حدیث نمبر: 15695
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ بِطُوسَ، نا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ بِالْبَصْرَةِ، نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانِسِيُّ، نا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، نا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، فَقُلْتُ: أَعَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الْمُسْلِمُ إِذَا أَنْفَقَ نَفَقَةً عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ يَحْتَسِبُهَا كُتِبَتْ لَهُ صَدَقَةً " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا: کیا نبی ﷺ سے؟ انہوں نے کہا: نبی ﷺ سے روایت ہے کہ ”مسلمان جب اپنے اہل پر مال خرچ کرتا ہے اور وہ اس کا احتساب کرتا ہے، تو وہ اس کے لیے صدقہ لکھ دیا جاتا ہے۔“ اس کو امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے اور امام مسلم رحمہ اللہ نے دوسری دو سندوں سے شعبہ سے اس کو نکالا ہے۔
حدیث نمبر: 15696
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ح قَالَ: وَأنبأ سُلَيْمَانُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، نا ابْنُ كَثِيرٍ، ح قَالَ: وَأَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا أَبُو نُعَيْمٍ قَالُوا: نا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُنِي وَأَنَا بِمَكَّةَ وَهُوَ يَكْرَهُ أَنْ يَمُوتَ أَحَدُنَا بِالْأَرْضِ الَّتِي هَاجَرَ مِنْهَا فَقَالَ: " يَرْحَمُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ ابْنَ عَفْرَاءَ " قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أُوصِي بِمَالِي كُلِّهِ قَالَ: " لَا " قُلْتُ: فَبِالشَّطْرِ قَالَ: " لَا " قُلْتُ: فَبِالثُّلُثِ قَالَ: " الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ كَثِيرٌ إِنَّكَ إِنْ تَدَعْ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَدَعَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ فِي أَيْدِيهِمْ وَإِنَّكَ مَهْمَا أَنْفَقْتَ عَلَى أَهْلِكَ مِنْ نَفَقَةٍ ⦗٧٦٩⦘ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ حَتَّى اللُّقْمَةَ تَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِكَ وَعَسَى الله عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَنْفَعَ بِكَ قَوْمًا وَيَضُرَّ بِكَ آخَرِينَ " وَلَمْ يَكُنْ لَهُ يَوْمَئِذٍ إِلَّا ابْنَةٌ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ كَثِيرٍ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ (میری عیادت کے لیے) آئے اور میں مکہ میں تھا اور آپ ﷺ ناپسند کرتے تھے کہ ہمارا کوئی شخص اسی زمین میں فوت ہو جس سے ہم نے ہجرت کی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «يَرْحَمُ اللَّهُ ابْنَ عَفْرَاءَ» ”اللہ تعالیٰ عفراء کے بیٹے پر رحم فرمائے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ”میں اپنے سارے مال کی وصیت کرنا چاہتا ہوں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ میں نے عرض کیا: ”ایک تہائی؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک تہائی بھی بہت زیادہ ہے، تو اپنے ورثا کو غنی چھوڑے، یہ اس سے بہتر ہے کہ تو انہیں فقیر کر کے چھوڑے اور وہ اپنے ہاتھوں کو لوگوں کے سامنے پھیلاتے رہیں۔ جو تو اپنے اہل پر خرچ کرتا ہے وہ صدقہ ہے یہاں تک کہ وہ لقمہ جو تو اپنی بیوی کے منہ کی طرف اٹھاتا ہے وہ بھی صدقہ ہے اور قریب ہے کہ اللہ تیرے ذریعے ایک قوم کو نفع دے اور دوسری قوم کو تیرے ذریعے تکلیف دے۔“ اور اس وقت ان کی صرف ایک ہی بیٹی تھی۔
اس کو بخاری نے ابو نعیم اور محمد بن کثیر سے صحیح میں روایت کیا ہے اور مسلم نے سفیان ثوری رحمہ اللہ کی ایک دوسری سند سے نکالا ہے۔
اس کو بخاری نے ابو نعیم اور محمد بن کثیر سے صحیح میں روایت کیا ہے اور مسلم نے سفیان ثوری رحمہ اللہ کی ایک دوسری سند سے نکالا ہے۔
حدیث نمبر: 15697
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، وَأَبُو الْمُثَنَّى، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبَّانَ، قَالُوا: نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، نا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا تَمَامٌ، نا أَبُو حُذَيْفَةَ، نا سُفْيَانُ، عَنْ مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دِينَارٌ أَعْطَيْتَهُ مِسْكِينًا وَدِينَارٌ أَعْطَيْتَهُ فِي رَقَبَةٍ وَدِينَارٌ أَعْطَيْتَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ قَالَ: الدِّينَارُ الَّذِي أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ أَعْظَمُ أَجْرًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک دینار تو مسکین کو دے اور ایک دینار گردن آزاد کروانے کے لیے دے اور ایک دینار تو نے اللہ کے راستے میں دیا اور ایک دینار تو نے اپنے اہل پر خرچ کیا ہے۔ وہ دینار جو تو نے اپنے اہل پر خرچ کیا ہے وہ اجر کے اعتبار سے زیادہ بڑا ہے۔“
اس کو مسلم نے سفیان ثوری کی حدیث سے صحیح میں روایت کیا ہے۔
اس کو مسلم نے سفیان ثوری کی حدیث سے صحیح میں روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 15698
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ إِمْلَاءً، أنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَعَارِمٌ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَمُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالُوا: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، نا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي سَبِيلِ اللهِ " قَالَ أَبُو قِلَابَةَ وَبَدَأَ بِالْعِيَالِ فَأِيُّ رَجُلٍ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ رَجُلٍ يُنْفِقُ عَلَى عِيَالٍ صِغَارٍ يَقُوتُهُمُ اللهُ وَيَنْفَعُهُمْ بِهِ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”افضل دینار جسے آدمی خرچ کرتا ہے، وہ دینار ہے جو وہ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، وہ دینار جسے آدمی اللہ کے راستے میں اپنے جانور پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار جسے آدمی اللہ کے راستے میں اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہے۔“ ابوقلابہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: آپ ﷺ نے اہل و عیال سے ابتدا کی ہے۔ کون سا آدمی ہے جو اپنے چھوٹے چھوٹے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ ان کو خوراک دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کو اس کے ذریعے نفع دیتا ہے۔ اسے امام مسلم رحمہ اللہ نے ابوربیع سے صحیح میں روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 15699
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ اللَّخْمِيُّ، نا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، نا الْفِرْيَابِيُّ، نا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي " وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا بہترین وہ ہے جو اپنے اہل کے لیے بہتر ہے اور میں اپنے اہل کے لیے بہتر ہوں“ اور اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔