کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک حرمت صرف پانچ مرتبہ دودھ پینے سے ثابت ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 15619
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ بِنَيْسَابُورَ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، وَأَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ، قَالُوا: أنا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ، نا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْوَلِيدِ الْأَزْرَقِيُّ، نا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، نا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حَجَّاجٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ قَالَا: نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: " كَانَ فِيمَا أَنْزَلَ اللهُ مِنَ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ ⦗٧٤٧⦘ فِيمَا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ " وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ يُوسُفَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں نازل فرمایا کہ «عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ» ”دس معلوم (گھونٹ)“، پھر یہ «خَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ» ”پانچ معلوم گھونٹوں“ والی آیت سے منسوخ کر دی گئی اور رسول اللہ ﷺ کی وفات کے وقت تک قرآن میں اس کی تلاوت کی جاتی تھی۔ ابن یوسف کی روایت میں ہے کہ ”پانچ معلوم گھونٹوں کے ساتھ وہ حرام ہوتی ہے“ اور مسلم نے اس کو یحییٰ بن یحییٰ سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
اس کو مسلم نے نکالا ہے۔
اس کو مسلم نے نکالا ہے۔
حدیث نمبر: 15620
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " أُنْزِلَ فِي الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ ثُمَّ تُرِكْنَ بَعْدُ بِخَمْسٍ أَوْ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
حافظ ثناء اللہ
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”قرآن میں دس معلوم گھونٹ والی آیت نازل کی گئی، پھر بعد میں پانچ کے ساتھ چھوڑ دی گئیں“ یا یہ فرمایا: ”پانچ معلوم رضاعات ترک کردی گئیں۔“ اس کو مسلم نے محمد بن مثنی سے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 15621
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ " نَزَلَ فِي الْقُرْآنِ عَشَرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ ثُمَّ صُيِّرْنَ إِلَى خَمْسٍ يُحَرِّمْنَ " وَكَانَ لَا يَدْخُلُ عَلَى عَائِشَةَ إِلَّا مَنِ اسْتَكْمَلَ خَمْسَ رَضَعَاتٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ قرآن میں دس معلوم گھونٹوں والی آیات نازل ہوئیں، وہ حرام کرتی تھیں، پھر پانچ معلوم گھونٹوں والی رہ گئیں، وہ حرام کرتی ہیں، اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس وہی داخل ہوتا تھا جس نے پانچ گھونٹوں کو مکمل کیا ہوتا تھا۔
حدیث نمبر: 15622
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ ⦗٧٤٨⦘ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَلَا الْمَصَّتَانِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک گھونٹ اور نہ ہی دو گھونٹ (رضاعت کو) حرام نہیں کرتے۔“ اسے امام مسلم رحمہ اللہ نے نکالا ہے۔
حدیث نمبر: 15623
أَخْبَرَنِي أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، فَذَكَرَهُ قَالَ الرَّبِيعُ: فَقُلْتُ لِلشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَسَمِعَ ابْنُ الزُّبَيْرِ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ وَحَفِظَ عَنْهُ وَكَانَ يَوْمَ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ تِسْعِ سِنِينَ، قَالَ الشَّيْخُ: هُوَ كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِلَّا أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنَّمَا أَخَذَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
ہمیں انس بن عیاض نے خبر دی، انہوں نے حدیث کو اسی طرح ذکر کیا۔
ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے کہا: کیا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں اور انہوں نے ان سے یاد کیا ہے اور وہ وہی دن تھا جس دن نبی ﷺ فوت ہوئے اور وہ نو سال کے لڑکے تھے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح جس طرح امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے مگر ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے۔
ربیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے کہا: کیا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں اور انہوں نے ان سے یاد کیا ہے اور وہ وہی دن تھا جس دن نبی ﷺ فوت ہوئے اور وہ نو سال کے لڑکے تھے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسی طرح جس طرح امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے مگر ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے۔
حدیث نمبر: 15624
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا أَبُو عُبَيْدٍ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن زبیر رضی اللہ عنہما عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ نبی ﷺ سے اسی کی مثل نقل فرماتی ہیں۔
حدیث نمبر: 15625
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، نا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا النُّفَيْلِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَالْمَصَّتَانِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرِهِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک دو گھونٹ حرمت کو ثابت نہیں کرتے۔“
اس کو مسلم نے اپنی صحیح میں زہیر بن حرب اور ان کے علاوہ اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ سے روایت کیا ہے۔
اس کو مسلم نے اپنی صحیح میں زہیر بن حرب اور ان کے علاوہ اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ سے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 15626
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ ⦗٧٤٩⦘ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَحَدُهُمَا: لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ "، وَقَالَ الْآخَرُ: لَا تُحَرِّمُ الْإِمْلَاجَةُ وَالْإِمْلَاجَتَانِ.
حافظ ثناء اللہ
ایوب، ابن ابی ملیکہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں، اور دوسری روایت ابن ابی ملیکہ، سیدنا (عبداللہ) بن زبیر رضی اللہ عنہما سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، ان دونوں میں سے ایک نے فرمایا: ”ایک گھونٹ نہ دو گھونٹ حرمت کو ثابت نہیں کرتے“ اور دوسرے نے کہا: ”حرمت کو ایک دو مرتبہ چوسنا ثابت نہیں کرتا۔“
حدیث نمبر: 15627
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، نا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَجَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: كَانَتْ عِنْدِي امْرَأَةٌ فَتَزَوَّجْتُ عَلَيْهَا امْرَأَةً أُخْرَى فَزَعَمَتِ امْرَأَتِي الْأُولَى أَنَّهَا أَرْضَعَتِ امْرَأَتِي الْحُدْثَى رَضْعَةً أَوْ رَضْعَتَيْنِ أَوْ إِمْلَاجَةً أَوْ إِمْلَاجَتَيْنِ فَقَالَ: " لَا تُحَرِّمُ الْإِمْلَاجَةُ وَالْإِمْلَاجَتَانِ " أَوْ قَالَ: " الرَّضْعَةُ وَالرَّضْعَتَانِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ میرے گھر میں تھے، ان کے پاس ایک دیہاتی آیا اور کہا: میرے پاس ایک بیوی تھی، میں نے دوسری شادی کرلی، میری پہلی بیوی کا گمان ہے کہ اس نے میری نئی بیوی کو ایک گھونٹ یا دو گھونٹ یا ایک چوسا یا دو چوسے (اپنا) دودھ پلایا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک چوسا یا دو چوسے“ یا فرمایا: ”ایک گھونٹ یا دو گھونٹ حرمت کو ثابت نہیں کرتے۔“
اس کو مسلم نے نکالا ہے۔
اس کو مسلم نے نکالا ہے۔
حدیث نمبر: 15628
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، نا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ: دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِي، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ إِنِّي كَانَتْ لِي امْرَأَةٌ فَتَزَوَّجْتُ عَلَيْهَا أُخْرَى فَزَعَمَتِ امْرَأَتِي الْأُولَى أَنَّهَا أَرْضَعَتِ امْرَأَتِي الْحُدْثَى رَضْعَةً أَوْ رَضْعَتَيْنِ فَقَالَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُحَرِّمُ الْإِمْلَاجَةُ وَالْإِمْلَاجَتَانِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن حارث ام الفضل رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی ﷺ کے پاس داخل ہوا اور آپ ﷺ میرے گھر میں تھے، اس نے کہا: اے اللہ کے نبی ﷺ! میری بیوی ہے، میں نے اس پر دوسری شادی کرلی، میری پہلی بیوی کا خیال ہے کہ اس نے میری نئی بیوی کو ایک مرتبہ یا دو مرتبہ دودھ پلایا ہے، اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”ایک چوسا یا دو چوسے حرمت کو ثابت نہیں کرتے۔“
اس کو مسلم نے یحییٰ بن یحییٰ سے روایت کیا ہے۔
اس کو مسلم نے یحییٰ بن یحییٰ سے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 15629
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا أَبُو الْبَخْتَرِيِّ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا أَبُو أُسَامَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حَدَّثَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ أَوِ الْمَصَّتَانِ أَوِ الرَّضْعَةُ أَوِ الرَّضْعَتَانِ " ⦗٧٥٠⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ وَحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”حرمت کو ایک یا دو گھونٹ یا ایک یا دو مرتبہ دودھ پینا ثابت نہیں کرتے۔“
اس کو مسلم نے ابن ابی عروبہ اور حماد بن سلمہ کی حدیث سے قتادہ سے اپنی صحیح میں نکالا ہے۔
اس کو مسلم نے ابن ابی عروبہ اور حماد بن سلمہ کی حدیث سے قتادہ سے اپنی صحیح میں نکالا ہے۔
حدیث نمبر: 15630
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا تَمْتَامٌ، نا أَبُو سَلَمَةَ، نا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَبَّانِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ مُثَنَّى، نا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ هَلْ تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ الْوَاحِدَةُ؟ قَالَ: " لَا " هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ هِشَامٍ وَقَالَ فِي رِوَايَةِ هَمَّامٍ: إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَصَّةِ الْوَاحِدَةِ هَلْ تُحَرِّمُ؟ قَالَ: " لَا "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُثَنَّى، وَأَخْرَجَهُ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هَمَّامٍ.
حافظ ثناء اللہ
ام فضل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بنی عامر بن صعصعہ کے ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا ایک مرتبہ دودھ پینا حرمت کو ثابت کرتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“
اس کو مسلم رحمہ اللہ نے محمد بن مثنی سے صحیح میں روایت کیا ہے اور ایک دوسری سند عن ہمام سے بھی اس کو نکالا ہے۔
اس کو مسلم رحمہ اللہ نے محمد بن مثنی سے صحیح میں روایت کیا ہے اور ایک دوسری سند عن ہمام سے بھی اس کو نکالا ہے۔
حدیث نمبر: 15631
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ أَنْ تُرْضِعَ سَالِمًا بِخَمْسِ رَضَعَاتٍ يَحْرُمُ بِلَبَنِهَا " فَفَعَلَتْ وَكَانَتْ تَرَاهُ ابْنًا وَهَذِهِ الْقِصَّةُ رَوَاهَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَرَوَاهَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، وَعُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ، عروہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی کو حکم دیا کہ: ”وہ سالم رضی اللہ عنہ کو پانچ گھونٹ دودھ پلائے پھر وہ حرام ہو جائے گا۔“ انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر وہ اس کو بیٹا سمجھتی تھیں اور اس قصے کو یونس بن یزید رحمہ اللہ نے زہری رحمہ اللہ سے، عروہ رحمہ اللہ سے، عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور اس کو شعیب بن ابو حمزہ رحمہ اللہ اور عقیل بن خالد رحمہ اللہ نے زہری رحمہ اللہ سے، عروہ رحمہ اللہ سے اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 15632
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَا: أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " لَا يَحْرُمُ دُونَ خَمْسِ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عروہ سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”پانچ معلوم گھونٹوں سے کم سے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔“
حدیث نمبر: 15633
أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْعَطَّارُ النَّيْسَابُورِيُّ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ الْأَخْرَمِ، نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَا: نا مُسَدَّدٌ، نا أَبُو الْأَحْوَصِ، نا أَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي رَجُلٌ قَاعِدٌ فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ قَالَ: " انْظُرْنَ إِخْوَانَكُنَّ مِنَ الرَّضَاعَةِ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ هَنَّادِ بْنِ السَّرِيِّ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ وَشُعْبَةَ عَنْ أَشْعَثَ.
حافظ ثناء اللہ
مسروق سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ مجھ پر رسول اللہ ﷺ داخل ہوئے اور میرے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا، یہ معاملہ آپ ﷺ پر بہت سخت ہو گیا اور میں نے غصے کو آپ ﷺ کے چہرے پر دیکھا۔ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! بیشک یہ میرا رضاعی بھائی ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم غور سے دیکھ لیا کرو اپنے بھائیوں کو رضاعت سے، رضاعت بھوک کو ختم کرنے سے ہے“۔ (یعنی دو سال کی عمر کے دوران پانچ بار پیٹ بھر کر دودھ پینا)۔ اس کو مسلم نے اپنی صحیح میں ہناد بن سری اور ابو احوص سے روایت کیا ہے اور اس کو ان دونوں نے ثوری اور شعبہ کی حدیث سے اشعث سے نکالا ہے۔
حدیث نمبر: 15634
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ، أَظُنُّهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ إِلَّا مَا فَتَقَ الْأَمْعَاءَ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَوْقُوفًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”رضاعت سے (نکاح) حرام نہیں ہوتا مگر وہی جو انتڑیوں کو بھر دے۔“
حدیث نمبر: 15635
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا جَرِيرٌ، ح قَالَ عَلِيٌّ، وَحَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْكَرْخِيُّ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، نا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ قَالَ: كَانَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ وَلَا يُحَرِّمُ إِلَّا مَا فَتَقَ الْأَمْعَاءَ " ⦗٧٥٢⦘ وَقَالَ عُثْمَانُ: لَا يُحَرِّمُ إِلَّا مَا فَتَقَ الْأَمْعَاءَ مِنَ اللَّبَنِ، وَرَوَاهُ الزُّهْرِيُّ، وَهِشَامٌ، عَنْ عُرْوَةَ مَوْقُوفًا عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ بِبَعْضِ مَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
حجاج بن حجاج ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رضاعت سے حرمت کو ایک گھونٹ اور دو گھونٹ ثابت نہیں کرتے اور رضاعت حرمت کو ثابت نہیں کرتی مگر جو انتڑیوں کو بھر دے۔“ اور عثمان نے کہا: ”نہیں حرام کرتی مگر جو دودھ انتڑیوں کو بھر دے۔“ اور اس کو زہری اور ہشام نے عروہ سے موقوف روایت کیا ہے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر اس کے ہم معنیٰ منقول ہے۔
حدیث نمبر: 15636
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، أنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ، نا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، نا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُحَرِّمُ الْفِيقَةُ " قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا الْفِيقَةُ؟ قَالَ: " الْمَرْأَةُ تَلِدُ فَتَحْصُرُ اللَّبَنَ فِي ثَدْيِهَا فَتُرْضِعُ لَهَا جَارَتَهَا الْمَزَّةَ وَالْمَزَّتَيْنِ ".
حافظ ثناء اللہ
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”«الْفَیْقَةُ» ”فیقہ“ حرام نہیں کرتا۔“ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! فیقہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”عورت بچہ جنے اور اس کے پستانوں میں دودھ آ جائے، پھر وہ اپنی ہمسائی کو ایک مرتبہ یا دو بار دودھ پلائے۔“
حدیث نمبر: 15637
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْبَغْدَادِيُّ، نا عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّغَانِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَا: قَرَأْنَا عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ: سُئِلَ سَالِمٌ عَنِ الرَّضْعَةِ تُحَرِّمُ؟ قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ " أَنَّ الرَّضْعَةَ وَالرَّضْعَتَيْنِ وَالثَّلَاثَ لَا تُحَرِّمُ ".
حافظ ثناء اللہ
حنظلہ بن ابی سفیان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سالم رحمہ اللہ سے رضاعت کے بارے میں سوال کیا گیا جو حرمت کو ثابت کرتی ہے تو انہوں نے فرمایا: ہمیں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ”ایک رضاعت یا دو رضاعتیں یا تین رضاعتیں حرام نہیں کرتیں۔“
اس قول ”اور تین رضاعتیں حرام نہیں کرتیں کے علاوہ“ صحیح ہے۔
اس قول ”اور تین رضاعتیں حرام نہیں کرتیں کے علاوہ“ صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 15638
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ بِهِ وَهُوَ يَرْضَعُ إِلَى أُخْتِهَا أُمِّ كُلْثُومٍ فَأَرْضَعَتْهُ ثَلَاثَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ مَرِضَتْ فَلَمْ تُرْضِعْهُ غَيْرَ ثَلَاثِ رَضَعَاتٍ فَلَمْ أَكُنْ أَدْخُلُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مِنْ أَجْلِ أَنَّ أُمَّ كُلْثُومٍ لَمْ تُكْمِلْ لِي عَشْرَ رَضَعَاتٍ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے، سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ نے انہیں خبر دی کہ نبی ﷺ کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو بھیجا اور وہ دودھ پیتا تھا اپنی بہن ام کلثوم رضی اللہ عنہا کی طرف۔ اس نے اس کو تین بار دودھ پلایا، پھر وہ بیمار ہو گئیں۔ اس نے اس کو تین رضاعتوں کے علاوہ دودھ نہیں پلایا۔ میں عائشہ رضی اللہ عنہا پر اس وجہ سے داخل نہیں ہوتا تھا کہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے میرے لیے یعنی میری دس رضاعتیں پوری نہیں کیں، یعنی دس بار دودھ نہیں پلایا۔
حدیث نمبر: 15639
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أَنَا الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ ⦗٧٥٣⦘ الشَّافِعِيُّ: أُمِرَتْ بِهِ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا يَرْضَعُ عَشْرًا لِأَنَّهَا أَكْثَرُ الرَّضَاعِ وَلَمْ تُتِمَّ لَهُ خَمْسًا فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا وَلَعَلَّ سَالِمًا أَنْ يَكُونَ ذَهَبَ عَلَيْهِ قَوْلُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي الْعَشْرِ الرَّضَعَاتِ فَنُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ.
حافظ ثناء اللہ
ہمیں ربیع نے خبر دی کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کے ساتھ حکم دیا کہ دس رضاعتیں کی جائیں، کیونکہ یہ اکثر رضاعتیں ہیں اور اس کے لیے پانچ مکمل نہیں کی گئیں، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر داخل نہیں ہوتے تھے اور شاید کہ سالم اسی کی طرف گئے ہیں اور دس رضاعات کے بارے میں عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے کہ وہ منسوخ کر دی گئیں پانچ معلوم کے ساتھ۔
حدیث نمبر: 15640
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا، وَأَبُو بَكْرٍ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ حَفْصَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا " أَرْسَلَتْ بِعَاصِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ إِلَى أُخْتِهَا فَاطِمَةَ بِنْتِ عُمَرَ تُرْضِعُهُ عَشْرَ رَضَعَاتٍ لِيَدْخُلَ عَلَيْهَا وَهُوَ صَغِيرٌ يَرْضَعُ فَفَعَلَتْ وَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ صفیہ بنت ابی عبید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عاصم بن عبداللہ بن سعد کو اپنی بہن سیدہ فاطمہ بنت عمر رضی اللہ عنہما کی طرف بھیجا کہ وہ اس کو دس رضاعتیں دودھ پلائے (یعنی دس بار) تاکہ وہ ان پر داخل ہو سکے۔ اور وہ چھوٹا تھا، دودھ پیتا، اس نے یہ کیا اور وہ ان پر داخل ہوتا تھا۔