کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ماں کے نکاح کر لینے سے بچے کی پرورش (حضانت) کا حق ساقط ہو کر اس کی نانی کی طرف منتقل ہو جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15763
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي أَبُو عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ ابْنِي هَذَا كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَاءً، وَثَدْيِي لَهُ سِقَاءً، وَحِجْرِي لَهُ حِوَاءً، وَإِنَّ أَبَاهُ طَلَّقَنِي، وَأَرَادَ أَنْ يَنْزِعَهُ مِنِّي، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَنْكِحِي ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت کہنے لگی: یا رسول اللہ ﷺ! میرا یہ بیٹا ہے، میرا پیٹ اس کے لیے برتن تھا، میرا سینہ اس کے لیے پینا تھا اور میری گود اس کے لیے پناہ گاہ ہے۔ اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے اور وہ اسے مجھ سے لینا چاہتا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تک تو دوسرا نکاح نہ کر لے، تب تک تو ہی اس کی زیادہ حق دار ہے۔“
حدیث نمبر: 15764
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الرَّفَّاءُ الْبَغْدَادِيُّ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، وَعِيسَى بْنُ مِينَا، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَنَّهُمْ كَانُوا يَقُولُونَ: قَضَى أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا لِجَدَّةِ ابْنِهِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بِحَضَانَتِهِ حَتَّى يَبْلُغَ، وَأُمُّ عَاصِمٍ يَوْمَئِذٍ حَيَّةٌ مُتَزَوِّجَةٌ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی الزناد اپنے والد سے اور وہ مدینہ کے اولی الامر فقہاء سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عاصم بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور عاصم کی نانی کے درمیان فیصلہ فرمایا اور نانی کے حق میں فیصلہ دیا کہ جب تک عاصم بالغ نہ ہو جائیں؛ اور ام عاصم اس وقت زندہ تھیں اور وہ شادی شدہ تھیں۔
حدیث نمبر: 15765
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: كَانَتْ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَوَلَدَتْ لَهُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ، ثُمَّ فَارَقَهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَرَكِبَ يَوْمًا إِلَى قُبَاءَ، فَوَجَدَ ابْنَهُ يَلْعَبُ بِفِنَاءِ الْمَسْجِدِ، فَأَخَذَ بِعَضُدِهِ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ عَلَى الدَّابَّةِ، فَأَدْرَكَتْهُ جَدَّةُ الْغُلَامِ فَنَازَعَتْهُ إِيَّاهُ، فَأَقْبَلَا حَتَّى أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ عُمَرُ: ابْنِي. وَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: ابْنِي. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: خَلِّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ. فَمَا رَاجَعَهُ عُمَرُ الْكَلَامَ.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں ایک انصاری عورت تھی اور ان سے عاصم بن عمر رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق دے دی تھی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ایک دن سواری پر قباء گئے تو عاصم رضی اللہ عنہ کو مسجد کے صحن میں کھیلتے دیکھا تو بازو سے پکڑ کر سواری پر بٹھا لیا اور چل پڑے۔ بچے کی نانی نے دیکھ لیا اور بچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے لے لیا۔ وہ دونوں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”میرا بیٹا ہے۔“ عورت کہنے لگی: ”میرا بیٹا ہے۔“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”اے عمر! ان کا راستہ چھوڑ دے۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کوئی بات نہ کی۔
حدیث نمبر: 15766
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْمَحْمُودِيُّ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُوسَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّ عُمَرَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، طَلَّقَ أُمَّ عَاصِمٍ، فَكَانَ فِي حِجْرِ جَدَّتِهِ، فَخَاصَمْتُهُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَضَى أَنْ يَكُونَ الْوَلَدُ مَعَ جَدَّتِهِ، وَالنَّفَقَةُ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَقَالَ: هِيَ أَحَقُّ بِهِ.
حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ام عاصم رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دی اور عاصم اپنی نانی کی گود میں تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور وہ عورت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس فیصلہ لائے، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فیصلہ فرمایا کہ بچہ نانی کے ساتھ رہے گا اور خرچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ دیں گے اور فرمایا کہ یہ بچے کی زیادہ حق دار ہے۔
حدیث نمبر: 15767
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ، أنبأ ابْنُ شُعَيْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، مَوْلَى غُفْرَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ خَاصَمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ابْنِهِ، فَقَضَى بِهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِأُمِّهِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تُولَهْ وَالِدَةٌ عَنْ وَلَدِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسحاق بن جاریہ انصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اپنے بچے کا فیصلہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس لائے تو آپ نے ماں کے حق میں فیصلہ دیا اور پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ ”بچے کو اس کی ماں سے جدا نہ کرو۔“