کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: والدین میں سے حسنِ سلوک کا زیادہ حق دار کون ہے اس کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ، بِالْكُوفَةِ، ثنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شُبْرُمَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ النَّاسِ أَحَقُّ مِنِّي بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ؟ قَالَ: " أُمُّكَ " قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ أُمُّكَ " قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ أُمُّكَ " قَالَ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ أَبُوكَ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ شُبْرُمَةَ.
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے حسن سلوک کا لوگوں میں سے زیادہ حق دار کون ہے؟ فرمایا: ”تیری والدہ۔“ پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: ”پھر تیری والدہ۔“ پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: ”تیری والدہ۔“ پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: ”پھر تیرا والد۔“ ان دونوں نے اس کو صحیح میں ابن شبرمہ کی حدیث سے نقل کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْكَجِّيُّ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، ثنا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ أَبِرُّ؟ قَالَ: " أُمَّكَ " قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ ⦗٤⦘ أُمَّكَ " قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ أُمَّكَ " قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: " ثُمَّ أَبَاكَ، ثُمَّ الْأَقْرَبَ فَالْأَقْرَبَ ".
حافظ ثناء اللہ
بہز بن حکیم اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں کس کے ساتھ زیادہ نیکی کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی والدہ سے۔“ میں نے کہا: پھر کون؟ فرمایا: ”تیری والدہ۔“ میں نے کہا: پھر کون؟ فرمایا: ”تیری والدہ۔“ میں نے کہا: پھر کون؟ فرمایا: ”تیرا والد، پھر ترتیب کے ساتھ قریب والا۔“