حدیث نمبر: 15240
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ هِلَالُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ الْحَفَّارُ أنا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ، نا أَبُو الْأَشْعَثِ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ هُوَ الثَّقَفِيُّ عَنْ دَاوُدَ هُوَ ابْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عِجْلٍ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ أَنَّهُ تُوُفِّيَ أَخُوهُ، وَتَرَكَ بَنِيًّا لَهُ رَضِيعًا قَالَ أَبُو عَطِيَّةَ لِامْرَأَتِهِ: أَرْضِعِيهِ، فَقَالَتْ: إِنِّي أَخْشَى أَنْ تَغْتَالَهُ، فَحَلَفَ لَا يَقْرَبَهَا حَتَّى تَفْطِمَهُ فَفَعَلَ حَتَّى فَطَمَتْهُ قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّكَ إِنَّمَا أَرَدْتَ الْخَيْرَ وَإِنَّمَا الْإِيلَاءُ فِي الْغَضَبِ " وَحَكَاهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ عَنْ هُشَيْمٍ عَنْ دَاوُدَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ الْأَسَدِيِّ أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَخِيهِ وَهِيَ تُرْضِعُ بِابْنِ أَخِيهِ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کا بھائی فوت ہو گیا اور ان کا دودھ پیتا بچہ بھی موجود تھا، ابو عطیہ رحمہ اللہ نے ان کی بیوی سے کہا: اس کو دودھ پلاؤ۔ اس نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ آپ مجھے حاملہ کر دیں گے، تو ابو عطیہ رحمہ اللہ نے قسم اٹھا لی کہ جب تک تو اسے دودھ پلائے گی وہ تیرے قریب نہیں آئیں گے۔ اس نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ اس نے دودھ چھڑوا دیا، کہتے ہیں: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے تذکرہ کیا تو وہ فرمانے لگے: آپ نے بھلائی کا ارادہ کیا ہے اور ایلا تو غصے کی حالت میں ہوتا ہے۔
(ب) ابو عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بھائی کی بیوی سے نکاح کیا، اور وہ ان کے بھتیجے کو دودھ پلاتی تھی۔
(ب) ابو عطیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بھائی کی بیوی سے نکاح کیا، اور وہ ان کے بھتیجے کو دودھ پلاتی تھی۔
حدیث نمبر: 15241
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، نا أَبِي، نا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: كَانَتْ أُمِّي تُرْضِعُ صَبِيًّا وَقَدْ تُوُفِّيَ صَبِيٌّ لَنَا فَحَلَفَ أَبِي أَنْ لَا يَقْرَبَهَا حَتَّى تَفْطِمَ الصَّبِيَّ فَمَا مَضَتْ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ قِيلَ لَهُ: إِنَّهُ قَدْ بَانَتْ مِنْكَ، فَأَتَى عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنْ ⦗٦٢٧⦘ كُنْتَ حَلَفْتَ عَلَى تَضِرَّةٍ فَهِيَ امْرَأَتُكَ وَإِلَّا فَقَدْ بَانَتْ مِنْكَ " كَذَا قَالَ شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ وَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ: وَمَنْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ فَيَنْبَغِي أَنْ يَقُولَ: وَكَذَلِكَ إِنْ كَانَتْ بِهَا عِلَّةٌ يَضُرُّهَا الْجِمَاعُ بِهَا أَوْ بَدَأَ الْيَمِينَ وَلَيْسَ هَيْئَتُهَا الضِّرَارُ فَلَيْسَتْ بِإِيلَاءٍ، وَلِهَذَا الْقَوْلِ وَجْهٌ حَسَنٌ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَالَ غَيْرُهُ: هُوَ مُؤْلِي وَكُلُّ يَمِينٍ مَنَعَتِ الْجِمَاعَ فَهِيَ إِيلَاءٌ، وَعَلَى هَذَا الْقَوْلِ نَصٌّ فِي الْجَدِيدِ، وَاحْتَجَّ بِأَنَّ اللهَ تَعَالَى أَنْزَلَ الْإِيلَاءَ مُطْلَقًا لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ غَضَبًا وَلَا رِضًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سماک، عطیہ بن جبیر رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں کہ میری والدہ ایک بچے کو دودھ پلاتی تھیں اور ہمارا بچہ فوت ہو گیا۔ میرے والد نے قسم کھائی کہ جب تک وہ بچے کا دودھ نہ چھڑوا لے گی، وہ اس کے قریب نہیں جائیں گے۔ جب چار ماہ گزر گئے تو ان سے کہا گیا کہ وہ تجھ سے جدا ہو گئی، تو انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بتایا۔ انہوں نے فرمایا: اگر تو نے قسم اس کے نقصان پر اٹھائی تھی تو یہ تیری بیوی ہے وگرنہ وہ تجھ سے جدا ہو گئی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر اس کی علت جماع یا نقصان کی حالت میں اس نے قسم اٹھائی تو یہ ایلاء نہیں ہے۔
دوسرے کہتے ہیں: ہر وہ قسم جو جماع سے روکے وہ ایلاء ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آیت میں غصے یا رضا کا دخل نہیں ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر اس کی علت جماع یا نقصان کی حالت میں اس نے قسم اٹھائی تو یہ ایلاء نہیں ہے۔
دوسرے کہتے ہیں: ہر وہ قسم جو جماع سے روکے وہ ایلاء ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آیت میں غصے یا رضا کا دخل نہیں ہے۔