کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قریبی رشتہ داروں پر نفقہ کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: اولاد پر خرچ کرنے کا بیان۔
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ} [البقرة: 233] وَقَالَ: {فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ} [الطلاق: 6].
حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ﴾ ”اور مائیں اپنی اولاد کو پورے دو سال دودھ پلائیں، (یہ) اس کے لیے ہے جو دودھ پلانے کی مدت پوری کرنا چاہے، اور جس کا بچہ ہے (یعنی باپ) اس پر دستور کے مطابق ان (ماؤں) کا کھانا اور ان کا لباس لازم ہے۔“ [سورة البقرة: 233]
اور فرمایا: ﴿فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ﴾ ”پھر اگر وہ تمہارے لیے (بچے کو) دودھ پلائیں تو انہیں ان کی اجرت دو۔“ [سورة الطلاق: 6]
اور فرمایا: ﴿فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ﴾ ”پھر اگر وہ تمہارے لیے (بچے کو) دودھ پلائیں تو انہیں ان کی اجرت دو۔“ [سورة الطلاق: 6]
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مِهْرَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، نا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ هِنْدًا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِهِ شَيْئًا؟ قَالَ: " خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہند رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ابوسفیان رضی اللہ عنہ کنجوس آدمی ہے، کیا مجھ پر کوئی گناہ ہے اگر میں اس کے مال میں سے کچھ لے لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: «خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ» ”تو لے لے جو تجھے اور تیرے بچے کو کافی ہو جائے معروف انداز میں۔“ اس کو بخاری نے سفیان ثوری کی حدیث سے صحیح میں نکالا ہے اور اس کو مسلم نے دوسری سندوں سے ہشام بن عروہ سے نکالا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو مُسْلِمٍ الْبَصْرِيُّ، نا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَثَّ عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ ⦗٧٨٤⦘ عِنْدِي دِينَارٌ قَالَ: " أَنْفِقْهُ عَلَى نَفْسِكَ " قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ: " أَنْفِقْهُ عَلَى وَلَدِكَ " قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ: " أَنْفِقْهُ عَلَى زَوْجَتِكَ " قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ: " أَنْفِقْهُ عَلَى خَادِمِكَ " قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ: " أَنْتَ أَبْصَرُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ پر ابھارا۔ ایک آدمی آیا، اس نے کہا: میرے پاس ایک دینار ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے آپ پر خرچ کر۔“ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے بچے پر خرچ کر۔“ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی بیوی پر خرچ کر۔“ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے خادم پر خرچ کر۔“ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو زیادہ دیکھنے والا ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو الْيَمَانِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارُ بِهَمَذَانَ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، نا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: جَاءَتْنِي امْرَأَةٌ وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا تَسْأَلُنِي فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَأَخَذَتْهَا فَشَقَّتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ وَابْنَتَيْهَا فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ ابْتُلِيَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.
حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہمیں عبداللہ بن ابوبکر نے خبر دی کہ انہیں عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے خبر دی کہ نبی ﷺ کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میرے پاس ایک عورت آئی اور اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں تھیں، اس نے مجھ سے سوال کیا، اس نے میرے پاس ایک کھجور کے علاوہ کوئی چیز نہ پائی، وہ میں نے اسے دے دی، اس نے وہ کھجور پکڑی اور اس کو پھاڑ کر اپنی دونوں بیٹیوں کو دے دیا اور اس میں سے اس نے کچھ بھی نہ کھایا، پھر وہ کھڑی ہوئی اور وہ اور اس کی بیٹیاں چلی گئیں، نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ ﷺ کو وہ واقعہ بیان کیا، نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی کسی چیز کے ساتھ بیٹیوں سے آزمایا گیا، پھر اس نے ان کے ساتھ نیکی کی، تو وہ اس کے لیے آگ سے آڑ ہوں گی۔“ اس کو بخاری نے ابوالیمان سے صحیح میں روایت کیا ہے اور اس کو مسلم نے عبداللہ بن عبدالرحمن اور ابوبکر بن اسحاق سے، انہوں نے ابوالیمان سے روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، نا أَبُو كُرَيْبٍ، نا أَبُو أُسَامَةَ، نا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ لِي أَجْرٌ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ؟ قَالَ: " نَعَمْ لَكِ فِيهِمْ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میرے لیے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے بیٹوں میں اجر ہے اگر میں ان پر خرچ کروں اور میں ان کو اس طرح اور اس طرح چھوڑنے والی نہیں ہوں، وہ میرے بھی بیٹے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، تیرے لیے ان میں اجر ہے جو تو ان پر خرچ کرے گی۔“ اس کو مسلم نے ابو کریب سے صحیح میں روایت کیا ہے اور اس کو بخاری نے ہشام سے ایک دوسری سند سے نکالا ہے۔