السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما يكون إكراها باب: اس بیان میں کہ اکراہ (مجبور کرنا) کیا ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 15107
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا أَبُو شِهَابٍ، وَأَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حَنْظَلَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَيْسَ الرَّجُلُ بِأَمِينٍ عَلَى نَفْسِهِ إِذَا جُوِّعَتْ، أَوْ أُوثِقَتْ، أَوْ ضُرِبَتْ ".حافظ ثناء اللہ
علی بن حنظلہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آدمی اپنی ذات پر امین نہیں رہتا جب اسے بھوکا رکھا جائے یا اسے باندھا جائے یا اس کی پٹائی کی جائے۔