کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: تملیک کی صورت میں عورت کا یہ کہنا ”میں نے تجھے طلاق دی“ جبکہ اس کا ارادہ طلاق کا ہو۔
حدیث نمبر: 15049
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ مَلَّكَ امْرَأَتَهُ أَمْرَهَا فَقَالَتْ: أَنْتَ الطَّلَاقُ فَسَكَتَ، ثُمَّ قَالَتْ: أَنْتَ الطَّلَاقُ، فَقَالَ: بِفِيكِ الْحَجَرُ، ثُمَّ قَالَتْ: أَنْتَ الطَّلَاقُ، فَقَالَ: بِفِيكِ الْحَجَرُ، وَاخْتَصَمَا إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ " فَاسْتَحْلَفَهُ مَا مَلَّكَهَا إِلَّا وَاحِدَةً، ثُمَّ رَدَّهَا إِلَيْهِ " قَالَ: فَكَانَ الْقَاسِمُ يُعْجِبُهُ ذَلِكَ الْقَضَاءُ وَيَرَاهُ أَحْسَنَ مَا سَمِعَ فِي ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ثقیف کے ایک شخص نے اپنا اختیار اپنی بیوی کے سپرد کر دیا تو اس نے کہہ دیا: تجھے طلاق۔ وہ خاموش رہا۔ دوسری مرتبہ عورت نے کہا: تجھے طلاق۔ اس نے کہا: تیرے منہ میں پتھر۔ تیسری مرتبہ عورت نے کہا: تجھے طلاق۔ مرد کہنے لگا: تیرے منہ میں پتھر۔ دونوں کا جھگڑا مروان بن حکم رحمہ اللہ کے پاس آیا تو خاوند نے کہا: میں نے ایک کا اختیار دیا تھا اور قسم اٹھا دی، تو مروان رحمہ اللہ نے بیوی کو واپس کر دیا۔ قاسم رحمہ اللہ اس فیصلے کو پسند کرتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ انہوں نے اچھی چیز سنی ہے۔
حدیث نمبر: 15050
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَذَكَرَهُ وَرَوَاهُ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ عَنِ الْحَكَمِ، وَحَبِيبٍ، وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَتَمَّ مِنْ ذَلِكَ وَالْحَسَنُ مَتْرُوكٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ ان سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنا اختیار بیوی کے سپرد کر دیا تھا تو عورت نے کہا: تجھے تین طلاقیں ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تیرے اس کام کو غلط قرار دیتے ہیں، خبردار! تو نے اپنے آپ کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔
حدیث نمبر: 15051
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، نا الْحَسَنُ، عَنِ الْحَكَمِ، وَحَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِزَوْجِهَا: لَوْ أَنَّ مَا تَمْلِكُ مِنْ أَمْرِي كَانَ بِيَدِي لَعَلِمْتُ كَيْفَ أَصْنَعُ؟ قَالَ: فَإِنَّ مَا أَمْلِكُ مِنْ أَمْرِكِ بِيَدِكِ، قَالَتْ: قَدْ طَلَّقْتُكَ ثَلَاثًا، فَقِيلَ ذَلِكَ لِابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ: " خَطَّأَ اللهُ نَوْءَهَا فَهَلَّا طَلَّقَتْ نَفْسَهَا إِنَّمَا الطَّلَاقُ عَلَيْهَا وَلَيْسَ عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا: اگر وہ اختیار مجھے مل جائے جو تیرے ہاتھ میں ہے تو جان لے کہ میں کیا کوئی ہوں تو مرد نے اپنا اختیار عورت کے سپرد کر دیا۔ عورت نے کہہ دیا: میں نے تجھے تین طلاقیں دے دیں۔ جب ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا تو فرمانے لگے: اللہ تیرے کام کو غلط قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ اس نے اپنے آپ کو طلاق نہ دی ہے۔ طلاق عورت کو دی جاتی ہے نہ کہ مرد کو۔
حدیث نمبر: 15052
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْعَبَّاسُ بْنُ ⦗٥٧٣⦘ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، نا جَرِيرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ لِزَوْجِهَا: لَوْ أَنَّ بِيَدِي مِنْ أَمْرِ الطَّلَاقِ مَا بِيَدِكَ لَفَعَلْتُ، فَقَالَ لَهَا: هُوَ بِيَدِكِ أَوْ قَدْ جَعَلْتُهُ بِيَدِكِ، فَقَالَتْ لَهُ: فَأَنْتَ طَالِقٌ ثَلَاثًا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " خَطَّأَ اللهُ نَوْءَهَا أَلَا طَلَّقَتْ نَفْسَهَا؟ " وَرُوِّينَا عَنْ مَنْصُورٍ أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ لِإِبْرَاهِيمَ: بَلَغَنِي أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يَقُولُ: " خَطَّأَ اللهُ نَوْءَهَا لَوْ قَالَتْ قَدْ طَلَّقْتُ نَفْسِي "، فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: هُمَا سَوَاءٌ يَعْنِي قَوْلَهَا طَلَّقْتُكَ وَطَلَّقْتُ نَفْسِي سَوَاءٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا: اگر طلاق دینے کا اختیار مجھے ہو جو آپ کے اختیار میں ہے تو پھر کچھ کروں۔ تو خاوند نے یہ اختیار بیوی کو دے دیا۔ وہ کہنے لگی: تجھے تین طلاقیں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے کام کو غلط قرار دیتے ہیں، اس نے اپنے آپ کو طلاق کیوں نہ دی۔
(ب) ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ اس کے کام کو غلط قرار دیتے ہیں، اس نے یہ کیوں نہ کہا کہ میں نے اپنے آپ کو طلاق دی ہے۔ ابراہیم کہتے ہیں: اس کا قول دونوں طرح برابر ہے: «طَلَّقْتُكَ وَطَلَّقْتُ نَفْسِي»۔
(٢٥) «بَابُ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ فِي نَفْسِهِ وَلَمْ يُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَهُ»
خاوند دل میں بیوی کو طلاق دے دے زبان سے بات نہ کرے۔
(ب) ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ اس کے کام کو غلط قرار دیتے ہیں، اس نے یہ کیوں نہ کہا کہ میں نے اپنے آپ کو طلاق دی ہے۔ ابراہیم کہتے ہیں: اس کا قول دونوں طرح برابر ہے: «طَلَّقْتُكَ وَطَلَّقْتُ نَفْسِي»۔
(٢٥) «بَابُ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ فِي نَفْسِهِ وَلَمْ يُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَهُ»
خاوند دل میں بیوی کو طلاق دے دے زبان سے بات نہ کرے۔