حدیث نمبر: 15421
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ قَالَا: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ: " إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي ⦗٦٩٢⦘ بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا ثُمَّ تَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ تَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ يَبْعَثُ اللهُ الْمَلَكَ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ ثُمَّ يُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ كَتْبِ رِزْقِهِ، وَعَمَلِهِ، وَأَجَلِهِ، وَشَقِيٍّ هُوَ أَمْ سَعِيدٍ، فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ، مِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ صادق و مصدوق رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری تخلیق کو اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک جمع کیا جاتا ہے، پھر وہ اسی طرح لوتھڑا بن جاتا ہے، پھر وہ اسی طرح ہڈی اور گوشت بن جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتے ہیں، وہ اس میں اس کی روح کو پھونکتا ہے۔ پھر اسے چار کلمات کا حکم دیا جاتا ہے: اس کے رزق کے لکھنے کا، اس کے عمل کا، اس کی موت کے لکھنے کا اور (یہ کہ) وہ نیک بخت ہوگا یا بدبخت۔ اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے! بے شک تمہارا کوئی شخص جہنم والوں کے عمل کرتا ہے اور اس کے اور جہنم کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر اس پر کتاب سبقت لے جاتی ہے، اس کا خاتمہ اہل جنت کے عمل کے ساتھ کر دیا جاتا ہے اور وہ اس میں داخل ہو جاتا ہے، اور بے شک تمہارا کوئی شخص اہل جنت کے عمل کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے، اور اس پر کتاب سبقت لے جاتی ہے اور اس کا خاتمہ اہل جہنم کے عمل کے ساتھ کر دیا جاتا ہے اور وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ہے۔“
اس کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
اس کو امام مسلم نے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 15422
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا حَجَّاجٌ، وَأَبُو النُّعْمَانِ قَالَا: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ وَكَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا يَقُولُ أَيْ رَبِّ نُطْفَةٌ أَيْ رَبِّ عَلَقَةٌ أَيْ رَبِّ مُضْغَةٌ فَإِذَا أَرَادَ اللهُ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقَهَا قَالَ: يَا رَبِّ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ فَمَا الرِّزْقُ فَمَا الْأَجَلُ فَيُكْتَبُ كَذَلِكَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي كَامِلٍ عَنْ حَمَّادٍ.
حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے رحم کو فرشتے کے حوالہ کر دیا ہے، وہ کہتا ہے: اے میرے رب! نطفہ ہے، اے میرے رب! لوتھڑا ہے، اے میرے رب! بوٹی ہے۔ پس جب اللہ ارادہ کرتا ہے کہ وہ اس کو پیدا کرنے کا فیصلہ کرتا ہے وہ فرشتہ کہتا ہے: اے میرے رب! کیا مذکر یا مؤنث؟ کیا بدبخت ہو یا نیک بخت ہو؟ پس اس کا رزق کتنا ہو، اس کی موت کا کیا وقت ہو؟ یہ سب کچھ اس کی ماں کے پیٹ میں ہی لکھ دیا جاتا ہے۔“
حدیث نمبر: 15423
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُوَكَّلُ الْمَلَكُ عَلَى النُّطْفَةِ بَعْدَ مَا تَسْتَقِرُّ فِي الرَّحِمِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا أَوْ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ لَيْلَةً فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ مَاذَا أَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ؟ فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيُكْتَبَانِ ثُمَّ يَقُولُ: أَيْ رَبِّ ذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟ فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيُكْتَبَانِ فَيُكْتَبُ عَمَلُهُ وَأَجَلُهُ وَرِزْقُهُ وَأَثَرُهُ ثُمَّ تُرْفَعُ الصُّحُفُ فَلَا يُزَادُ فِيهَا وَلَا يُنْقَصُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ وَغَيْرُهُ عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اس کو نبی ﷺ تک پہنچاتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”فرشتے کو نطفے پر نگران مقرر کیا جاتا ہے، اس کے بعد جب وہ رحم میں چالیس یا پینتالیس دن تک قرار پکڑتا ہے تو وہ فرشتہ کہتا ہے: اے میرے رب! کیا یہ بدبخت ہے یا نیک بخت؟ پس اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، پھر لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ بدبخت ہے یا نیک بخت، پھر وہ کہتا ہے: اے میرے رب! مرد ہو یا عورت ہو؟ پس اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اور لکھ دیا جاتا ہے کہ یہ مرد ہے یا عورت، پھر اس کا عمل اور اس کی موت کا وقت بھی لکھ دیا جاتا ہے اور اس کا رزق اور اس نے جو اثرات پیچھے چھوڑنے ہیں، یہ بھی لکھ دیا جاتا ہے، پھر صحیفے اٹھا دیے جاتے ہیں اور نہ اس میں کچھ کمی ہوتی ہے اور نہ کچھ زیادتی۔“
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 15424
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، نا أَبُو طَاهِرٍ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، أَنَّ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: " الشَّقِيُّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ وَالسَّعِيدُ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ " فَأَتَى رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ حُذَيْفَةُ بْنُ أَسِيدٍ الْغِفَارِيُّ فَحَدَّثَهُ بِذَلِكَ مِنْ قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَقَالَ كَيْفَ يَشْقَى رَجُلٌ يُغَيَّرُ عَمَلُهُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ أَتَعْجَبُ مِنْ ذَلِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا مَرَّ بِالنُّطْفَةِ ⦗٦٩٣⦘ ثِنْتَانِ وَأَرْبَعُونَ لَيْلَةً بَعَثَ اللهُ إِلَيْهَا مَلَكًا فَصَوَّرَهَا وَخَلَقَ سَمْعَهَا وَبَصَرَهَا وَجِلْدَهَا وَلَحْمَهَا وَعَظْمَهَا ثُمَّ قَالَ: يَا رَبِّ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا شَاءَ اللهُ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَجَلُهُ فَيَقُولُ رَبُّكَ مَا شَاءَ وَيَكْتُبُ الْمَلَكُ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ رِزْقُهُ فَيَقْضِي رَبُّكَ مَا شَاءَ وَيَكْتُبُ ثُمَّ يَخْرُجُ بِالصَّحِيفَةِ فِي يَدِهِ فَلَا يَزِيدُ عَلَى أَمْرِهِ وَلَا يَنْقُصُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الطَّاهِرِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوزبیر مکی سے روایت ہے کہ عامر بن واثلہ نے ان کو حدیث بیان کی کہ انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ بدبخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ سے ہی بدبخت ہے اور نیک بخت وہ ہوتا ہے جس کو اس کے علاوہ نصیحت کی جائے۔ ایک آدمی نبی ﷺ کے صحابہ میں سے آیا، اس کا نام حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ تھا۔ اس نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس قول کو بیان کیا اور کہا کہ کس طرح آدمی بغیر عمل کیے بدبخت ہو سکتا ہے؟ اس کو ایک شخص نے کہا: کیا تو اس پر تعجب کرتا ہے! میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”جب نطفہ پر بیالیس دن گزر جاتے ہیں تو اس کی طرف اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو بھیجتا ہے، وہ اس کی صورت بناتا ہے، اس کے کان بناتا ہے، اس کی آنکھیں بناتا ہے اور اس کی کھال، اس کی ہڈیاں اور اس کا گوشت بناتا ہے۔ پھر کہتا ہے: «أَيْ رَبِّ أَذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى؟» ”اے میرے رب! مذکر ہو یا مونث؟“ تیرا رب جو چاہتا ہے فیصلہ فرماتا ہے اور فرشتہ لکھ دیتا ہے۔ وہ کہتا ہے: «أَيْ رَبِّ أَجَلُهُ؟» ”اے میرے رب! اس کی موت کا وقت؟“ تیرا رب فرماتا ہے جو وہ چاہتا ہے اور فرشتہ لکھ دیتا ہے۔ پھر فرشتہ کہتا ہے: «أَيْ رَبِّ رِزْقُهُ؟» ”اے میرے رب! اس کا رزق کتنا ہے؟“ تیرا رب جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے اور فرشتہ (اس کو) لکھ دیتا ہے۔ پھر صحیفہ کو اس کے ہاتھ میں اٹھا دیا جاتا ہے، پس اس معاملے پر نہ کچھ زیادتی ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی کمی ہوتی ہے۔“
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
اس کو مسلم نے روایت کیا ہے۔
حدیث نمبر: 15425
وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " أَجَلُ كُلِّ حَامِلٍ أَنْ تَضَعَ مَا فِي بَطْنِهَا " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ، نا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
اور ذکر کیا گیا ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حاملہ عورت کی عدت یہ ہے کہ وہ اس کو جنم دے جو اس کے پیٹ میں ہے۔