أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا أَبُو شِهَابٍ، وَأَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَنْظَلَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَيْسَ الرَّجُلُ بِأَمِينٍ عَلَى نَفْسِهِ إِذَا جُوِّعَتْ، أَوْ أُوثِقَتْ، أَوْ ضُرِبَتْ ".
حافظ ثناء اللہ
علی بن حنظلہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آدمی اپنی ذات پر امین نہیں رہتا جب اسے بھوکا رکھا جائے یا اسے باندھا جائے یا اس کی پٹائی کی جائے۔
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، نا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ شُرَيْحٍ قَالَ: " الْحَبْسُ كُرْهٌ، وَالضَّرْبُ كُرْهٌ، وَالْقَيْدُ كُرْهٌ، وَالْوَعِيدُ كُرْهٌ ".
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن عبدالرحمن رحمہ اللہ، قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ روکنا، مارنا، قید کرنا اور دھمکی دینا مجبوری ہے۔