السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
جماع أبواب النفقة على الأقارب -- باب: النفقة على الأولاد باب: قریبی رشتہ داروں پر نفقہ کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: اولاد پر خرچ کرنے کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو الْيَمَانِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ قُرْقُوبٍ التَّمَّارُ بِهَمَذَانَ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، نا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: جَاءَتْنِي امْرَأَةٌ وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا تَسْأَلُنِي فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَأَخَذَتْهَا فَشَقَّتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ وَابْنَتَيْهَا فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ ابْتُلِيَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ.زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہمیں عبداللہ بن ابوبکر نے خبر دی کہ انہیں عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے خبر دی کہ نبی ﷺ کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میرے پاس ایک عورت آئی اور اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں تھیں، اس نے مجھ سے سوال کیا، اس نے میرے پاس ایک کھجور کے علاوہ کوئی چیز نہ پائی، وہ میں نے اسے دے دی، اس نے وہ کھجور پکڑی اور اس کو پھاڑ کر اپنی دونوں بیٹیوں کو دے دیا اور اس میں سے اس نے کچھ بھی نہ کھایا، پھر وہ کھڑی ہوئی اور وہ اور اس کی بیٹیاں چلی گئیں، نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ ﷺ کو وہ واقعہ بیان کیا، نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی کسی چیز کے ساتھ بیٹیوں سے آزمایا گیا، پھر اس نے ان کے ساتھ نیکی کی، تو وہ اس کے لیے آگ سے آڑ ہوں گی۔“ اس کو بخاری نے ابوالیمان سے صحیح میں روایت کیا ہے اور اس کو مسلم نے عبداللہ بن عبدالرحمن اور ابوبکر بن اسحاق سے، انہوں نے ابوالیمان سے روایت کیا ہے۔