السنن الكبرى للبيهقي
كتاب النفقات— نفقات کا بیان
جماع أبواب النفقة على الأقارب -- باب: النفقة على الأولاد باب: قریبی رشتہ داروں پر نفقہ کے ابواب کا جامع بیان۔ -- باب: اولاد پر خرچ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 15736
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، نا أَبُو كُرَيْبٍ، نا أَبُو أُسَامَةَ، نا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ ابْنَةِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ لِي أَجْرٌ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ؟ قَالَ: " نَعَمْ لَكِ فِيهِمْ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میرے لیے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے بیٹوں میں اجر ہے اگر میں ان پر خرچ کروں اور میں ان کو اس طرح اور اس طرح چھوڑنے والی نہیں ہوں، وہ میرے بھی بیٹے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، تیرے لیے ان میں اجر ہے جو تو ان پر خرچ کرے گی۔“ اس کو مسلم نے ابو کریب سے صحیح میں روایت کیا ہے اور اس کو بخاری نے ہشام سے ایک دوسری سند سے نکالا ہے۔