کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: طلاق یافتہ عورت کے اپنے ہی گھر میں قیام پذیر رہنے کا بیان۔
❮
❯
قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي الْمُطَلَّقَاتِ {لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [الطلاق: 1].
حافظ ثناء اللہ
اللہ تبارک و تعالیٰ نے طلاق یافتہ عورتوں کے بارے میں فرمایا: ﴿لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ ”انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں، سوائے اس کے کہ وہ کسی کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں۔“ [سورة الطلاق: 1]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15479
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، نا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، نا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا فَأَرَدْتُ النُّقْلَةَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " انْتَقِلِي إِلَى بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " قَالَ إِسْحَاقُ: فَلَمَّا حَدَّثَ بِهِ الشَّعْبِيُّ حَصَبَهُ الْأَسْوَدُ وَقَالَ وَيْحَكَ تُحَدِّثُ أَوْ تُفْتِي بِمِثْلِ هَذَا قَدْ أَتَتْ عُمَرَ فَقَالَ: " إِنْ جِئْتِ بِشَاهِدَيْنِ يَشْهَدَانِ أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَّا لَمْ نَتْرُكْ كِتَابَ اللهِ بِقَوْلِ امْرَأَةٍ وَهُوَ قَوْلُ اللهِ {لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [الطلاق: ١] ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دے دیں، میں نے منتقل ہونے کا ارادہ کیا، میں نبی ﷺ کے پاس آئی، نبی ﷺ نے فرمایا: ”تو ابن ام مکتوم کے گھر منتقل ہو جا۔“ اسحاق کہتے ہیں: جب اس کو شعبی نے بیان کیا تو اسود نے اس کو کنکری ماری اور کہا: تیرے لیے ہلاکت ہو، تو بیان کرتا ہے یا فتویٰ دیتا ہے؟ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تو دو گواہ لائے اور وہ گواہی دیں کہ ان دونوں نے اس کو رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے، وگرنہ ہم اللہ کی کتاب کو ایک عورت کے قول کی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتے اور اللہ کا قول یہ ہے: ﴿لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة الطلاق: 1] ”تم ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں مگر یہ کہ وہ کسی واضح بے حیائی کا ارتکاب کریں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15479
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَ: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، ⦗٧٠٨⦘ أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَةَ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ كَانَتْ تَحْتَ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ فَطَلَّقَهَا الْبَتَّةَ فَخَرَجَتْ " فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا ابْنُ عُمَرَ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع سے روایت ہے کہ سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی بیٹی عبداللہ بن عمرو بن عثمان کے نکاح میں تھی، اس نے اس کو «الطَّلَاقُ الْبَتَّةُ» ”طلاقِ بتہ“ دے دی، وہ گھر سے نکل گئی، اس کے اس فعل کو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے برا سمجھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15480
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْوَلِيدِ، نا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، نا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، {إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [النساء: ١٩] قَالَ: " خُرُوجُهَا مِنْ بَيْتِهَا فَاحِشَةٌ مُبَيِّنَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ﴿إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة الطلاق: 1] کے بارے میں فرمایا: اس کا اپنے گھر سے نکلنا واضح بےحیائی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15481
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ أنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْعِرَاقِيُّ ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا جَاءَهُ فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي ثَلَاثًا وَهِيَ تُرِيدُ أَنْ تَخْرُجَ قَالَ: " احْبِسْهَا " قَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ قَالَ: " فَقَيِّدْهَا " فَقَالَ: لَا أَسْتَطِيعُ إِنَّ لَهَا إِخْوَةً غَلِيظَةٌ رِقَابُهُمْ، قَالَ: " اسْتَعْدِ عَلَيْهِمُ الْأَمِيرَ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص ان کے پاس آیا، اس نے کہا: میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں اور وہ چاہتی ہے کہ نکل جائے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کو روک۔ اس نے کہا: میں اس کی طاقت نہیں رکھتا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کو قید کر دو۔ اس نے کہا: میں اس کی طاقت بھی نہیں رکھتا، اس کے بھائی ہیں، ان کی موٹی موٹی گردنیں ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: تو امیر سے ان کے خلاف اس کو لوٹانے کی درخواست کر۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15482
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَبِإِسْنَادِهِ ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا تَرَى فِي امْرَأَةٍ طُلِّقَتْ ثُمَّ أَصْبَحَتْ غَادِيَةً إِلَى أَهْلِهَا؟ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: " وَاللهِ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي دِينَهَا بِتَمْرَةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حارث بن سوید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! آپ کا اس عورت کے بارے میں کیا خیال ہے جسے طلاق دی گئی، پھر اس نے اپنے اہل کی طرف صبح کی؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں یہ پسند نہیں کرتا کہ ایک کھجور کے عوض اس کا دین میرا ہو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15483
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»