کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: تخییر (عورت کو طلاق کا اختیار دینے) کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15020
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا أَبُو الْيَمَانِ، أنا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهَا حِينَ أَمَرَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُخَيِّرَ أَزْوَاجَهُ فَبَدَأَ بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَسْتَعْجِلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ " وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوِيَّ لَمْ يَكُونَا يَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ قَالَ: ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ} [الأحزاب: ٢٨] " إِلَى تَمَامِ الْآيَتَيْنِ، فَقُلْتُ لَهُ: فَفِي هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوِيَّ فَإِنِّي أُرِيدُ اللهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ. زَادَ فِيهِ قَالَتْ: ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فَعَلْتُ ⦗٥٦٥⦘.
حافظ ثناء اللہ
ابو سلمہ بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کی بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس آئے، جب اللہ رب العزت نے ان کو حکم دیا کہ آپ اپنی بیویوں کو اختیار دیں۔ آپ ﷺ نے مجھ سے ابتدا کی اور فرمایا: ”میں آپ کے لیے ایک بات ذکر کرنے لگا ہوں لیکن آپ نے جلدی نہیں کرنی بلکہ اپنے والدین سے مشورہ کرنا ہے“، کیونکہ آپ ﷺ جانتے تھے کہ میرے والدین آپ سے جدا ہونے کا حکم نہیں دیں گے۔ پھر فرمایا: اللہ رب العزت کا یہ فرمان ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ﴾ [سورة الأحزاب: 28] (مکمل دو آیتیں)۔ میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا: کیا اس بارے میں میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی؟ میں تو اللہ اور اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چاہتی ہوں۔
(ب) یونس، زہری سے نقل فرماتے ہیں: اس میں کچھ الفاظ زائد ہیں کہ پھر نبی ﷺ کی ازواج مطہرات نے ایسے ہی کہا تھا جیسے میں نے کہا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15020
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 15021
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، نا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أنا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ بِزِيَادَتِهِ.
حافظ ثناء اللہ
ابو سلمہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کو اپنی بیویوں کو اختیار دینے کا حکم دیا گیا، انہوں نے اس کے ہم معنیٰ ذکر کیا ہے اور اس میں کچھ الفاظ کی زیادتی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15021
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 15022
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، نا أَبُو أُسَامَةَ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ الْخِيَرَةِ فَقَالَتْ: " خَيَّرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ، فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ طَلَاقًا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ عَنْ يَحْيَى، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اختیار کے بارے میں سوال کیا، وہ فرماتی ہیں کہ ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اختیار دیا تو ہم نے آپ ﷺ کو اختیار کر لیا، تو یہ طلاق نہ تھی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15022
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ متفق عليه»
حدیث نمبر: 15023
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، نا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: مَا أُبَالِي خَيَّرْتُ امْرَأَتِي وَاحِدَةً أَوْ مِائَةً أَوْ أَلْفًا بَعْدَ أَنْ تَخْتَارَنِي، وَلَقَدْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَتْ: " خَيَّرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَفَكَانَ طَلَاقًا؟ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ مجھے کوئی پروا نہیں کہ میں اپنی ایک یا سو یا ہزار بیوی کو اختیار دوں کہ جب آپ ﷺ نے مجھے اختیار دیا ہے، میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا تو وہ فرماتی ہیں کہ ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اختیار دیا، کیا یہ طلاق تھی؟“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15023
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 15024
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ الشِّيرَازِيُّ نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَخْرَمُ نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، نا أَبُو الرَّبِيعِ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " خَيَّرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ، فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ طَلَاقًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
مسروق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اختیار دیا تو ہم نے اختیار کر لیا۔ یہ طلاق نہ تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15024
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 15025
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو بَكْرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عُمَرَ، وَابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَا يَقُولَانِ: " إِذَا خَيَّرَهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَهِيَ وَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَلَا شَيْءَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما دونوں فرماتے ہیں کہ جب خاوند بیوی کو اختیار دے اور بیوی نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا تو یہ ایک طلاق ہے اور آدمی بیوی کا زیادہ حق دار ہے، اگر بیوی نے خاوند کو اختیار کر لیا تو اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15025
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15026
قَالَ: وَنا سُفْيَانُ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي التَّخْيِيرِ مِثْلَ قَوْلِ عُمَرَ وَابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ⦗٥٦٦⦘.
حافظ ثناء اللہ
طاؤس، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اختیار کے بارے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق ہی کہتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15026
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 15027
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا أَبُو عَبَّادٍ، نا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، نا عِيسَى بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ زَاذَانَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَ الْخِيَارَ فَقَالَ: إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ سَأَلَنِي عَنِ الْخِيَارِ فَقُلْتُ: " إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَوَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَوَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا " فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَيْسَ كَذَلِكَ وَلَكِنَّهَا اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَلَيْسَ بِشَيْءٍ، وَإِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَوَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا فَلَمْ أَسْتَطِعْ إِلَّا مُتَابَعَةَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ "، فَلَمَّا خَلَصَ الْأَمْرُ إِلِيَّ وَعَلِمْتُ أَنِّي مَسْئُولٌ عَنِ الْفُرُوجِ أَخَذْتُ بِالَّذِي كُنْتُ أَرَى فَقَالُوا: وَاللهِ لَئِنْ جَامَعْتَ عَلَيْهِ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ وَتَرَكْتَ رَأْيَكَ الَّذِي رَأَيْتَ إِنَّهُ لَأَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ أَمْرٍ تَفَرَّدْتَ بِهِ بَعْدَهُ، قَالَ: فَضَحِكَ، ثُمَّ قَالَ: أَمَا إِنَّهُ قَدْ أَرْسَلَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَسَأَلَ زَيْدًا فَخَالَفَنِي وَإِيَّاهُ، فَقَالَ زَيْدٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَثَلَاثٌ، وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَوَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
عیسیٰ بن عاصم، زاذان سے روایت کرتے ہیں کہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہوں نے اختیار (بیوی کو طلاق کا فیصلہ سونپنے) کا ذکر کیا، پھر کہا کہ امیر المومنین نے مجھ سے اختیار کے بارے میں سوال کیا، میں نے کہا: اگر عورت نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا تو ایک طلاق کی وجہ سے جدا ہو جائے گی۔ اگر اس نے اپنے خاوند کو اختیار کیا تو ایک طلاق ہے، لیکن خاوند عورت کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس طرح نہیں بلکہ اگر عورت نے خاوند کو اختیار کر لیا تو اس کے ذمے کچھ نہیں۔ اگر عورت نے اپنے آپ کو اختیار کیا تو ایک طلاق ہے اور مرد عورت کا زیادہ حق رکھتا ہے اور مجھے سیدنا امیر المومنین عمر رضی اللہ عنہ کی موافقت کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ جب معاملہ خالص مجھ تک محدود ہوا اور میں نے جانا کہ سوال خروج کے متعلق کیا گیا ہے تو پھر میں نے اپنی رائے کو اختیار کیا۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اگر آپ امیر المومنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کی موافقت کرتے اور اپنی رائے کو چھوڑ دیتے تو یہ ہمیں اس سے زیادہ پسند تھا جس میں آپ منفرد ہوئے۔ راوی کہتے ہیں: وہ ہنس پڑے، پھر انہوں نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی جانب کسی کو بھیجا تو اس نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے سوال کیا۔ اس نے میری بھی اور ان کی بھی مخالفت کر دی۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اگر بیوی اپنے آپ کو اختیار کر لے تو اس کو تین طلاقیں ہیں، اور اگر بیوی نے خاوند کو اختیار کر لیا تو اس کو ایک طلاق ہے اور مرد بیوی کا زیادہ حق دار ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15027
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15028
قَالَ: وَنا الزَّعْفَرَانِيُّ، نا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ عِيسَى، عَنْ زَاذَانَ،، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَحْوَهُ.
حافظ ثناء اللہ
خالی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15028
حدیث نمبر: 15029
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَبُو أَحْمَدُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا خَيَّرَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَاخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَهُوَ أَمْلَكُ بِرَجْعَتِهَا وَإِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَتَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ وَهُوَ خَاطِبٌ مِنَ الْخُطَّابِ " قَالَ: وَكَانَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَهِيَ ثَلَاثٌ قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: إِذَا خَيَّرَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَاخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَلَيْسَ بِشَيْءٍ، وَإِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَهُوَ أَمْلَكُ بِرَجْعَتِهَا، قَوْلُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُوَافِقٌ لِقَوْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْخِيَارِ وَبِهِ نَقُولُ لِمُوَافَقَتِهِ السُّنَّةَ الثَّابِتَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّخْيِيرِ وَمُوَافَقَتِهِ مَعْنَى السُّنَّةِ الْمَشْهُورَةِ عَنْ رُكَانَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَتَّةِ أَنَّهَا رَجْعِيَّةٌ إِذَا أَرَادَ بِهَا وَاحِدَةً، وَأَمَّا عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَدِ اخْتَلَفَتِ الرِّوَايَةُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ فَأَشْهَرُهَا مَا رَوَيْنَا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَبُو حَسَّانَ الْأَعْرَجُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
عامر سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کو اختیار دے اور اس نے اپنے خاوند کو اختیار کر لیا تو یہ ایک طلاق ہے اور خاوند رجوع کا زیادہ حق رکھتا ہے۔ اگر عورت نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا تو وہ ایک طلاق سے جدا ہو جائے گی اور وہ شخص نکاح کا پیغام دینے والوں میں سے ہو گا۔
(ب) سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر بیوی نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا تو یہ تین طلاقیں ہیں۔
(ج) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب آدمی اپنی بیوی کو اختیار دے اور بیوی اپنے خاوند کو اختیار کرے تو اس کے ذمہ کچھ نہیں۔ اگر بیوی نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا تو یہ ایک طلاق ہے اور آدمی رجوع کرنے کا مالک ہے، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول اختیار میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول کے موافق ہے اور یہی ہم کہتے ہیں، جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی ﷺ سے اختیار کے بارے میں منقول ہے اور جو حدیثِ رکانہ نبی ﷺ سے تین طلاقوں کے بارے میں ہے کہ جب وہ ایک کا ارادہ کرے گا تو ”یہ طلاق رجعی ہو گی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15029
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15030
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ قَالَا: نا سَعِيدٌ، ⦗٥٦٧⦘ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَوَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَوَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا "، وَبِهِ كَانَ يَأْخُذُ قَتَادَةُ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ رِوَايَتَانِ مُخْتَلِفَتَانِ فِي أَنْفُسِهِمَا مُخَالِفَتَانِ لِمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
ابو حسان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر عورت اپنے آپ کو اختیار کرتی ہے تو ایک طلاق جدا کر دینے والی ہے اور اگر اس نے خاوند کو اختیار کیا تو ایک طلاق ہے اور خاوند عورت کا زیادہ حقدار ہے۔ یہی قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15030
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15031
إِحْدَاهُمَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ أنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، نا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ مِخْوَلٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " إِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَوَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ وَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَلَا شَيْءَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو جعفر، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ: اگر عورت اپنے آپ کو اختیار کرلے تو ایک طلاق جدا کردینے والی ہے اور اگر عورت نے خاوند کو اختیار کرلیا تو اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15031
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 15032
وَالْأُخْرَى مَا أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، نا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبُو السَّفَرِ، عَلَى أَبِي جَعْفَرٍ فَسَأَلْتُهُ عَنِ التَّخْيِيرِ، عَنْ رَجُلٍ خَيَّرَ امْرَأَتَهُ فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَقَالَ: " تَطْلِيقَةٌ وَزَوْجُهَا أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا " قُلْنَا: فَإِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا؟ قَالَ: " فَلَيْسَ بِشَيْءٍ " قُلْنَا: فَإِنَّ نَاسًا يَرْوُونَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " إِنِ اخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَتَطْلِيقَةٌ وَزَوْجُهَا أَحَقُّ بِهَا أَيْ بِرَجْعَتِهَا وَإِنِ اخْتَارَتْ نَفْسَهَا فَتَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ وَهِيَ أَمْلَكُ بِنَفْسِهَا "، قَالَ: هَذَا وَجَدُوهُ فِي الصُّحُفِ "، وَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَالصَّحِيحُ عَنْهُ مَا رَوَيْنَا.
حافظ ثناء اللہ
ابو اسحاق کہتے ہیں: میں اور ابو سفر، ابو جعفر کے پاس گئے تو میں نے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنی بیوی کو اختیار دیا تو بیوی نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا، فرماتے ہیں: یہ ایک طلاق ہے اور اس کا خاوند رجوع کا زیادہ حق رکھتا ہے، ہم نے کہا: اگر عورت خاوند کو اختیار کر لے تو؟ فرمایا: پھر اس کے ذمے کچھ بھی نہیں۔ ہم نے کہا: لوگ علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ اگر عورت خاوند کو اختیار کرتی ہے تو یہ ایک طلاق ہے اور خاوند رجوع کا زیادہ حق رکھتا ہے اور اگر عورت نے اپنے آپ کو اختیار کر لیا تو ایک طلاق جدا کر دینے والی ہے اور عورت اپنے نفس کی زیادہ مالک ہے۔ کہتے ہیں: اسی طرح انہوں نے قرآنِ مجید میں پایا ہے لیکن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے صحیح بات ہم پہلے بیان کر چکے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15032
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15033
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، نا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ: اسْتَفْلِحِي بِأَمْرِكِ أَوْ أَمْرُكِ لَكِ أَوْ وَهَبَهَا لِأَهْلِهَا فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ " كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَالصَّحِيحُ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ قَوْلِ مَسْرُوقٍ.
حافظ ثناء اللہ
مسروق سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی سے کہے: ”تیرا معاملہ تیرے سپرد“ یا اس شخص نے اس عورت کو اس کے گھر والوں کے لیے ہبہ کر دیا تو یہ ایک طلاق بائنہ ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15033
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15034
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، نا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ: اسْتَفْلِحِي بِأَمْرِكِ وَاخْتَارِي أَوْ وَهَبَهَا لِأَهْلِهَا فَهِيَ وَاحِدَةٌ بَائِنَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن وثاب رحمہ اللہ، مسروق رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی سے کہتا ہے: ”تیرا معاملہ تیرے سپرد“ اور ”تو اختیار کر“ یا اس نے اس کے گھر والوں کے لیے ہبہ کر دیا، تو یہ ایک طلاق جدا کر دینے والی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15034
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15035
قَالَ: وَثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ: وَسَأَلْتُ سُفْيَانَ فَقَالَ: هُوَ عَنْ مَسْرُوقٍ يَعْنِي أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ عَنْ عَبْدِ اللهِ وَالصَّحِيحُ عَنْ عَبْدِ اللهِ مَا سَبَقَ ذِكْرُهُ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ مَرْفُوعًا إِلَى عَبْدِ اللهِ فِي الْهِبَةِ فَقَبِلُوهَا فَهِيَ تَطْلِيقَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا.
حافظ ثناء اللہ
شریک، ابوحصین سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ ہبہ کے بارے میں فرماتے ہیں: ”انہوں نے اس کو قبول کر لیا تو یہ ایک طلاق ہے اور مرد، عورت کا زیادہ حق دار ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15035
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 15036
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي نا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّهَا خَطَبَتْ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قُرَيْبَةَ بِنْتَ أَبِي أُمَيَّةَ فَزَوَّجُوهُ ثُمَّ إِنَّهُمْ عَتَبُوا عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالُوا: مَا زَوَّجَنَا إِلَّا عَائِشَةُ فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَجَعَلَ أَمْرَ قُرَيْبَةَ بِيَدِ قُرَيْبَةَ فَاخْتَارَتْ زَوْجَهَا فَلَمْ يَكُنْ ذَلِكَ طَلَاقًا ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن قاسم رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے قریبہ بنت ابی امیہ کو عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما کے لیے نکاح کا پیغام دیا تو انہوں نے ان کا نکاح کر دیا۔ پھر انہوں نے عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو ڈانٹا، انہوں نے کہا کہ ہم نے تو عائشہ رضی اللہ عنہا کے کہنے پر نکاح کیا تھا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا اور یہ بات ذکر کی تو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے قریبہ کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا تو قریبہ نے اپنے خاوند کو اختیار کر لیا، یہ طلاق نہ تھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 15036
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مالك»