کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اللہ عزوجل کے فرمان ”سوائے اس کے کہ وہ کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں“ کے متعلق وارد شدہ روایات، اور اس امر کا بیان کہ جس صورت کو اللہ تعالیٰ نے مستثنیٰ کیا ہے یعنی کھلی بے حیائی کے ارتکاب اور شرعی عذر کی بنا پر عورت کے لیے گھر سے نکلنا جائز ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، ح وَأنبأ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [النساء: ١٩] قَالَ: " إِنْ تَبْذُو عَلَى أَهْلِهَا فَإِذَا بَذَتْ عَلَيْهِمْ فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ إِخْرَاجُهَا ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ﴾ [سورة النساء: 19] کے بارے میں روایت ہے کہ اگر وہ اپنے اہل پر فحش گوئی کرے، جب وہ ان پر فحش گوئی کرے تو ان کے لیے اس کا نکالنا حلال ہو گیا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ ⦗٧٠٩⦘ عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ، {لَا تُخْرِجُوهُنَّ مِنْ بُيُوتِهِنَّ وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [الطلاق: ١] فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " الْفَاحِشَةُ الْمُبَيِّنَةُ أَنْ تَفْحَشَ الْمَرْأَةُ عَلَى أَهْلِ الرَّجُلِ وَتُؤْذِيَهُمْ " قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: سُنَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ تَدُلُّ عَلَى أَنَّ مَا تَأَوَّلَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ} [النساء: ١٩] هُوَ الْبَذَاءُ عَلَى أَهْلِ زَوْجِهَا كَمَا تَأَوَّلَ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت ﴿وَلَا يَخْرُجْنَ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة الطلاق: 1] کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ﴿بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ سے مراد یہ ہے کہ عورت آدمی کے اہل کے بارے میں فحش گوئی کرے اور ان کو تکلیف دے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کا طریقہ حدیث فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا میں ہے، وہ اس پر دلالت کرتا ہے جو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة النساء: 19] کے بارے میں تاویل کی ہے کہ وہ فحش گوئی ہے خاوند کے گھر والوں پر، جس طرح تاویل کی ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: رسول اللہ ﷺ کا طریقہ حدیث فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا میں ہے، وہ اس پر دلالت کرتا ہے جو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ﴾ [سورة النساء: 19] کے بارے میں تاویل کی ہے کہ وہ فحش گوئی ہے خاوند کے گھر والوں پر، جس طرح تاویل کی ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ، طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ بِالشَّامِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ فَسَخِطَتْهُ فَقَالَ: وَاللهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: " لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ "، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ ثُمَّ قَالَ: " تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي، فَاعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ " ⦗٧١٠⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ابو عمرو بن حفص (رضی اللہ عنہ) نے اسے طلاق بتہ دے دی اور وہ شام میں غائب تھا۔ اس نے اس کی طرف اپنا وکیل جو دے کر بھیجا وہ اس پر سخت ناراض ہوئی۔ وکیل نے کہا: ”اللہ کی قسم! نہیں ہے تیرے لیے ہمارے ذمے کچھ بھی۔“ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی، اس نے یہ تمام ماجرا رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے لیے اس کے ذمہ خرچہ نہیں ہے۔“ اور اس کو حکم دیا کہ وہ ام شریک (رضی اللہ عنہا) کے گھر عدت گزارے۔ پھر فرمایا: ”یہ ایسی عورت ہے جس کے پاس میرے صحابہ آتے جاتے رہتے ہیں، تو ابن ام مکتوم (رضی اللہ عنہ) کے گھر عدت گزار، وہ نابینا آدمی ہے اور تو اپنے کپڑے بھی اتارے گی۔“
اس حدیث کو امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔
اس حدیث کو امام مسلم رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا " فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى " فَأَبَى مَرْوَانُ أَنْ يُصْدِقَ فَاطِمَةَ فِي خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ مِنْ بَيْتِهَا، وَقَالَ عُرْوَةُ: إِنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنْكَرَتْ ذَلِكَ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْحُلْوَانِيِّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ يَعْقُوبَ.
حافظ ثناء اللہ
ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابو سلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ نے ان کو خبر دی کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ وہ ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ کے پاس تھیں، انہوں نے انہیں تین طلاقوں میں سے آخری طلاق دے دی، انہوں نے گمان کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور انہوں نے گھر سے نکلنے کے بارے میں پوچھا، تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا: ”ابنِ امِ مکتوم نابینا کی طرف منتقل ہو جاؤ۔“ مروان نے طلاق شدہ عورت کے گھر سے نکلنے کے بارے میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا اور عروہ نے کہا: عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا پر اس کا انکار کیا ہے۔
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، نا يَحْيَى هُوَ ابْنُ بُكَيْرٍ نا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ فَزَعَمَتْ أَنَّهَا جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَفْتَتْهُ فِي خُرُوجِهَا مِنْ بَيْتِهَا " فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْتَقِلَ إِلَى ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ الْأَعْمَى " وَأَبَى مَرْوَانُ أَنْ يُصَدِّقَ حَدِيثَ فَاطِمَةَ فِي خُرُوجِ الْمُطَلَّقَةِ وَقَالَ عُرْوَةُ: وَأَنْكَرَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے، فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ وہ ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ کے نکاح میں تھیں، اس نے انہیں تین طلاقوں میں سے آخری طلاق دے دی، انہوں نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپ سے اپنے گھر سے نکلنے کے بارے میں فتویٰ طلب کیا، آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ: ”وہ ابن ام مکتوم (رضی اللہ عنہ) کے ہاں منتقل ہو جائیں۔“ اور مروان نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا جو طلاق شدہ کے نکلنے کے بارے میں ہے اور عروہ کہتے ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث پر انکار کیا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ كَيْسَانَ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ح قَالَ: وَأنبأ سُلَيْمَانُ، نا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَيُوسُفُ الْقَاضِي قَالَا: نا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَا: نا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَلَا تَرَيْنَ إِلَّا فُلَانَةَ بِنْتَ الْحَكَمِ طُلِّقَتِ الْبَتَّةَ ثُمَّ خَرَجَتْ قَالَتْ: " بِئْسَ مَا صَنَعَتْ قُلْتُ ": أَلَا تَرَيْنَ إِلَى قَوْلِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ؟ قَالَتْ: " أَمَا إِنَّهُ لَا خَيْرَ لَهَا فِي ذِكْرِ ذَلِكَ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ کا فلاں بنتِ حکم کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اسے طلاقِ بتہ دی گئی، پھر وہ نکل گئی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اس نے جو کیا برا کیا، میں نے کہا: کیا آپ فاطمہ بنتِ قیس رضی اللہ عنہا کے قول کی طرف نہیں دیکھتیں؟ انہوں نے فرمایا: اس کے لیے اس کے ذکر میں کوئی خیر نہیں۔
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ قَالَا: نا أَبُو كُرَيْبٍ، نا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: تَزَوَّجَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ابْنَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ وَطَلَّقَهَا فَأَخْرَجَهَا مِنْ عِنْدِهِ فَعَابَ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ عُرْوَةُ فَقَالُوا: إِنَّ فَاطِمَةَ قَدْ خَرَجَتْ قَالَ عُرْوَةُ: فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَأَخْبَرْتُهَا بِذَلِكَ فَقَالَتْ: " مَا لِفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ خَيْرٌ فِي أَنْ تَذْكُرَ هَذَا الْحَدِيثَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے والد نے حدیث بیان کی کہ یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمن بن الحکم کی بیٹی سے شادی کی، پھر اسے طلاق دے دی اور اس کو اپنے پاس سے نکال دیا، اس پر اس معاملے میں عروہ رحمہ اللہ نے عیب لگایا، انہوں نے کہا: فاطمہ تحقیق نکل گئی تھی، عروہ رحمہ اللہ نے کہا: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، میں نے ان کو اس کی خبر دی تو انہوں نے کہا: فاطمہ بنت قیس کے لیے کوئی خیر نہیں کہ وہ اس حدیث کا ذکر کرے۔
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ أنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُمَا يَذْكُرَانِ أَنَّ يَحْيَى بْنَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ طَلَّقَ ابْنَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَكَمِ الْبَتَّةَ فَانْتَقَلَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَكَمِ فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فَقَالَتْ: " اتَّقِ اللهَ يَا مَرْوَانُ فَارْدُدِ الْمَرْأَةَ إِلَى بَيْتِهَا " فَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ: إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ غَلَبَنِي وَقَالَ مَرْوَانُ فِي حَدِيثِ الْقَاسِمِ: أَوْ مَا بَلَغَكِ شَأْنُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: " لَا عَلَيْكَ أَنْ لَا تَذْكُرَ فِي شَأْنِ فَاطِمَةَ "، فَقَالَ: إِنْ كَانَ إِنَّمَا بِكِ الشَّرُّ فَحَسْبُكِ مَا بَيْنَ هَذَيْنِ مِنَ الشَّرِّ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ ابْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے، وہ قاسم اور سلیمان بن یسار سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ان دونوں کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا کہ یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمن بن حکم کی بیٹی کو «طَلَاقَ الْبَتَّةِ» ”قطعی طلاق“ دے دی ہے اور عبدالرحمن بن حکم نے اسے (اپنے گھر) منتقل کر لیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا مروان بن حکم کے پاس پہنچیں اور وہ مدینہ کا امیر تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے مروان! اللہ سے ڈر اور اس عورت کو واپس لوٹا دے۔ مروان نے سلیمان کی حدیث کے حوالے سے کہا کہ عبدالرحمن نے مجھ پر غلبہ پا لیا ہے اور قاسم کی حدیث کے حوالے سے کہا: کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے معاملے کی خبر نہیں ہوئی؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تیرے لیے کوئی حرج نہیں کہ تو فاطمہ بنت قیس کا معاملہ ذکر نہ کرے۔ مروان نے کہا: اگر اس میں تیرے لیے کوئی شر ہو تو تجھے ان کے درمیان وہی شر کافی ہے۔
اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔
اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا كَانَتْ تَقُولُ: " اتَّقِي اللهَ يَا فَاطِمَةُ فَقَدْ عَلِمْتِ فِي أِيِّ شَيْءٍ كَانَ ذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن ابراہیم سے روایت ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں: ”اے فاطمہ! اللہ سے ڈر، تو جانتی ہے کہ کس چیز کے میں ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ أَيْنَ تَعْتَدُّ الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا؟ قَالَ: " تَعْتَدُّ فِي بَيْتِهَا "، قَالَ: قُلْتُ: أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ؟ قَالَ: " تِلْكَ الْمَرْأَةُ الَّتِي فَتَنَتِ النَّاسَ إِنَّهَا اسْتَطَالَتْ عَلَى أَحْمَائِهَا بِلِسَانِهَا فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، وَكَانَ رَجُلًا مَكْفُوفَ الْبَصَرِ " ⦗٧١٢⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَعَائِشَةُ وَمَرْوَانُ وَابْنُ الْمُسَيِّبِ يَعْرِفُونَ أَنَّ حَدِيثَ فَاطِمَةَ فِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ كَمَا حَدَّثْتُ، وَيَذْهَبُونَ إِلَى أَنَّ ذَلِكَ إِنَّمَا كَانَ لِلشَّرِّ وَيَزِيدُ ابْنُ الْمُسَيِّبِ تَبْيِينَ اسْتِطَالَتِهَا عَلَى أَحْمَائِهَا وَيَكْرَهُ لَهَا ابْنُ الْمُسَيِّبِ وَغَيْرُهُ أَنَّهَا كَتَمَتْ فِي حَدِيثِهَا السَّبَبَ الَّذِي بِهِ أَمَرَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعْتَدَّ فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا خَوْفًا أَنْ يَسْمَعَ ذَلِكَ سَامِعٌ فَيَرَى أَنَّ لِلْمَبْتُوتَةِ أَنْ تَعْتَدَّ حَيْثُ شَاءَتْ.
حافظ ثناء اللہ
عمرو بن میمون رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے کہا: طلاق ثلاثہ والی عورت عدت کہاں گزارے؟ انہوں نے فرمایا: اپنے گھر میں عدت گزارے۔ میں نے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو حکم نہیں دیا کہ وہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر میں عدت گزاریں؟ انہوں نے فرمایا: یہ وہ عورت ہے جس نے لوگوں کو فتنے میں ڈالا ہوا تھا اور وہ اپنے جیٹھ پر بدزبانی کرتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ ”تو ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزار، وہ نابینا آدمی ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، مروان رحمہ اللہ اور ابن مسیب رحمہ اللہ یہ جانتے تھے کہ نبی ﷺ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا تھا کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر میں عدت گزاریں مگر ان کا خیال یہ ہے کہ یہ شر کی وجہ سے کیا گیا تھا۔ ابن مسیب رحمہ اللہ اس پر یہ وضاحت بھی زیادہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے سسرال والوں پر زبان درازی کرتی تھیں، اور ابن مسیب رحمہ اللہ اور دوسرے حضرات ان کے بارے میں یہ ناپسند کرتے تھے کہ انہوں نے اپنی حدیث میں وہ سبب چھپا لیا جس کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے انہیں خاوند کے گھر کے علاوہ کہیں اور عدت گزارنے کا حکم دیا تھا، اس ڈر سے کہ کوئی سننے والا اسے سن کر یہ سمجھ لے کہ قطعی طلاق والی عورت جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، مروان رحمہ اللہ اور ابن مسیب رحمہ اللہ یہ جانتے تھے کہ نبی ﷺ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا تھا کہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر میں عدت گزاریں مگر ان کا خیال یہ ہے کہ یہ شر کی وجہ سے کیا گیا تھا۔ ابن مسیب رحمہ اللہ اس پر یہ وضاحت بھی زیادہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے سسرال والوں پر زبان درازی کرتی تھیں، اور ابن مسیب رحمہ اللہ اور دوسرے حضرات ان کے بارے میں یہ ناپسند کرتے تھے کہ انہوں نے اپنی حدیث میں وہ سبب چھپا لیا جس کی وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے انہیں خاوند کے گھر کے علاوہ کہیں اور عدت گزارنے کا حکم دیا تھا، اس ڈر سے کہ کوئی سننے والا اسے سن کر یہ سمجھ لے کہ قطعی طلاق والی عورت جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا هَارُونُ بْنُ زَيْدٍ، نا أَبِي، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ فِي خُرُوجِ فَاطِمَةَ قَالَ: " إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ مِنْ سُوءِ الْخُلُقِ ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن یسار رحمہ اللہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نکلنے کے بارے میں فرمایا: یہ برے اخلاق میں سے ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَقَدْ عَابَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَشَدَّ الْعَيْبِ يَعْنِي حَدِيثَ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ وَقَالَتْ: " إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَكَانٍ وَحْشٍ فَخِيفَ عَلَى نَاحِيَتِهَا فَلِذَلِكَ أَرْخَصَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، فَقَالَ: وَقَالَ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث پر شدید عیب لگایا اور فرمایا: فاطمہ ویران مکان میں تھی، اس کے کنارے پر خوف محسوس کیا گیا، اس لیے اس کو رسول اللہ ﷺ نے رخصت دی۔
اس کو بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
اس کو بخاری نے اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، نا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَقَدْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ زَوْجِي طَلَّقَنِي ثَلَاثًا فَأَخَافُ أَنْ يَقْتَحِمَ عَلَيَّ قَالَ: " فَأَمَرَهَا فَتَحَوَّلَتْ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ يَكُونُ الْعُذْرُ فِي نَقْلِهَا كِلَاهُمَا، هَذَا وَاسْتِطَالَتُهَا عَلَى أَحْمَائِهَا جَمِيعًا فَاقْتَصَرَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْ نَاقِلِيهِمَا عَلَى نَقْلِ أَحَدِهِمَا دُونَ الْآخَرِ لِتَعَلُّقِ الْحُكْمِ بِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى الِانْفِرَادِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَمْ يَقُلْ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْتَدِّي حَيْثُ شِئْتِ لَكِنَّهُ حَصَنَهَا حَيْثُ رَضِيَ إِذَا كَانَ زَوْجُهَا غَائِبًا وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَكِيلٌ بِتَحْصِينِهَا وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اور میں ڈرتی ہوں کہ کوئی مجھ پر (گھر میں) گھس آئے، آپ ﷺ نے اسے حکم دیا پھر وہ منتقل ہو گئیں۔