کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: تملیک (عورت کو طلاق کا مالک بنا دینے) کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15037
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ حِكَايَةً عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَيَعْلَى، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِزَوْجِهَا: لَوْ أَنَّ الْأَمْرَ الَّذِي بِيَدِكَ بِيَدِي لَطَلَّقْتُكَ قَالَ: قَدْ جَعَلْتُ ⦗٥٦٩⦘ الْأَمْرَ إِلَيْكِ فَطَلَّقَتْ نَفْسَهَا ثَلَاثًا فَسَأَلَ عُمَرُ وَعَبْدَ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنْ ذَلِكَ قَالَ: " هِيَ وَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا "، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم، مسروق رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا: ”اگر جو اختیار تیرے ہاتھ میں ہے میرے ہاتھ ہو تو میں تجھے طلاق دے دوں“ تو خاوند نے بیوی کو اختیار دے دیا، تو اس نے اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دیں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں پوچھا، انہوں نے فرمایا: ”یہ ایک طلاق ہے اور خاوند اس عورت کا زیادہ حق دار ہے“ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ”میرا بھی یہی خیال تھا۔“
(ب) علقمہ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ طلاقِ بائن نہیں ہے بلکہ خلع یا ایلا ہے۔
(ب) علقمہ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ طلاقِ بائن نہیں ہے بلکہ خلع یا ایلا ہے۔
حدیث نمبر: 15038
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ، وَعَلْقَمَةُ قَالَا: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَقَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ امْرَأَتِي بَعْضُ مَا يَكُونُ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَتْ: لَوْ أَنَّ الَّذِيَ بِيَدِكَ مِنْ أَمْرِي بِيَدِي لَعَلِمْتُ كَيْفَ أَصْنَعُ، قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّ الَّذِيَ بِيَدِي مِنْ أَمْرِكِ بِيَدِكِ، قَالَتْ: فَإِنِّي قَدْ طَلَّقْتُكَ ثَلَاثًا قَالَ عَبْدُ اللهِ: " أَرَاهَا وَاحِدَةً وَأَنْتَ أَحَقُّ بِهَا " وَسَأَلْقَى أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ، فَأَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ قَالَ: فَلَقِيَهُ فَسَأَلَهُ فَقَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " فَعَلَ اللهُ بِالرِّجَالِ يَعْمِدُونَ إِلَى مَا جَعَلَ اللهُ بِأَيْدِيهِمْ فَيَجْعَلُونَهُ بِأَيْدِي النِّسَاءِ بِفِيهَا التُّرَابَ بِفِيهَا التُّرَابَ، فَمَا قُلْتَ "، قَالَ: قُلْتُ: " أَرَاهَا وَاحِدَةً وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا "، قَالَ: " وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ وَلَوْ قُلْتَ غَيْرَ ذَلِكَ لَرَأَيْتُ أَنَّكَ لَمْ تُصِبْ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ حضرت علقمہ رحمہ اللہ اور اسود رحمہ اللہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: میرے اور بیوی کے درمیان کچھ جھگڑا تھا جیسے لوگوں کے درمیان ہوتے ہیں، پھر اس عورت نے کہا: جو اختیار تیرے ہاتھ میں ہے اگر میرے ہاتھ میں ہوتا تو جانتا کہ میں کیا کرتی ہوں، تو خاوند نے اپنا اختیار بیوی کو دے دیا۔ بیوی نے تین طلاقیں دے لیں، تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے خیال میں یہ ایک طلاق ہے اور تو اس کا زیادہ حق دار ہے، عنقریب میں امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملوں گا اور ان سے اس بارے میں سوال کروں گا، پھر ان سے مل کر قصہ بیان کر کے پوچھا تو وہ فرمانے لگے: جو اختیار اللہ تعالیٰ نے مردوں کے سپرد کیا ہے وہ اپنی عورتوں کو دے دیتے ہیں، «بِفِيهِ التُّرَابُ» ”ان کے منہ میں مٹی ہو“، «بِفِيهِ التُّرَابُ» ”ان کے منہ میں مٹی ہو“، تو نے کیا کہا؟ کہتے ہیں: میں نے کہا کہ یہ ایک طلاق ہے اور خاوند عورت کا زیادہ حق دار ہے، فرمایا: میرا بھی یہی خیال ہے، اگر آپ اس کے علاوہ کوئی اور فیصلہ کرتے تو میں خیال کرتا کہ آپ نے صحیح فیصلہ نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 15039
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَتَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتِيقٍ وَعَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ فَقَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: مَا شَأْنُكَ؟ فَقَالَ: " مَلَّكْتُ امْرَأَتِي أَمْرَهَا فَفَارَقَتْنِي "، فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ: مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ فَقَالَ: الْقَدَرُ، فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ: " ارْتَجِعْهَا إِنْ شِئْتَ فَإِنَّمَا هِيَ وَاحِدَةٌ، وَأَنْتَ أَمْلَكُ بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
خارجہ بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف فرما تھے تو ان کے پاس محمد بن عتیق روتے ہوئے آئے۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیری کیا حالت ہے؟ تو وہ کہنے لگے: میں نے اپنے اختیار کا مالک اپنی بیوی کو بنا دیا تو اس نے مجھے جدا کر دیا، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تجھے اس پر کس چیز نے ابھارا؟ کہنے لگے: تقدیر نے، تو سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اگر چاہو تو رجوع کر لو، یہ ایک طلاق ہے، آپ عورت کے مالک ہیں۔
حدیث نمبر: 15040
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، أَنَّ رَجُلًا جَعَلَ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِهَا فَطَلَّقَتْ نَفْسَهَا ثَلَاثًا فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: " هِيَ وَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابان بن عثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنا اختیار بیوی کو دے دیا، تو اس نے تین طلاقیں دے دیں، معاملہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے فرمایا: یہ ایک طلاق ہے اور مرد عورت کا زیادہ حق دار ہے۔
حدیث نمبر: 15041
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ رَجُلًا جَعَلَ أَمْرَ امْرَأَتِهِ بِيَدِهَا فَطَلَّقَتْ نَفْسَهَا أَلْفًا فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: " هِيَ وَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنا اختیار بیوی کو سونپ دیا تو بیوی نے ہزار طلاقیں دے دیں، معاملہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو فرمایا: یہ ایک ہے اور مرد عورت کا زیادہ حق دار ہے۔
حدیث نمبر: 15042
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: " إِذَا مَلَّكَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَالْقَضَاءُ مَا قَضَتْ إِلَّا أَنْ يُنَاكِرَهَا الرَّجُلُ فَيَقُولُ: لَمْ أُرِدْ إِلَّا تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً فَيَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ وَيَكُونُ أَمْلَكُ بِهَا مَا كَانَتْ فِي عِدَّتِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب خاوند بیوی کو اپنا اختیار سونپ دیتا ہے تو جو بیوی فیصلہ کرے وہی ہوگا، لیکن اگر خاوند انکار کرے، وہ کہتا ہے کہ میں نے صرف ایک طلاق کا ارادہ کیا تھا اور وہ قسم اٹھائے، تو عورت جب تک عدت میں ہے وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔
حدیث نمبر: 15043
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُمَا سُئِلَا عَنِ الرَّجُلِ يُمَلِّكُ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا فَتَرُدُّ ذَلِكَ إِلَيْهِ وَلَا تَقْضِي فِيهِ شَيْئًا فَقَالَا: " لَيْسَ ذَلِكَ بِطَلَاقٍ ".
حافظ ثناء اللہ
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے جس نے اپنا اختیار بیوی کے سپرد کر دیا کے بارے میں پوچھا، لیکن بیوی نے اختیار استعمال کیے بغیر خاوند کو واپس کر دیا تو دونوں فرماتے ہیں: یہ طلاق نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 15044
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِنْ قَبِلُوهَا فَوَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا، وَإِنْ لَمْ يَقْبَلُوهَا فَلَيْسَ بِشَيْءٍ فِي الرَّجُلِ يَهَبُ امْرَأَتَهُ لِأَهْلِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں: اگر وہ قبول کر لیں تو یہ ایک طلاق ہے اور مرد بیوی کا زیادہ حق دار ہے، اگر وہ قبول نہ کریں تو مرد کے ذمہ کچھ بھی نہیں ہے جب وہ بیوی کو اس کے اہل کے سپرد کر دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 15045
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ حِكَايَةً عَنْ شَرِيكٍ عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ: اسْتَلْحِقِي بِأَهْلِكِ أَوْ وَهَبَهَا لِأَهْلِهَا فَقَبِلُوهَا فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی سے کہتا ہے کہ ”اپنے گھر والوں سے مل جاؤ“ یا اسے اس کے گھر والوں کو ہبہ کر دیتا ہے، اگر وہ اسے قبول کر لیں یا رد کر دیں تو یہ ایک طلاق ہے اور خاوند کو رجوع کا زیادہ حق ہے۔
حدیث نمبر: 15046
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا مُطَرِّفٌ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي رَجُلٍ وَهَبَ امْرَأَتَهُ لِأَهْلِهَا فَقَالَ: " إِنْ قَبِلُوهَا فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ وَإِنْ رَدُّوهَا فَهِيَ وَاحِدَةٌ وَهُوَ أَمْلَكُ بِرَجْعَتِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن جزار سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں ایک شخص نے اپنی بیوی کو اس کے اہل کے سپرد کر دیا۔ فرماتے ہیں: اگر وہ قبول کر لیں تو یہ ایک جدا کر دینے والی طلاق ہے اور اگر رد کر دیں تب بھی ایک طلاق ہے اور خاوند رجوع کا زیادہ حق رکھتا ہے۔
حدیث نمبر: 15047
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، أنا أَبُو سَعِيدٍ، نا الزَّعْفَرَانِيُّ، نا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، نا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " إِذَا مَلَّكَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ مَرَّةً وَاحِدَةً فَإِنْ قَضَتْ فَلَيْسَ لَهُ مِنْ أَمْرِهَا شَيْءٌ وَإِنْ لَمْ تَقْضِ فَهِيَ وَاحِدَةٌ وَأَمْرُهَا إِلَيْهِ " كَذَا وَجَدْتُهُ وَفِي إِسْنَادِهِ خَلَلٌ وَقَدِ اتَّفَقَ قَوْلُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي التَّخْيِيرِ وَالتَّمْلِيكِ وَكَذَا قَوْلُ عُمَرَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِيهِمَا مُتَّفِقٌ، وَأَمَّا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَدِ اخْتَلَفَ قَوْلُهُ فِيهِمَا كَمَا رَوَيْنَا وَقَدْ رَوَى الثَّوْرِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الشَّعْبِيِّ فِي اخْتَارِي وَأَمْرُكِ بِيَدِكِ سَوَاءٌ فِي قَوْلِ عَلِيٍّ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَكَأَنَّهُ عَلِمَ مِنْهُ قَوْلًا آخَرَ فِي إِحْدَى الْمَسْأَلَتَيْنِ يُوَافِقُ قَوْلَهُ فِي الْمَسْأَلَةِ الْأُخْرَى وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
حارث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب خاوند بیوی کو اپنا اختیار ایک مرتبہ سپرد کر دیتا ہے، اگر وہ کوئی فیصلہ کر دے تو اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں ہے، اگر وہ آپ فیصلہ نہ کریں تو یہ ایک طلاق ہے اور اس کا معاملہ آپ کے سپرد ہو گا۔
نوٹ: «التَّخْيِيرِ وَالتَّمْلِيكِ» میں حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ایک جیسا قول ہے جبکہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قول مختلف ہے، ابن ابی لیلیٰ شعبی سے نقل فرماتے ہیں کہ «وَأَمْرُكِ بِيَدِكِ» میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قول حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق ہے، گویا کہ وہ جانتے ہیں کہ ایک مسئلہ میں وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی موافقت کرتے ہیں۔
نوٹ: «التَّخْيِيرِ وَالتَّمْلِيكِ» میں حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ایک جیسا قول ہے جبکہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قول مختلف ہے، ابن ابی لیلیٰ شعبی سے نقل فرماتے ہیں کہ «وَأَمْرُكِ بِيَدِكِ» میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قول حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق ہے، گویا کہ وہ جانتے ہیں کہ ایک مسئلہ میں وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی موافقت کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 15048
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: قُلْتُ لِأَيُّوبَ: هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ بِقَوْلِ الْحَسَنِ فِي: " أَمْرُكِ بِيَدِكِ " أَنَّهُ ثَلَاثٌ؟ فَقَالَ: لَا إِلَّا شَيْءٌ حَدَّثَنَا بِهِ قَتَادَةُ عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ " قَالَ أَيُّوبُ: فَقَدِمَ عَلَيْنَا كَثِيرٌ فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: مَا حَدَّثْتُ بِهِ قَطُّ فَذَكَرْتُهُ لِقَتَادَةَ فَقَالَ: بَلَى وَلَكِنْ قَدْ نُسِيَ كَثِيرٌ هَذَا لَمْ يَثْبُتْ مِنْ مَعْرِفَتِهِ مَا يُوجِبُ قَبُولَ رِوَايَتِهِ، وَقَوْلُ الْعَامَّةِ بِخِلَافِ رِوَايَتِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
حماد بن زید کہتے ہیں کہ میں نے ایوب سے پوچھا: کیا آپ کسی کو جانتے ہیں جو حضرت حسن کے قول کے موافق کہتا ہو کہ جب خاوند اپنا اختیار بیوی کے سپرد کر دے تو اسے تین طلاقیں ہو جاتی ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ لیکن سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے اسی طرح نقل فرماتے ہیں کہ ایوب کہتے ہیں کہ ہمارے پاس کثیر آئے تو میں نے ان سے سوال کیا، وہ فرمانے لگے: میں نے بیان ہی نہیں کیا۔ جب میں نے قتادہ سے تذکرہ کیا تو وہ فرمانے لگے: بیان تو کیا تھا لیکن وہ بھول گئے۔
(٢٤) «بَابُ الْمَرْأَةِ تَقُولُ فِي التَّمْلِيكِ طَلَّقْتُكَ وَهِيَ تُرِيدُ الطَّلَاقَ»
”عورت تملیک کے موقع پر «طَلَّقْتُكَ» کہہ کر ایک طلاق کا ارادہ رکھتی ہے“
«قَدْ مَضَى حَدِيثُ الْأَسْوَدِ وَعَلْقَمَةَ فِي الرَّجُلِ الَّذِي قَالَ لِامْرَأَتِهِ: الَّذِي بِيَدِي مِنْ أَمْرِكِ بِيَدِكِ قَالَتْ: فَإِنِّي قَدْ طَلَّقْتُكَ ثَلَاثًا فَسَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ: أُرَاهَا وَاحِدَةً وَأَنْتَ أَحَقُّ بِهَا وَسَأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ»
”اسود اور علقمہ کی احادیث میں گزر گیا کہ وہ ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے اپنا اختیار بیوی کو سونپ دیا، پھر بیوی نے تین طلاق کے بارے میں کہہ دیا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا: میرے خیال میں ایک طلاق ہوئی ہے اور خاوند رجوع کا زیادہ حق رکھتا ہے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا بھی یہی خیال ہے“۔
(٢٤) «بَابُ الْمَرْأَةِ تَقُولُ فِي التَّمْلِيكِ طَلَّقْتُكَ وَهِيَ تُرِيدُ الطَّلَاقَ»
”عورت تملیک کے موقع پر «طَلَّقْتُكَ» کہہ کر ایک طلاق کا ارادہ رکھتی ہے“
«قَدْ مَضَى حَدِيثُ الْأَسْوَدِ وَعَلْقَمَةَ فِي الرَّجُلِ الَّذِي قَالَ لِامْرَأَتِهِ: الَّذِي بِيَدِي مِنْ أَمْرِكِ بِيَدِكِ قَالَتْ: فَإِنِّي قَدْ طَلَّقْتُكَ ثَلَاثًا فَسَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ: أُرَاهَا وَاحِدَةً وَأَنْتَ أَحَقُّ بِهَا وَسَأَلَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ: وَأَنَا أَرَى ذَلِكَ»
”اسود اور علقمہ کی احادیث میں گزر گیا کہ وہ ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جس نے اپنا اختیار بیوی کو سونپ دیا، پھر بیوی نے تین طلاق کے بارے میں کہہ دیا تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال ہوا تو انہوں نے فرمایا: میرے خیال میں ایک طلاق ہوئی ہے اور خاوند رجوع کا زیادہ حق رکھتا ہے اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا بھی یہی خیال ہے“۔