أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّعِيرِيُّ، نا مَحْمَشُ بْنُ عِصَامٍ، نا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكًا فَمَرَّ بِنَا شَابٌّ نَشِيطٌ يَسُوقُ غُنَيْمَةً لَهُ فَقُلْنَا: لَوْ كَانَ شَبَابُ هَذَا وَنَشَاطُهُ فِي سَبِيلِ اللهِ كَانَ خَيْرًا لَهُ مِنْهَا فَانْتَهَى قَوْلُنَا حَتَّى بَلَغَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَا قُلْتُمْ؟ " قُلْنَا: كَذَا وَكَذَا قَالَ: " أَمَا إِنَّهُ إِنْ كَانَ يَسْعَى عَلَى وَالِدَيْهِ أَوْ أَحَدِهِمَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَإِنْ كَانَ يَسْعَى عَلَى عِيَالٍ يَكْفِيهِمْ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَإِنْ كَانَ يَسْعَى عَلَى نَفْسِهِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے نبی ﷺ کے ساتھ (مل کر) غزوہ تبوک لڑا، ہمارے پاس سے ایک پھرتیلا نوجوان گزرا، اس کے ساتھ اس کی بکریاں تھیں۔ ہم نے کہا: کاش اس کی جوانی اور اس کی بہادری اللہ کے راستے میں ہوتی، یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہوتا۔ ہماری بات ختم ہوئی، وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے کیا کہا؟“ ہم نے کہا: ہم نے اس طرح اس طرح کہا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر یہ اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک (کی خدمت) پر کوشش کرتا ہے تو یہ اللہ کے راستے میں ہے؛ اگر یہ اپنے اہل و عیال کی کفالت کے لیے کوشش کرتا ہے تو یہ اللہ کے راستے میں ہے؛ اگر یہ اپنے نفس پر (اپنی ضروریات پوری کرنے کی) کوشش کرتا ہے تو یہ اللہ کے راستے میں ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، نا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، نا عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ، نا شَرِيكٌ، عَنْ مَغْرَاءَ الْعَبْدِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: مَرَّ بِهِمْ رَجُلٌ فَتَعَجَّبُوا مِنْ خَلْقِهِ فَقَالُوا: لَوْ كَانَ هَذَا فِي سَبِيلِ اللهِ فَأَتَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ كَانَ يَسْعَى عَلَى أَبَوَيْهِ شَيْخَيْنِ كَبِيرَيْنِ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَإِنْ كَانَ يَسْعَى عَلَى وَلَدٍ صِغَارٍ فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ، وَإِنْ كَانَ يَسْعَى عَلَى نَفْسِهِ لِيُغْنِيَهَا فَهُوَ فِي سَبِيلِ اللهِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے پاس سے ایک آدمی گزرا، انہوں نے اس کی کامل ساخت پر تعجب کیا۔ انہوں نے کہا: کاش! یہ اللہ کے راستے میں ہوتا۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئے، نبی ﷺ نے فرمایا: ”اگر یہ اپنے بوڑھے ماں باپ کی خدمت کرتا ہے تو وہ اللہ کے راستے میں ہے اور اگر یہ اپنے چھوٹے بچے پر کوشش کرتا ہے تو یہ اللہ کے راستے میں ہے۔ اگر یہ اپنے نفس پر کوشش کرتا ہے اس کو غنی کرنے کے لیے تو یہ اللہ کے راستے میں ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمَّتِهِ أَنَّهَا ⦗٧٨٧⦘ سَأَلَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي حِجْرِي يَتِيمٌ فَآكُلُ مِنْ مَالِهِ، فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْ أَطْيَبِ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ وَوَلَدُهُ مِنْ كَسْبِهِ " وَقَدْ قِيلَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
عمارہ بن عمیر رحمہ اللہ اپنی پھوپھی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ میری گود میں (یتیم) بچہ ہے، کیا میں اس کے مال سے کھا سکتی ہوں؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے زیادہ پاکیزہ چیز جو آدمی کھاتا ہے وہ اس کی اپنی کمائی ہے اور اس کا بچہ (بھی) اس کی کمائی ہی میں سے ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَلَدُ الرَّجُلِ مِنْ كَسْبِهِ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِهِ فَكُلُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ " قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ رَحِمَهُ اللهُ وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَزَادَ فِيهِ إِذَا احْتَجْتُمْ إِلَيْهِ وَهُوَ مُنْكَرٌ قَالَهُ أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ.
حافظ ثناء اللہ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی کا بیٹا اس کی کمائی میں سے ہے، اس کی زیادہ پاکیزہ کمائی میں سے ہے، تم ان کے مالوں میں سے کھاؤ۔“
اسے حماد بن ابی سلیمان نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے اور اس میں ”جب تمہیں اس کی ضرورت ہو“ کا اضافہ کیا ہے، اور یہ (اضافہ) منکر ہے، یہ بات ابو داود سجستانی نے کہی ہے۔
اسے حماد بن ابی سلیمان نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے اور اس میں ”جب تمہیں اس کی ضرورت ہو“ کا اضافہ کیا ہے، اور یہ (اضافہ) منکر ہے، یہ بات ابو داود سجستانی نے کہی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودٍ الْحَافِظُ بِمَرْوَ، نا حَمَّادُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: أنا أَبُو حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَوْلَادَكُمْ هِبَةُ اللهِ لَكُمْ {يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ} [الشورى: ٤٩] فَهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ لَكُمْ إِذَا احْتَجْتُمْ إِلَيْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری اولادیں تمہارے لیے اللہ کا عطیہ ہیں، ﴿يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ﴾ [سورة الشورى: 49] ”اللہ جس کو وہ چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جس کو وہ چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے“، وہ تمہاری اولاد ہیں اور ان کے مال تمہارے لیے ہیں جب تم اس کی طرف محتاج ہو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجَرَّاحِيُّ بِمَرْوَ، نا يَحْيَى بْنُ سَاسَوَيْهِ، نا عَبْدُ الْكَرِيمِ السُّكَّرِيُّ، نا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْمُبَارَكِ عَنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " فَهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ لَكُمْ إِذَا احْتَجْتُمْ إِلَيْهَا " فَقَالَ: حَدَّثَنِي بِهِ سُفْيَانُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَ سُفْيَانُ: وَهَذَا وَهْمٌ مِنْ حَمَّادٍ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: سَأَلْتُ أَصْحَابَ سُفْيَانَ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَحْفَظُوا قَالَ عَبْدُ اللهِ: وَهَذَا مِنْ حَدِيثِهِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ لَيْسَ فِيهِ الْأَسْوَدُ وَلَيْسَ فِيهِ إِذَا احْتَجْتُمْ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا دُونَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ وَهُوَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرُ مَحْفُوظٍ.
حافظ ثناء اللہ
سفیان بن عبدالملک فرماتے ہیں: میں نے عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ”وہ اور ان کے مال تمہارے ہیں جب تم ان کی طرف محتاج ہو“ کے متعلق پوچھا تو انھوں نے فرمایا: مجھے یہ حدیث سفیان نے حماد عن ابراہیم عن اسود عن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی سند سے بیان کی، سفیان نے کہا: یہ حماد کا وہم ہے۔ عبداللہ کہتے ہیں: میں نے سفیان کے شاگردوں سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے اسے یاد نہیں رکھا تھا۔ عبداللہ کہتے ہیں: اس کی حدیث عمارہ بن عمیر سے ہے، اس میں اسود نہیں ہے اور اس میں یہ الفاظ بھی نہیں ہیں کہ جب تم محتاج ہو۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اعمش سے روایت کیا گیا، وہ ابراہیم سے اور وہ اسود سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس لفظ کے علاوہ بیان فرماتے ہیں، یہ ان اسناد کے ساتھ محفوظ نہیں ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اعمش سے روایت کیا گیا، وہ ابراہیم سے اور وہ اسود سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس لفظ کے علاوہ بیان فرماتے ہیں، یہ ان اسناد کے ساتھ محفوظ نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا الْإِمَامُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَزْمَوَيْهِ، نا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ⦗٧٨٨⦘ أنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلَ الرَّجُلُ مِنْ كَسْبِهِ وَوَلَدُهُ مِنْ كَسْبِهِ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ وَاللهُ أَعْلَمُ وَرُوِيَ عَنْ مَطَرٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ شُرَيْحٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ.
حافظ ثناء اللہ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زیادہ پاکیزہ چیز جو آدمی کھاتا ہے وہ اس کی کمائی ہے اور اس کی اولاد اس کی کمائی ہے۔“ اسی طرح اس کو یعلیٰ بن عبید نے اعمش سے روایت کیا ہے۔
یہ مطر عن الحکم عن ابراہیم عن شریح عن عائشہ رضی اللہ عنہا عن النبی ﷺ کی سند سے بھی روایت کیا گیا ہے، لیکن وہ محفوظ نہیں ہے۔
یہ مطر عن الحکم عن ابراہیم عن شریح عن عائشہ رضی اللہ عنہا عن النبی ﷺ کی سند سے بھی روایت کیا گیا ہے، لیکن وہ محفوظ نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْخُرَاسَانِيِّ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أَبِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي قَالَ: " أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ، إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ فَكُلُوهُ هَنِيئًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اس نے کہا: ”میرا باپ میرے مال کو لینا چاہتا ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے اور زیادہ پاک جو تم کھاتے ہو تمہاری کمائی ہے، تم اس کو آسانی کے ساتھ کھاؤ۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، نا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا وَإِنَّ وَالِدِي يُرِيدُ أَنْ يَجْتَاحَ مَالِي، فَقَالَ: " أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: میرا مال بھی ہے اور میری اولاد بھی ہے اور میرا والد میرا مال لینا چاہتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے۔ تمہاری اولاد تمہاری سب سے زیادہ پاکیزہ کمائی ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، نا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي مَالًا وَوَلَدًا وَإِنَّ وَالِدِي يَجْتَاحُ مَالِي قَالَ: " أَنْتَ وَمَالُكَ لِوَالِدِكَ إِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِكُمْ فَكُلُوا مِنْ كَسْبِ أَوْلَادِكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
یزید بن زریع نے اپنی سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ نبی ﷺ کے پاس ایک دیہاتی آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا بیٹا ہے اور میرا مال بھی ہے اور میرا والد میرے مال کو لینا چاہتا ہے۔ فرمایا: ”تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے۔ تمہاری اولاد تمہاری زیادہ پاکیزہ کمائی ہے۔ تم اپنی اولاد کی کمائی میں سے کھاؤ۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ لِي مَالًا وَعِيَالًا وَإِنَّ لِأَبِي مَالًا وَعِيَالًا يُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَ مَالِي فُيُطْعِمَهُ عِيَالَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ " هَذَا مُنْقَطِعٌ وَقَدْ رُوِيَ مَوْصُولًا مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ وَلَا يَثْبُتُ مِثْلُهَا ⦗٧٨٩⦘.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن منکدر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی طرف آیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا مال ہے اور میرے اہل و عیال ہیں اور میرے والد کا بھی مال ہے اور اس کے اہل و عیال بھی ہیں، وہ میرا مال لینا چاہتا ہے کہ وہ اس کو اپنے اہل و عیال کو کھلائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔“ یہ منقطع ہے اور دوسری سند سے یہ موصول بھی روایت کی گئی ہے اور اس کی مثل ثابت نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، نا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَمَّالُ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، حَدَّثَنِي الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَذَكَرَهُ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ مَالَ الْوَلَدِ لِأَبِيهِ احْتَجَّ بِظَاهِرِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَمَنْ زَعَمَ أَنَّ لَهُ مِنْ مَالِهِ مَا يَكْفِيهِ إِذَا احْتَاجَ إِلَيْهِ فَإِذَا اسْتَغْنَى عَنْهُ لَمْ يَكُنْ لِلْأَبِ مِنْ مَالِهِ شَيْءٌ، احْتَجَّ بِالْأَخْبَارِ الَّتِي وَرَدَتْ فِي تَحْرِيمِ مَالِ الْغَيْرِ، وَأَنَّهُ لَوْ مَاتَ وَلَهُ ابْنٌ لَمْ يَكُنْ لِلْأَبِ مِنْ مَالِهِ إِلَّا السُّدُسُ، وَلَوْ كَانَ أَبُوهُ يَمْلِكُ مَالَ ابْنِهِ لَحَازَهُ كُلَّهُ.
حافظ ثناء اللہ
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ!۔۔۔ اس کو ذکر کیا۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس کا خیال ہے کہ بیٹے کا مال اس کے والد کا ہے، اس نے حدیث کے ظاہر کو دلیل بنایا ہے اور جس کا خیال ہے کہ اس کا اتنا مال لینا جائز ہے جو اسے کافی ہو جائے، جب وہ اس کا محتاج ہو اور جب وہ غنی (مال دار) ہو جائے تو باپ کے لیے اس کے مال میں سے کوئی چیز لینا جائز نہیں۔ دلیل وہ احادیث و اخبار ہیں جو غیر کا مال لینے کی حرمت کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔ اگر وہ (یعنی بیٹا) فوت ہو جائے اور اس کا بیٹا بھی ہو تو والد کو اس کے مال سے چھٹا حصہ ملے گا اور اگر اس کا باپ بیٹے کے مال کا مالک ہو تو وہ تمام کے تمام مال کا وارث ہو گا۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس کا خیال ہے کہ بیٹے کا مال اس کے والد کا ہے، اس نے حدیث کے ظاہر کو دلیل بنایا ہے اور جس کا خیال ہے کہ اس کا اتنا مال لینا جائز ہے جو اسے کافی ہو جائے، جب وہ اس کا محتاج ہو اور جب وہ غنی (مال دار) ہو جائے تو باپ کے لیے اس کے مال میں سے کوئی چیز لینا جائز نہیں۔ دلیل وہ احادیث و اخبار ہیں جو غیر کا مال لینے کی حرمت کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔ اگر وہ (یعنی بیٹا) فوت ہو جائے اور اس کا بیٹا بھی ہو تو والد کو اس کے مال سے چھٹا حصہ ملے گا اور اگر اس کا باپ بیٹے کے مال کا مالک ہو تو وہ تمام کے تمام مال کا وارث ہو گا۔
وَيُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " كُلُّ أَحَدٍ أَحَقُّ بِمَالِهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، نا هُشَيْمٌ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى، عَنْ حِبَّانَ بْنِ أَبِي جَبَلَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
نبی کریم ﷺ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر ایک اپنے مال کا اپنے والد اور بیٹے اور تمام لوگوں سے زیادہ حق دار ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنا الْفَيْضُ بْنُ وَثِيقٍ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ زِيَادٍ الطَّائِيِّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: حَضَرْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ، هَذَا يُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَ مَالِي كُلَّهُ وَيَجْتَاحَهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّمَا لَكَ مِنْ مَالِهِ مَا يَكْفِيكَ "، فَقَالَ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَيْسَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ " فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " ارْضَ بِمَا رَضِيَ اللهُ بِهِ " وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ زِيَادٍ، وَقَالَ فِيهِ: إِنَّمَا يَعْنِي بِذَلِكَ النَّفَقَةَ، وَالْمُنْذِرُ بْنُ زِيَادٍ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
قیس بن حازم سے روایت ہے کہ میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا، آپ سے ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول کے خلیفہ! یہ ارادہ کرتا ہے کہ میرا سارا مال لے لے، اور اس کو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے مال سے تیرے لیے اتنا ہے جو تجھے کافی ہو جائے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ کے خلیفہ! کیا رسول اللہ ﷺ نے نہیں فرمایا: ”تو اور تیرا مال تیرے والد کا ہے“؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو اس کے ساتھ راضی ہو جا جو اللہ نے تیرے لیے پسند کیا ہے۔
دوسرے راویوں نے اسے منذر بن زیاد سے روایت کیا ہے اور اس میں کہا: اس سے مراد صرف نفقہ (خرچہ) ہے۔ اور منذر بن زیاد ضعیف ہے۔
دوسرے راویوں نے اسے منذر بن زیاد سے روایت کیا ہے اور اس میں کہا: اس سے مراد صرف نفقہ (خرچہ) ہے۔ اور منذر بن زیاد ضعیف ہے۔