حدیث نمبر: 15688
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا} [النساء: 3] قَالَ الشَّافِعِيُّ: لَا يَكْثُرُ مَنْ تَعُولُوا إِذَا اقْتَصَرَ الْمَرْءُ عَلَى وَاحِدَةٍ وَإِنْ أَبَاحَ لَهُ أَكْثَرَ مِنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا﴾ ”تو عورتوں میں سے جو تمہیں پسند ہوں ان سے نکاح کرو، دو دو، تین تین اور چار چار، پھر اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم انصاف نہیں کر سکو گے تو ایک ہی (بیوی) یا جو تمہاری ملکیت میں ہوں، یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ تم (زیادہ عیال کے بوجھ تلے) نہ دبو۔“ [سورة النساء: 3]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”(یعنی) جب آدمی ایک ہی بیوی پر اکتفا کرے تو ان لوگوں کی تعداد زیادہ نہیں ہوگی جن کی تم کفالت کرتے ہو، اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اس سے زیادہ (بیویاں) مباح کی ہیں۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”(یعنی) جب آدمی ایک ہی بیوی پر اکتفا کرے تو ان لوگوں کی تعداد زیادہ نہیں ہوگی جن کی تم کفالت کرتے ہو، اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اس سے زیادہ (بیویاں) مباح کی ہیں۔“
حدیث نمبر: 15688
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْفَضْلِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ مَنْصُورَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ الثَّقَفِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عُمَرَ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الْوَاحِدِ غُلَامَ ثَعْلَبٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ ثَعْلَبًا، يَقُولُ فِي قَوْلِ الشَّافِعِيِّ: {ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا} [النساء: ٣] " أَيْ لَا يَكْثُرُ عِيَالُكُمْ " قَالَ: " أَحْسَنُ هُوَ لُغَةً ".
حافظ ثناء اللہ
ثعلب، امام شافعی رحمہ اللہ کے اس قول کے متعلق، جو اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا﴾ [سورة النساء: 3] کے بارے میں ہے کہ ”تمہاری اولاد یا عیال زیادہ نہ ہو“، فرماتے ہیں: ”یہ لغت کے اعتبار سے زیادہ اچھی ہے۔“
حدیث نمبر: 15689
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: نا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا أَبُو طَالِبٍ الْحَافِظُ أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، نا عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الصَّدَفِيُّ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي ⦗٧٦٧⦘ هِلَالٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا} [النساء: ٣] قَالَ: " " ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ لَا يَكْثُرَ مَنْ تَعُولُونَهُ " " وَالْحَدِيثُ فِي سَبَبِ نُزُولِ هَذِهِ الْآيَةِ قَدْ مَضَى فِي كِتَابِ النِّكَاحِ.
حافظ ثناء اللہ
زید بن اسلم رحمہ اللہ نے اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد ﴿ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَنْ لَّا تَعُوْلُوْا﴾ [سورة النساء: 3] کے بارے میں فرمایا: یہ زیادہ بہتر ہے وہ زیادہ نہ ہوں جن کی تمہارے ذمہ دیکھ بھال ہے اور اس آیت کے سببِ نزول کی حدیث کتاب النکاح میں گزر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 15690
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ هِنْدًا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ آخُذَ مِنْ مَالِهِ قَالَ: " خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ.
حافظ ثناء اللہ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہندہ نے نبی ﷺ سے کہا کہ ابوسفیان کنجوس آدمی ہے، کیا میرے اوپر اس کے مال سے کچھ لینے میں کوئی حرج ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو لے لے جو دستور کے مطابق تیرے اور تیری اولاد کے لیے کافی ہو جائے۔“
اس کو امام بخاری نے محمد بن کثیر سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
اس کو امام بخاری نے محمد بن کثیر سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 15691
حَدَّثَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ رَحِمَهُ اللهُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدِ بْنِ أَحْمَدَ السُّلَمِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، نا أَبُو عَاصِمٍ النَّبِيلُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَثَّ عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: عِنْدِي دِينَارٌ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ عِنْدِي دِينَارٌ قَالَ: " أَنْفِقْهُ عَلَى نَفْسِكَ " قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ: " أَنْفِقْهُ عَلَى وَلَدِكَ " قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ: " أَنْفِقْهُ عَلَى أَهْلِكَ " وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَاصِمٍ عَلَى زَوْجَتِكَ قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ: أَنْفِقْهُ عَلَى خَادِمِكَ قَالَ: عِنْدِي آخَرُ قَالَ: أَنْتَ أَعْلَمُ وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَاصِمٍ أَنْتَ أَبْصَرُ، زَادَ سُفْيَانُ فِي رِوَايَتِهِ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ سَعِيدٌ: ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثَ " يَقُولُ وَلَدُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ إِلَى مَنْ تَكِلُنِي، تَقُولُ زَوْجَتُكَ: أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ طَلِّقْنِي، يَقُولُ خَادِمُكَ: إِلَى مَنْ تَكِلُنِي أَنْفِقْ عَلَيَّ أَوْ بِعْنِي ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ کرنے کی ترغیب دلائی۔ ایک شخص آیا اور عرض کیا: میرے پاس دینار ہے۔ تحویل سند، ہمیں حدیث بیان کی ابوبکر احمد بن حسن قاضی نے، ہمیں حدیث بیان کی ابو عباس اصم نے، ان کو خبر دی ربیع بن سلیمان نے، ان کو خبر دی شافعی رحمہ اللہ نے، ان کو خبر دی سفیان نے محمد بن عجلان سے، وہ سعید بن ابی سعید سے اور وہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی طرف آیا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے پاس دینار ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے اوپر خرچ کر۔“ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے بچے پر خرچ کر۔“ اس نے کہا: میرے پاس اور ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے اہل پر خرچ کر۔“ ابو عاصم کی حدیث میں ہے کہ: ”اپنی بیوی پر خرچ کر۔“ اس نے کہا: میرے پاس اور ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے خادم پر خرچ کر۔“ اس نے کہا: میرے پاس اور ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو زیادہ جانتا ہے (کہ کہاں خرچ کرے)۔“ اور ابو عاصم کی حدیث میں ہے: ”تو زیادہ دیکھنے والا ہے۔“ سفیان نے ابن عجلان سے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا ہے۔ سعید نے کہا: پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب وہ یہ بیان کرے اس کا بچہ کہے گا: تو مجھ پر خرچ کر، اس کی طرف تو نے مجھے جس کے سپرد کیا ہے؛ تیری بیوی کہتی ہے: تو مجھ پر خرچ کر یا مجھے طلاق دے دے؛ تیرا خادم کہتا ہے: جس طرف تو نے مجھے سپرد کیا ہے، تو مجھ پر خرچ کر یا مجھے فروخت کر دے۔
حدیث نمبر: 15692
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الزَّاهِدُ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَبْسِيُّ، أنا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ غِنًى وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بہتر صدقہ وہ ہے جو غنی ہونے کے بعد کیا جائے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور تو اس سے شروع کر جس کی تو دیکھ بھال کرتا ہے“ اور اس کو بخاری رحمہ اللہ نے اعمش کی حدیث سے صحیح میں نکالا ہے۔
حدیث نمبر: 15693
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ ⦗٧٦٨⦘ قَالَ: قُرِئَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْوَاسِطِيِّ وَأَنَا أَسْمَعُ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا بَهْزُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ نِسَاؤُنَا مَا نَأْتِي مِنْهَا أَمْ مَا نَذَرُ، قَالَ: " ائْتِ حَرْثَكَ أَنَّى شِئْتَ غَيْرَ أَنْ لَا تَضْرِبَ الْوَجْهَ وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ وَأَطْعِمْ إِذَا طَعِمْتَ وَاكْسُ إِذَا اكْتَسَيْتَ كَيْفَ وَقَدْ أَفْضَى بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ ".
حافظ ثناء اللہ
بہز بن حکیم بن معاویہ قشیری فرماتے ہیں: مجھے میرے والد نے اپنے والد (معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ) سے حدیث بیان کی کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہماری بیویاں ہیں، ہم ان کے پاس کیسے آئیں اور (انہیں) کیسے چھوڑیں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو آؤ، اس کے چہرے پر نہ مارو، اس کی بے عزتی نہ کرو اور اسے گھر کے علاوہ کہیں اور نہ چھوڑو، جو تم خود کھاؤ اسے بھی وہی کھلاؤ، جب تم پہنو اسے بھی وہی پہناؤ اور تمہارا ایک دوسرے کی طرف آنا کیسے ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 15694
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ جَابِرٍ، يَقُولُ: شَهِدْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَأَتَاهُ مَوْلًى لَهُ فَقَالَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أُقِيمَ هَذَا الشَّهْرَ هَاهُنَا يَعْنِي رَمَضَانَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: هَلْ تَرَكْتَ لِأَهْلِكَ مَا يَقُوتُهُمْ؟ فَقَالَ: لَا قَالَ: أَمَّا لَا فَارْجِعْ فَدَعْ لَهُمْ مَا يَقُوتُهُمْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابواسحاق سے روایت ہے کہ میں نے وہب بن جابر سے سنا، وہ کہتے ہیں: میں عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس بیت المقدس میں حاضر ہوا اور ان کے پاس ان کا غلام آیا، اس نے کہا: میرا ارادہ ہے کہ میں ماہِ رمضان یہاں پر قیام کروں۔ اس کو عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تو نے اپنے اہل کے لیے خوراک چھوڑی ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تو یہاں نہ رہ، لوٹ جا اور ان کے لیے خوراک کا انتظام کر، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے: ”آدمی کے لیے ہی گناہ کافی ہے کہ وہ ان کو ضائع کر دے جن کی وہ خوراک کا انتظام کرتا ہے۔“