے اپنی طرف سے نہیں کی بلکہ میں نبی ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت آئی اور کہنے لگی: ”یا رسول اللہ ﷺ! میرا خاوند مجھ سے میرا بچہ واپس لینا چاہتا ہے، اس نے مجھے نفع بھی پہنچایا ہے“ تو آپ ﷺ نے ان کے درمیان قرعہ کا فیصلہ فرمایا، تو اس کا والد کہنے لگا: میرے بچے کو کون روکے گا؟ تو آپ ﷺ نے بچے کو مخاطب کر کے فرمایا: ”یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں، جس کے ساتھ مرضی چلا جا“ تو بچے نے ماں کا ہاتھ تھام لیا اور وہ اسے لے گئی۔
یہ روذباری کے الفاظ ہیں اور جو ابن بشران کی حدیث ہے اس کے الفاظ کم ہیں لیکن معنیٰ یہی ہے۔
یہ روذباری کے الفاظ ہیں اور جو ابن بشران کی حدیث ہے اس کے الفاظ کم ہیں لیکن معنیٰ یہی ہے۔
حدیث نمبر: 15759
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ قَالَا: أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا، فَأَرَادَتْ أَنْ تَأْخُذَ وَلَدَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَهِمَا " فَقَالَ الرَّجُلُ: مَنْ يَحُولُ بَيْنِي وَبَيْنَ وَلَدِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلِابْنِ: " اخْتَرْ أَيَّهُمَا شِئْتَ " فَاخْتَارَ أُمَّهُ، فَذَهَبَتْ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی ﷺ کے پاس تشریف لائی جو مطلقہ تھی اور اس کا خاوند اس سے بچہ لینا چاہتا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قرعہ ڈال لو۔“ تو اس کا خاوند کہنے لگا: میرے اور میرے بچے کے درمیان کون حائل ہونا چاہتا ہے؟ تو آپ ﷺ نے بچے کو اختیار دیا تو وہ ماں کے ساتھ چلا گیا۔
حدیث نمبر: 15760
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ سِنَانٍ، أَنَّهُ أَسْلَمَ وَأَبَتِ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتِ: ابْنَتِي وَهِيَ فَطِيمٌ. وَقَالَ رَافِعٌ: ابْنَتِي. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَافِعٍ: " اقْعُدْ نَاحِيَةً " وَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: " اقْعُدِي نَاحِيَةً " قَالَ: وَأَقْعَدَ الصَّبِيَّةَ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ قَالَ: " ادْعُوَاهَا " فَمَالَتِ الصَّبِيَّةُ إِلَى أُمِّهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ اهْدِهَا ". فَمَالَتْ إِلَى أَبِيهَا، فَأَخَذَهَا رَافِعُ بْنُ سِنَانٍ، جَدُّ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ.
حافظ ثناء اللہ
رافع بن سنان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب یہ مسلمان ہو گئے تو ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کی بیوی نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی: یہ میرا بچہ جس کی مدتِ رضاعت ابھی پوری ہوئی ہے اور رافع رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ میرا بچہ ہے تو آپ ﷺ نے ایک طرف رافع رضی اللہ عنہ کو بٹھایا اور دوسری طرف ان کی بیوی کو اور بچے کو درمیان میں بٹھا دیا اور فرمایا: ”اب اسے اپنی طرف بلاؤ۔“ تو بچہ ماں کی طرف جانے لگا تو نبی ﷺ نے دعا کی: «اللَّهُمَّ اهْدِهِ» ”اے اللہ! اسے ہدایت دے۔“ تو وہ باپ کی طرف چلا گیا اور رافع رضی اللہ عنہ اسے لے گئے۔
رافع بن سنان رضی اللہ عنہ عبدالحمید بن جعفر کے دادا ہیں۔
رافع بن سنان رضی اللہ عنہ عبدالحمید بن جعفر کے دادا ہیں۔
حدیث نمبر: 15761
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْجَرْمِيِّ، عَنْ عُمَارَةَ الْجَرْمِيِّ، قَالَ: خَيَّرَنِي عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بَيْنَ أُمِّي، وَعَمِّي، ثُمَّ قَالَ لِأَخٍ لِي أَصْغَرَ مِنِّي: وَهَذَا أَيْضًا لَوْ قَدْ بَلَغَ مَبْلَغَ هَذَا لَخَيَّرْتُهُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِثْلَهُ. وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: وَكُنْتُ ابْنَ سَبْعٍ أَوْ ثَمَانِ سِنِينَ،.
حافظ ثناء اللہ
عمارہ جرمی فرماتے ہیں کہ مجھے میری والدہ اور چچا کے درمیان حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اختیار دیا تھا اور پھر میرے چھوٹے بھائی کے بارے میں فرمایا تھا کہ اگر اس کی بھی عمر ایسی ہوتی تو میں اسے بھی اختیار دیتا۔
حدیث نمبر: 15762
وَرَوَى الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ وَلَيْسَ ذَلِكَ فِي مَسْمُوعِنَا، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ ⦗٧⦘ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَيَّرَ غُلَامًا بَيْنَ أَبِيهِ وَأُمِّهِ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابراہیم نے فرمایا کہ یونس نے عمارہ سے اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں اور ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اس وقت میں سات یا آٹھ برس کا تھا۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بھی ایک بچے کو اختیار دیا تھا کہ وہ ماں یا باپ میں سے جس کو مرضی چن لے۔