کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: ان ائمہ کے موقف کا بیان جن کے نزدیک بیوہ کے لیے کوئی نفقہ نہیں ہے خواہ وہ حاملہ ہو یا غیر حاملہ۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّهُ قَالَ: " لَيْسَ لِلْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا نَفَقَةٌ حَبَسَهَا الْمِيرَاثُ " هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ مَوْقُوفٌ وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّقَاشِيُّ قَالَ: نا حَرْبُ بْنُ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْحَامِلِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا لَا نَفَقَةَ لَهَا.
حافظ ثناء اللہ
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس کا خاوند فوت ہو جائے اس کے لیے خرچہ نہیں ہے بلکہ اس کو میراث ہی کافی ہے۔
یہی محفوظ ہے کہ یہ موقوف ہے۔
اس کو محمد بن عبداللہ رقاشی نے روایت کیا ہے، وہ فرماتے ہیں: ہمیں حرب بن ابی عالیہ نے ابوزبیر سے حدیث بیان کی، وہ جابر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”حمل والی جس کا خاوند فوت ہو جائے اس کے لیے خرچہ نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15477
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ الْقُشَيْرِيُّ لَفْظًا قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا يَحْيَى بْنُ صَبِيحٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ كَانَ يُعْطِي لَهَا النَّفَقَةَ حَتَّى بَلَغَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ: " لَا نَفَقَةَ لَهَا " فَرَجَعَ عَنْ قَوْلِ ذَلِكَ، يَعْنِي فِي نَفَقَةِ الْحَامِلِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا وَرَوَاهُ عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَا نَفَقَةَ لَهَا وَجَبَتِ الْمَوَارِيثُ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن دینار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما اس (حاملہ بیوہ) کو خرچہ دیتے تھے حتی کہ ان کو یہ بات پہنچی کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اس کے لیے خرچہ نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے اس قول سے رجوع کر لیا، یعنی جس حاملہ کا خاوند فوت ہو جائے اس کے لیے خرچہ ہے۔ اس کو عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے، فرماتے ہیں کہ اس کے لیے خرچہ نہیں ہے، وراثت واجب ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العدد / حدیث: 15478
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»