کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: مکروہ (طلاق پر مجبور کیے گئے شخص) کی طلاق کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15094
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ} [النحل: 106] وَلِلْكُفْرِ أَحْكَامٌ، فَلَمَّا وَضَعَ اللهُ عَنْهُ سَقَطَتْ أَحْكَامُ الْإِكْرَاهِ عَنِ الْقَوْلِ كُلِّهِ؛ لِأَنَّ الْأَعْظَمَ إِذَا سَقَطَ عَنِ النَّاسِ سَقَطَ مَا هُوَ أَصْغَرُ مِنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ﴾ ”سوائے اس کے جسے مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو۔“ [سورة النحل: 106]
اور کفر کے (بہت سے) احکام ہیں، تو جب اللہ تعالیٰ نے (مجبور کیے گئے شخص سے) اسے ساقط کر دیا تو جبر کی حالت میں (کہی گئی) ہر بات کے احکام ساقط ہو گئے، کیونکہ جب سب سے بڑی چیز لوگوں سے ساقط ہو جائے تو جو اس سے چھوٹی ہے وہ بھی ساقط ہو جاتی ہے۔“
اور کفر کے (بہت سے) احکام ہیں، تو جب اللہ تعالیٰ نے (مجبور کیے گئے شخص سے) اسے ساقط کر دیا تو جبر کی حالت میں (کہی گئی) ہر بات کے احکام ساقط ہو گئے، کیونکہ جب سب سے بڑی چیز لوگوں سے ساقط ہو جائے تو جو اس سے چھوٹی ہے وہ بھی ساقط ہو جاتی ہے۔“
حدیث نمبر: 15094
أَخْبَرَنَا أَبُو ذَرِّ بْنُ أَبِي الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ الْمُذَكِّرُ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ فِي آخَرِينَ قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، نا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، نا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ تَجَاوَزَ لِي عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ، وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ " جَوَّدَ إِسْنَادَهُ بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ وَهُوَ مِنَ الثِّقَاتِ، وَرَوَاهُ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ فَلَمْ يَذْكُرْ فِي إِسْنَادِهِ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ رب العزت نے میری امت کو غلطی، بھول اور جس پر ان کو مجبور کیا جائے معاف کر دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 15095
أَخْبَرَنَاه أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، نا عُمَرُ بْنُ سِنَانٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، وَغَيْرُهُمَا قَالُوا: نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، نا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، فَذَكَرَهُ وَقَالَ عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
خالی
حدیث نمبر: 15096
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ قَالَ: أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، نا الْوَلِيدُ، نا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ ⦗٥٨٥⦘ قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَضَعَ اللهُ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ، وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ رب العزت نے میری امت کو غلطی، بھول اور جس پر ان کو مجبور کیا جائے معاف کر دیا ہے۔“
حدیث نمبر: 15097
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا أَبُو الْأَزْهَرِ، نا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، نا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ قَالَ: كَتَبَ إِلِيَّ ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عُبَيْدٍ، حَدَّثَهُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ أَنَّهُ أَمَرَهُ أَنْ يَأْتِيَ صَفِيَّةَ بِنْتَ شَيْبَةَ فَيَسْأَلَهَا عَنْ حَدِيثٍ بَلَغَهُ أَنَّهَا تُحُدِّثَهُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَأَتَيْتُهَا فَحَدَّثَتْنِي أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا حَدَّثَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا طَلَاقَ وَلَا عَتَاقَ فِي إِغْلَاقٍ " وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ فِي غِلَاقٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ هَذَا هُوَ ابْنُ أَبِي صَالِحٍ الْمَكِّيُّ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”طلاق اور آزادی زبردستی سے واقع نہیں ہوتی۔“
حدیث نمبر: 15098
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبِ بْنِ حَرْبٍ، نا كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى، نا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاقَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ، جَمِيعًا عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا طَلَاقَ وَلَا عَتَاقَ فِي إِغْلَاقٍ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”طلاق اور آزادی زبردستی سے واقع نہیں ہوتی۔“
حدیث نمبر: 15099
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الصِّبْغِيُّ نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ الْجُمَحِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا تَدَلَّى يَشْتَرِي عَسَلًا فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَاءَتْهُ امْرَأَتُهُ فَوَقَفَتْ عَلَى الْحَبْلِ فَحَلَفَتْ لَتَقْطَعَنَّهُ أَوْ لَتُطَلِّقَنِي ثَلَاثًا فَذَكَّرَهَا اللهَ وَالْإِسْلَامَ فَأَبَتْ إِلَّا ذَلِكَ فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا، فَلَمَّا ظَهَرَ أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ لَهُ مَا كَانَ مِنْهَا إِلَيْهِ وَمِنْهُ إِلَيْهَا فَقَالَ: " ارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ فَلَيْسَ هَذَا بِطَلَاقٍ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ قُدَامَةَ الْجُمَحِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالملک بن قدامہ بن ابراہیم بن محمد بن حاطب جمعی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں قریب ہی سے شہد اتار رہا تھا، اس کی عورت آکر رسی کے اوپر کھڑی ہوگئی، اس نے قسم اٹھا کر کہا کہ وہ رسی کو کاٹ دے گی یا اسے تین طلاقیں دے، تو اس نے اللہ اور اسلام کا واسطہ دیا، لیکن عورت نے انکار کر دیا کہ اسے تین طلاقیں دے، جب وہ شخص نیچے اتر آیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آکر اس واقعے کا تذکرہ کیا جو اس کے ساتھ پیش آیا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اپنے گھر والی کے پاس جا یعنی بیوی کے، یہ طلاق نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 15100
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ قُدَامَةَ الْجُمَحِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَرُفِعَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَبَانَهَا مِنْهُ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خِلَافُهُ قَالَ: وَرُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ وَابْنِ الزُّبَيْرِ وَعَطَاءٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّهُمْ كَانُوا يَرَوْنَ طَلَاقَهُ غَيْرَ جَائِزٍ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: الرِّوَايَةُ الْأُولَى أَشْبَهُ وَأَمَّا الرِّوَايَةُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَدْ.
حافظ ثناء اللہ
عبدالملک بن قدامہ جمحی اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس قصے کو نقل فرماتے ہیں کہ جب معاملہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عورت کو اس شخص سے جدا کر دیا۔ ابو عبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے الٹ بھی ہے۔
(ب) سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما، عطاء رحمہ اللہ اور عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ سب کہتے ہیں: یہ طلاق جائز نہیں ہے۔
(ب) سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما، عطاء رحمہ اللہ اور عبداللہ بن عبید بن عمیر رحمہ اللہ سب کہتے ہیں: یہ طلاق جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 15101
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ يُرْوَى عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا طَلَاقَ لِمُكْرَهٍ "، وَأَمَّا الرِّوَايَةُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجبور شخص کی طلاق نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 15102
فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ رَجَاءٍ نا أَبُو الْحُسَيْنِ الْقَارِيُّ، نا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى، يَقُولُ: نا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " لَمْ يُجِزْ طَلَاقَ الْمُكْرَهِ ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن ابی کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: مجبور شخص کا طلاق دینا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 15103
وَفِي كِتَابِ إِسْحَاقَ بِإِسْنَادِهِ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ أَكْرَهَهُ اللُّصُوصُ حَتَّى طَلَّقَ امْرَأَتَهُ قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " لَيْسَ بِشَيْءٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جسے چوروں نے مجبور کر دیا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے، آپ فرماتے ہیں: یہ طلاق نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 15104
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ قَالَ: كَتَبَ إِلَيْنَا الْقَاضِي أَبُو ⦗٥٨٧⦘ الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَخْرٍ الْأَزْدِيُّ الْبَصْرِيُّ الضَّرِيرُ مِنْ مَكَّةَ حَرَسَهَا اللهُ وَرَضِيَ عَنْهُ قَالَ: أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ السَّقَطِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ نا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ الْمُثَنَّى نا عَفَّانُ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ ثنا هُشَيْمٌ نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ طَلْحَةَ الْخُزَاعِيُّ عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْمَدَنِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَيْسَ لِمُكْرَهٍ طَلَاقٌ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو یزید مدنی، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ مجبور شخص کی طلاق نہیں ہوتی۔
حدیث نمبر: 15105
وَأَمَّا الرِّوَايَةُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ، فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبِرْتِيُّ، نا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الصِّبْغِيُّ نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، نا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْأَحْنَفِ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ أُمَّ وَلَدٍ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: فَدَعَانِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَجِئْتُهُ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَإِذَا بَيْنَ يَدَيْهِ سِيَاطٌ مَوْضُوعَةٌ وَإِذَا قَيْدٌ مِنْ حَدِيدٍ وَعَبْدَانِ لَهُ قَدْ أَجْلَسَهُمَا فَقَالَ: طَلِّقْهَا وَإِلَّا وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ فَعَلْتُ بِكَ كَذَا وَكَذَا قَالَ: فَقُلْتُ: هِيَ الطَّلَاقُ أَلْفًا فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ فَأَدْرَكْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فِي خَرِبٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي كَانَ مِنْ شَأْنِي فَتَغَيَّظَ عَبْدُ اللهِ وَقَالَ: " لَيْسَ ذَلِكَ بِطَلَاقٍ إِنَّهَا لَمْ تُحَرَّمْ عَلَيْكَ فَارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ " قَالَ: فَلَمْ تَقَرَّ بِي نَفْسِي حَتَّى أَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي كَانَ مِنْ شَأْنِي وَبِالَّذِي قَالَ لِيَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " لَمْ تُحَرَّمْ عَلَيْكَ ارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ " وَكَتَبَ إِلَى جَابِرِ بْنِ الْأَسْوَدِ الزُّهْرِيِّ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ يَأْمُرُهُ أَنْ يُعَاقِبَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَنْ يُخَلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَهْلِي فَقَدِمْتُ فَجَهَّزَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي عُبَيْدٍ امْرَأَةُ ابْنِ عُمَرَ امْرَأَتِي حَتَّى أَدْخَلَتْهَا عَلَيَّ بِعِلْمِ ابْنِ عُمَرَ ثُمَّ دَعَوْتُ ابْنَ عُمَرَ يَوْمَ عُرْسِي لِوَلِيمَتِي فَجَاءَنِي.
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ، ثابت احنف رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے عبدالرحمن بن زید بن خطاب کی ام ولد سے شادی کرلی۔ وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عبدالرحمن نے مجھے بلایا، جب میں ان کے پاس آیا تو ان کے سامنے کوڑے رکھے ہوئے تھے اور لوہے کی زنجیر تھی اور انہوں نے دو غلام بٹھا رکھے تھے۔ وہ کہنے لگے: ”اس کو طلاق دو وگرنہ...“ انہوں نے قسم اٹھا کر کہا: ”میں تیرے ساتھ یہ یہ کروں گا۔“ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ”ہزار طلاقیں۔“ میں ان کے پاس سے نکلا تو میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو مکہ کے راستے میں پایا۔ میں نے انہیں اپنی حالت بتائی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما غصے ہوئے اور فرمانے لگے: ”یہ کوئی طلاق نہیں ہے، تیری بیوی تیرے لیے حرام نہیں ہوئی، تو اپنے اہل کے پاس جا۔“ وہ کہتے ہیں: میرا دلی اطمینان نہ ہوا یہاں تک کہ میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، وہ اس دن مکہ میں تھے۔ میں نے انہیں اپنی حالت بتائی تو انہوں نے بھی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرح فرمایا، پھر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے فرمایا: ”وہ تیرے اوپر حرام نہیں، تو اپنی بیوی کے پاس جا۔“ اور انہوں نے جابر بن اسود زہری کو لکھا (جو مدینہ کے امیر تھے) کہ وہ عبداللہ بن عبدالرحمن کو سزا دیں اور یہ کہ وہ میرے اور میری گھر والی کے درمیان رکاوٹ نہ بنیں۔ میں آیا تو صفیہ بنت ابی عبید (یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بیوی) نے میری عورت کو تیار کیا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے جانتے ہوئے اس کو میرے اوپر داخل کر دیا۔ پھر میں نے اپنے ولیمے کی دعوت میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بھی بلایا۔
حدیث نمبر: 15106
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، نا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرًا يَقُولُ: حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْأَعْرَجُ قَالَ: تَزَوَّجْتُ أُمَّ وَلَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَدَعَانِي ابْنُهُ وَدَعَا غُلَامَيْنِ لَهُ فَرَبَطُونِي وَضَرَبُونِي بِسِيَاطٍ وَقَالُوا: لِتُطَلِّقَنَّهَا أَوْ لَنَفْعَلَنَّ وَلَنَفْعَلَنَّ، فَطَلَّقْتُهَا ثُمَّ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ وَابْنَ الزُّبَيْرِ " فَلَمْ يَرَيَاهُ شَيْئًا "، وَرُوِّينَا هَذَا الْمَذْهَبَ مِنَ التَّابِعِينَ عَنْ عَطَاءٍ وَطَاوُسٍ وَالْحَسَنِ وَعِكْرِمَةَ وَعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
ثابت اعرج کہتے ہیں: میں نے عبدالرحمن بن زید بن خطاب کی ام ولد سے شادی کی تو اس کے بیٹے نے مجھے بلا لیا اور اپنے دو غلام بھی بلا لیے۔ انہوں نے مجھے باندھ کر کوڑوں سے میری پٹائی کی اور انہوں نے کہا: اس کو طلاق دے یا ہم اس طرح ضرور کریں گے۔ کہتے ہیں: میں نے طلاق دے دی، پھر میں نے ابن عمر اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے اس کو طلاق شمار نہیں کیا۔