کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: شوہر کے لیے اس بات کو پسند کرنے کا بیان کہ وہ صرف ایک ہی طلاق دے۔
حدیث نمبر: 14934
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِتَكُونَ لَهُ الرَّجْعَةُ فِي الْمَدْخُولِ بِهَا وَيَكُونَ خَاطِبًا فِي غَيْرِ الْمَدْخُولِ بِهَا وَمَتَى نُكِحَتْ بَقِيَتْ لَهُ عَلَيْهَا اثْنَتَانِ مِنَ الطَّلَاقِ، وَلَا يَحْرُمُ عَلَيْهِ أَنْ يُطَلِّقَ اثْنَتَيْنِ وَلَا ثَلَاثًا لِأَنَّ اللهَ تَعَالَى جَلَّ ثَنَاؤُهُ أَبَاحَ الطَّلَاقَ عَلَى أَهْلِهِ وَمَا أَبَاحَ فَلَيْسَ بِمَحْظُورٍ عَلَى أَهْلِهِ وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَوْضِعَ الطَّلَاقِ، وَلَوْ كَانَ فِي عَدَدِ الطَّلَاقِ مُبَاحٌ وَمَحْظُورٌ عَلَّمَهُ إِنْ شَاءَ اللهُ إِيَّاهُ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”(ایک طلاق اس لیے دے) تاکہ جس عورت سے دخول ہو چکا ہو اس میں اسے رجوع کا حق حاصل رہے، اور جس سے دخول نہ ہوا ہو اس میں وہ (دوبارہ) نکاح کا پیغام دینے والا بن سکے، اور جب بھی اس سے (دوبارہ) نکاح ہو تو اس پر اس کی دو طلاقیں باقی رہیں۔
اور اس پر دو یا تین طلاقیں دینا حرام نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ جل ثناؤہ نے طلاق کو اس کے اہل کے لیے مباح قرار دیا ہے، اور جو چیز اس نے مباح کی ہو وہ اس کے اہل پر ممنوع نہیں ہوتی، اور (اس لیے بھی) کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو طلاق کا (صحیح) موقع سکھایا، اور اگر طلاق کی تعداد میں کوئی مباح اور کوئی ممنوع ہوتی تو آپ ﷺ ان شاء اللہ انہیں وہ بھی ضرور سکھا دیتے۔“
اور اس پر دو یا تین طلاقیں دینا حرام نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ جل ثناؤہ نے طلاق کو اس کے اہل کے لیے مباح قرار دیا ہے، اور جو چیز اس نے مباح کی ہو وہ اس کے اہل پر ممنوع نہیں ہوتی، اور (اس لیے بھی) کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو طلاق کا (صحیح) موقع سکھایا، اور اگر طلاق کی تعداد میں کوئی مباح اور کوئی ممنوع ہوتی تو آپ ﷺ ان شاء اللہ انہیں وہ بھی ضرور سکھا دیتے۔“
حدیث نمبر: 14934
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، أنا أَبُو دَاوُدَ، نا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا: نا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا إِذَا طَهُرَتْ أَوْ وَهِيَ حَامِلٌ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ. وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ أَيْضًا بِمَا ⦗٥٣٨⦘.
حافظ ثناء اللہ
سالم، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنی عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کو حکم دو کہ وہ رجوع کرے، پھر پاک یا حاملہ ہونے کی صورت میں طلاق دے دے۔“
حدیث نمبر: 14935
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أَنَا الرَّبِيعُ، أَنَا الشَّافِعِيُّ، نا مَالِكٌ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلَانِيَّ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي اللِّعَانِ قَالَ سَهْلٌ: فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلَاعُنِهِمَا قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي الْكِتَابِ: فَقَدْ طَلَّقَ عُوَيْمِرٌ ثَلَاثًا بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ كَانَ ذَلِكَ مُحَرَّمًا لَنَهَاهُ عَنْهُ، وَقَالَ: إِنَّ الطَّلَاقَ وَإِنْ لَزِمَكَ فَأَنْتَ عَاصٍ بِأَنْ تَجْمَعَ ثَلَاثًا فَافْعَلْ، كَذَا قَالَ الشَّيْخُ: وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْمُتَلَاعِنَيْنِ: حِسَابُكُمَا عَلَى اللهِ، أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لَا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا، وَلَيْسَ ذَلِكَ فِي رِوَايَةِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ وَلَا الطَّلَاقُ الثَّلَاثُ فِي رِوَايَةِ ابْنِ عُمَرَ، وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ أَيْضًا بِحَدِيثِ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ ثَلَاثًا، فَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ عویمر عجلانی کے لعان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جب وہ دونوں لعان سے فارغ ہوئے تو عویمر نے کہا کہ اگر میں نے اس کو اپنے نکاح میں باقی رکھا تو گویا میں نے اس پر جھوٹ بولا ہے، تو اس نے رسول اللہ ﷺ کے حکم دینے سے پہلے ہی تین طلاقیں دے دیں۔ کتاب میں ہے کہ عویمر نے نبی ﷺ کے سامنے تین طلاقیں دیں۔ اگر طلاق دینا حرام ہوتا تو آپ ﷺ اسے منع فرما دیتے۔ فرماتے ہیں کہ طلاق اگر آپ نے لازم ہی دینی ہے تو تین طلاقیں اکٹھی دینے سے تو آپ گناہ گار ہوں گے، اس طرح کر لیں۔
شیخ فرماتے ہیں: ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے دو لعان کرنے والوں کے بارے میں فرمایا: ”تم دونوں کا حساب اللہ کے ذمے ہے، تم دونوں میں سے کوئی ایک جھوٹا ہے، اب تمہارا اس پر کوئی اختیار نہیں ہے۔“ یہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی روایت میں نہیں ہے اور تین طلاقیں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں نہیں ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث سے دلیل لی ہے کہ ابو عامر بن حفص نے اسے تین طلاقیں دے دی تھیں اور ہمیں خبر نہیں ملی کہ آپ ﷺ نے اس سے منع کیا ہو۔
شیخ فرماتے ہیں: ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں ہے کہ نبی ﷺ نے دو لعان کرنے والوں کے بارے میں فرمایا: ”تم دونوں کا حساب اللہ کے ذمے ہے، تم دونوں میں سے کوئی ایک جھوٹا ہے، اب تمہارا اس پر کوئی اختیار نہیں ہے۔“ یہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی روایت میں نہیں ہے اور تین طلاقیں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں نہیں ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث سے دلیل لی ہے کہ ابو عامر بن حفص نے اسے تین طلاقیں دے دی تھیں اور ہمیں خبر نہیں ملی کہ آپ ﷺ نے اس سے منع کیا ہو۔
حدیث نمبر: 14936
وَقَدْ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ أنا أَبُو حَامِدٍ الشَّرْقِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أَنَّهَا قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا سُكْنَى وَلَا نَفَقَةً، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ " وَفِي رِوَايَةِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ قَالَتْ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ زَوْجِي طَلَّقَنِي ثَلَاثًا فَأَخَافُ أَنْ يَقْتَحِمَ فَأَمَرَهَا فَتَحَوَّلَتْ.
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دے دیں تو رسول اللہ ﷺ کے پاس معاملہ لایا گیا۔ آپ ﷺ نے اس کے لیے رہائش اور خرچہ مقرر نہیں کیا اور آپ ﷺ نے حکم دیا کہ وہ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت گزارے۔ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں، میں ڈرتی ہوں کہ وہ مشکل میں پڑ جائے گا، آپ ﷺ نے اس کو حکم دیا، وہ وہاں سے چلی گئی۔
حدیث نمبر: 14937
وَأَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ الْأَخْرَمِ نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، نا مُسَدَّدٌ، نا يَحْيَى، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ آخَرُ فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَسُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ؟ قَالَ: " لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا كَمَا ذَاقَ الْأَوَّلُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ بُنْدَارٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَطَلَّقَ رُكَانَةُ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ وَهِيَ تَحْتَمِلُ وَاحِدَةً وَتَحْتَمِلُ الثَّلَاثَ فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِيَّتِهِ وَأَحْلَفَهُ عَلَيْهَا، وَلَمْ نَعْلَمْهُ نَهَى أَنْ يُطَلِّقَ الْبَتَّةَ يُرِيدُ بِهَا ثَلَاثًا، وَطَلَّقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا.
حافظ ثناء اللہ
قاسم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، تو اس عورت سے کسی دوسرے شخص نے نکاح کرنے کے بعد مجامعت سے پہلے طلاق دے دی، تو نبی ﷺ سے پوچھا گیا: کیا یہ عورت پہلے خاوند کے لیے حلال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، یہاں تک کہ دوسرا خاوند اس سے مزہ چکھے جیسا کہ پہلے نے چکھا ہے۔“
نوٹ: امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاقِ بتہ دی تو اس سے ایک یا تین طلاقوں کا احتمال ہو سکتا ہے، تو نبی ﷺ نے ان کی نیت کے بارے میں سوال کیا اور قسم لی، اور ہمیں معلوم نہیں کہ آپ ﷺ نے تین طلاقوں سے منع کیا ہو، اور سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں۔
نوٹ: امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو طلاقِ بتہ دی تو اس سے ایک یا تین طلاقوں کا احتمال ہو سکتا ہے، تو نبی ﷺ نے ان کی نیت کے بارے میں سوال کیا اور قسم لی، اور ہمیں معلوم نہیں کہ آپ ﷺ نے تین طلاقوں سے منع کیا ہو، اور سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں۔
حدیث نمبر: 14938
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ، نا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ، نا سَلَمَةُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَهُ أَنَّ الطَّلَاقَ الثَّلَاثَ بِمَرَّةٍ مَكْرُوهٌ، فَقَالَ " طَلَّقَ حَفْصُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْمُغِيرَةِ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ بِكَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ ثَلَاثًا فَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَابَ ذَلِكَ عَلَيْهِ، وَطَلَّقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيْهِ أَحَدٌ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ. وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي ذَلِكَ أَيْضًا بِمَا رَوَاهُ بِإِسْنَادِهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فِيمَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا لَا يَنْكِحُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ، قَالَ وَمَا عَابَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَلَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَيْهِ أَنْ يُطَلِّقَ ثَلَاثًا وَلَمْ يَقُلْ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو: بِئْسَ مَا صَنَعْتَ حِينَ طَلَّقْتَ ثَلَاثًا، قَالَ الشَّيْخُ: وَتِلْكَ الْآثَارُ تَرِدُ بَعْدَ هَذَا إِنْ شَاءَ اللهُ.
حافظ ثناء اللہ
سلمہ بن ابی سلمہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ذکر ہوا کہ تین طلاقیں ایک ہی مرتبہ دینا مکروہ ہے، فرماتے ہیں: حفص بن عمرو بن مغیرہ نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو ایک ہی مرتبہ تین طلاقیں دیں، ہمیں معلوم نہیں کہ نبی ﷺ نے اس پر عیب لگایا ہو اور سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں تو کسی نے ان پر اعتراض نہیں کیا۔
نوٹ: سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں: جس نے اپنی بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دیں تو وہ دوبارہ اتنی دیر نکاح نہیں کر سکتا، جب تک دوسرا اس سے نکاح کر کے طلاق نہ دے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے اکٹھے تین طلاقیں دینے پر اعتراض نہیں کیا اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے نہیں فرمایا کہ تم نے تین طلاقیں دے کر برا کام کیا ہے۔
نوٹ: سیدنا عبداللہ بن عباس، سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں: جس نے اپنی بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دیں تو وہ دوبارہ اتنی دیر نکاح نہیں کر سکتا، جب تک دوسرا اس سے نکاح کر کے طلاق نہ دے۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے اکٹھے تین طلاقیں دینے پر اعتراض نہیں کیا اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے نہیں فرمایا کہ تم نے تین طلاقیں دے کر برا کام کیا ہے۔
حدیث نمبر: 14939
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، نا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، نا شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ أَنَّ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ حَدَّثَهُ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَهِيَ حَائِضٌ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُتْبِعَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ أُخْرَاوَيْنِ عِنْدَ الْقُرْئَيْنِ الْبَاقِيَيْنِ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا ابْنَ عُمَرَ مَا هَكَذَا أَمَرَكَ اللهُ إِنَّكَ قَدْ أَخْطَأْتَ السُّنَّةَ وَالسُّنَّةُ أَنْ تَسْتَقْبِلَ الطُّهْرَ فَتُطَلِّقَ لِكُلِّ قُرْءٍ " قَالَ: فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَاجَعْتُهَا ثُمَّ قَالَ: " إِذَا طَهُرَتْ فَطَلِّقْ عِنْدَ ذَلِكَ أَوْ أَمْسِكْ "، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفَرَأَيْتَ لَوْ أَنِّي طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا كَانَ يَحِلُّ لِي أَنْ أُرَاجِعَهَا؟ قَالَ: " كَانَتْ تَبِينُ مِنْكَ وَتَكُونُ مَعْصِيَةً " هَذِهِ الزِّيَادَاتُ الَّتِي أُتِيَ بِهَا عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ لَيْسَتْ فِي رِوَايَةِ غَيْرِهِ، وَقَدْ تَكَلَّمُوا فِيهِ، ⦗٥٤١⦘ وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ قَوْلُهُ: " وَتَكُونُ مَعْصِيَةً " رَاجِعًا إِلَى إِيقَاعِ مَا كَانَ يُوقِعُهُ مِنَ الطَّلَاقِ الثَّلَاثِ فِي حَالِ الْحَيْضِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں ایک طلاق دے دی، پھر باقی دو طلاقیں دو حیضوں میں دینے کا ارادہ کیا، بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے تجھے اس طرح حکم نہیں دیا، تو نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے۔ سنت طریقہ یہ ہے کہ تو ایک طہر میں طلاق دے۔“ فرماتے ہیں: مجھے نبی ﷺ نے رجوع کا حکم دیا اور فرمایا: ”جب وہ پاک ہو جائے تو طلاق دو یا روک لو۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں نے اس کو تین طلاقیں دے دیں تو کیا میرے لیے رجوع کرنا جائز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ آپ سے جدا ہو جائے گی اور یہ نافرمانی ہے۔“
یہ زیادتی عطاء خراسانی کی روایت میں آتی ہے، کسی دوسرے کی روایت میں نہیں اور انہوں نے اس بارے میں کلام بھی کیا ہے اور اس کا قول اس کے مشابہ ہے کہ جس طرح حالتِ حیض میں دی گئی طلاق سے رجوع ہے تو اس طرح ایک ہی مرتبہ دی جانے والی تین طلاقیں بھی ہو جاتی ہیں۔
یہ زیادتی عطاء خراسانی کی روایت میں آتی ہے، کسی دوسرے کی روایت میں نہیں اور انہوں نے اس بارے میں کلام بھی کیا ہے اور اس کا قول اس کے مشابہ ہے کہ جس طرح حالتِ حیض میں دی گئی طلاق سے رجوع ہے تو اس طرح ایک ہی مرتبہ دی جانے والی تین طلاقیں بھی ہو جاتی ہیں۔
حدیث نمبر: 14940
وَهَكَذَا مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَا: نا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، نا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يُمْسِكَهَا حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَى، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا حِينَ تَطْهُرُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُجَامِعَهَا فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ " وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ لِأَحَدِهِمْ: إِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا فَقَدْ حُرِّمَتْ عَلَيْكَ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ وَعَصَيْتَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيمَا أَمَرَكَ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِكَ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَزَادَ فِيهِ غَيْرُهُ عَنِ اللَّيْثِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَوْ طَلَّقْتَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَذَا.
حافظ ثناء اللہ
نافع سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں ایک طلاق دے دی تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں رجوع کرنے کا حکم دیا کہ ”پھر طہر تک اسے روکے رکھے، پھر دوسرے حیض کے بعد طہر تک مہلت دے، اگر طلاق دینے کا ارادہ ہو تو حالت طہر میں مجامعت سے پہلے طلاق دے دے، یہ وہ مدت ہے جس کے اندر اللہ رب العزت نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔“ اور جب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں سوال کیا جاتا تو وہ فرماتے کہ اگر آپ نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں تو وہ آپ پر حرام ہو گئی، یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شوہر سے نکاح کرے اور آپ نے اللہ رب العزت کے اس حکم کی نافرمانی کی جو اس نے عورتوں کو طلاق دینے کے بارے میں دیا ہے۔
حدیث نمبر: 14941
أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا ابْنُ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللهِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ قَالَ لِأَحَدِهِمْ: أَمَّا أَنْتَ لَوْ طَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَذَا، وَإِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا فَقَدْ حُرِّمَتْ عَلَيْكَ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ، وَعَصَيْتَ اللهَ فِيمَا أَمَرَكَ بِهِ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِكَ يَعْنِي وَاللهُ أَعْلَمُ لَا رَجْعَةَ فِي الثَّلَاثِ وَإِنَّمَا الرَّجْعَةُ فِي الْمَرَّةِ وَالْمَرَّتَيْنِ يَعْنِي فِي التَّطْلِيقَةِ وَالتَّطْلِيقَتَيْنِ، وَقَوْلُهُ: وَعَصَيْتَ اللهَ فِيمَا أَمَرَكَ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِكَ، يَعْنِي حِينَ طَلَّقْتَهَا فِي حَالِ الْحَيْضِ فَيَكُونُ قَوْلُهُ هَذَا رَاجِعًا إِلَى أَصْلِ الْمَسْأَلَةِ، وَأَمَّا التَّفْصِيلُ فَإِنَّهُ لِأَجْلِ إِثْبَاتِ الرَّجْعَةِ وَقَطْعِهَا لَا لِتَعْلِيقِ الْمَعْصِيَةِ بِأَحَدِهِمَا دُونَ الْآخَرِ، وَاللهُ أَعْلَمُ وَأَمَّا قَوْلُهُ فِي رِوَايَةِ نَافِعٍ: ثُمَّ يُمْسِكُهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا، فَقَدْ قَالَ الشَّافِعِيُّ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ إِنَّمَا أَرَادَ بِذَلِكَ الِاسْتِبْرَاءِ أَنْ يَكُونَ يَسْتَبْرِئُهَا بَعْدَ الْحَيْضَةِ الَّتِي طَلَّقَهَا فِيهَا بِطُهْرٍ تَامٍّ ثُمَّ حَيْضٍ تَامٍّ؛ لِيَكُونَ تَطْلِيقُهَا وَهِيَ تَعْلَمُ عِدَّتَهَا الْحَمْلُ هِيَ أَمِ الْحَيْضُ؛ وَلِيَكُونَ يُطَلِّقُ بَعْدَ عِلْمِهِ بِحَمْلٍ وَهُوَ غَيْرُ جَاهِلٍ بِمَا صَنَعَ أَوْ يَرْغَبُ فَيُمْسِكُ لِلْحَمْلِ وَلِيَكُونَ إِنْ كَانَتْ سَأَلَتِ الطَّلَاقَ غَيْرَ حَامِلٍ أَنْ تَكُفَّ عَنْهُ حَامِلًا، ثُمَّ سَاقَ كَلَامَهُ إِلَى أَنْ قَالَ: مَعَ أَنَّ غَيْرَ نَافِعٍ إِنَّمَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ حَتَّى تَطْهُرَ مِنَ الْحَيْضَةِ ⦗٥٤٢⦘ الَّتِي طَلَّقَهَا فِيهَا ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ وَأَنَسُ بْنُ سِيرِينَ وَسَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ وَغَيْرُهُ خِلَافَ رِوَايَةِ نَافِعٍ قَالَ الشَّيْخُ: الرِّوَايَةُ فِي ذَلِكَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ مُخْتَلِفَةٌ، فَأَمَّا عَنْ غَيْرِهِ فَعَلَى مَا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ.
حافظ ثناء اللہ
نافع فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اگر میں ایک یا دو مرتبہ طلاق دے دیتا تو رسول اللہ ﷺ اسی کا حکم دیتے۔“
(ب) نافع فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی۔ انہوں نے حدیث کو ذکر کیا ہے اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو وہ فرماتے: ”اگر میں اپنی بیوی کو ایک یا دو مرتبہ طلاق دے دیتا تو رسول اللہ ﷺ مجھے یہی حکم دیتے؛ اگر آپ اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنے سے پہلے آپ پر حرام ہے اور آپ نے اللہ کے اس حکم کی نافرمانی کی جو اس نے عورتوں کو طلاق دینے کے بارے میں کیا ہے، یعنی تین طلاقوں کے بعد رجوع نہیں ہے اور رجوع صرف ایک یا دو طلاقوں کے بعد ہوتا ہے۔“
اور ان کا قول: «وَعَصَیْتَ اللَّہَ فِیمَا أَمَرَکَ مِنْ طَلاَقِ امْرَأَتِکَ» ”اور آپ نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں اللہ کے حکم کی نافرمانی کی“، یعنی جب آپ نے حالتِ حیض میں طلاق دی تو بات اصل مسئلہ کی طرف لوٹے گی کہ رجوع کیا جائے یا نہیں، اس کا تعلق نافرمانی سے نہیں ہے۔
نافع کی روایت: «ثُمَّ يُمْسِكُهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ يُمْهِلُهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا» ”پھر وہ اسے روکے رکھے یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر اس کے پاس اسے دوسرا حیض آئے، پھر اسے مہلت دے یہاں تک کہ وہ اپنے حیض سے پاک ہو جائے“؛ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ احتمال ہے کہ اس سے استبراءِ رحم مراد ہو جو ایک طہر اور مکمل حیض سے مراد لیا جا رہا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس کی عدت وضعِ حمل یا حیض مقرر کی جائے یا تو حمل کا معلوم ہونے کے بعد طلاق دے یا حمل کے لیے روک لے۔ اگر اس عورت نے بغیر حمل کے طلاق کا مطالبہ کر دیا تو حمل ہونے تک آپ رک جائیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ جس حیض میں طلاق دی وہ اس سے پاک ہو جائے تو پھر طلاق دے یا روک لے۔
(ب) نافع فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی۔ انہوں نے حدیث کو ذکر کیا ہے اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں سوال کیا گیا تو وہ فرماتے: ”اگر میں اپنی بیوی کو ایک یا دو مرتبہ طلاق دے دیتا تو رسول اللہ ﷺ مجھے یہی حکم دیتے؛ اگر آپ اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنے سے پہلے آپ پر حرام ہے اور آپ نے اللہ کے اس حکم کی نافرمانی کی جو اس نے عورتوں کو طلاق دینے کے بارے میں کیا ہے، یعنی تین طلاقوں کے بعد رجوع نہیں ہے اور رجوع صرف ایک یا دو طلاقوں کے بعد ہوتا ہے۔“
اور ان کا قول: «وَعَصَیْتَ اللَّہَ فِیمَا أَمَرَکَ مِنْ طَلاَقِ امْرَأَتِکَ» ”اور آپ نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں اللہ کے حکم کی نافرمانی کی“، یعنی جب آپ نے حالتِ حیض میں طلاق دی تو بات اصل مسئلہ کی طرف لوٹے گی کہ رجوع کیا جائے یا نہیں، اس کا تعلق نافرمانی سے نہیں ہے۔
نافع کی روایت: «ثُمَّ يُمْسِكُهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ يُمْهِلُهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا» ”پھر وہ اسے روکے رکھے یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر اس کے پاس اسے دوسرا حیض آئے، پھر اسے مہلت دے یہاں تک کہ وہ اپنے حیض سے پاک ہو جائے“؛ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ احتمال ہے کہ اس سے استبراءِ رحم مراد ہو جو ایک طہر اور مکمل حیض سے مراد لیا جا رہا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس کی عدت وضعِ حمل یا حیض مقرر کی جائے یا تو حمل کا معلوم ہونے کے بعد طلاق دے یا حمل کے لیے روک لے۔ اگر اس عورت نے بغیر حمل کے طلاق کا مطالبہ کر دیا تو حمل ہونے تک آپ رک جائیں۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ جس حیض میں طلاق دی وہ اس سے پاک ہو جائے تو پھر طلاق دے یا روک لے۔
حدیث نمبر: 14942
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ قَالَ: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ وَأَنَسُ بْنُ سِيرِينَ وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ وَمَنْصُورٌ عَنْ أَبِي وَائِلٍ، مَعْنَاهُمْ كُلُّهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ طَلَّقَ وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَمَّا رِوَايَةُ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَرِوَايَةُ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ " أَنْ يُرَاجِعَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ إِنْ شَاءَ طَلَّقَ أَوْ أَمْسَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابو وائل رحمہ اللہ بھی ان کے ہم معنیٰ روایت نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”اس کو رجوع کا حکم فرمایا یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، اس کے بعد طلاق دینا چاہے یا روکنا چاہے، اس کی مرضی ہے۔“
(ب) نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”رجوع کا حکم دیا یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر حیض آئے اور پاک ہو جائے، اگر چاہے تو طلاق دے یا روک لے۔“
(ب) نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ”رجوع کا حکم دیا یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر حیض آئے اور پاک ہو جائے، اگر چاہے تو طلاق دے یا روک لے۔“
حدیث نمبر: 14943
وَأَمَّا الْأَثَرُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، نا إِسْمَاعِيلُ، أنا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، قَالَ: فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ رَادُّهَا إِلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ فَيَرْكَبُ الْحُمُوقَةَ ثُمَّ يَقُولُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ وَإِنَّ اللهَ جَلَّ ثَنَاؤُهُ قَالَ: {وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا} [الطلاق: ٢] وَإِنَّكَ لَمْ تَتَّقِ اللهَ فَلَا أَجِدُ لَكَ مَخْرَجًا عَصَيْتَ رَبَّكَ وَبَانَتْ مِنْكَ امْرَأَتُكَ وَإِنَّ اللهَ قَالَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ} [الطلاق: ١] " فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ " هَكَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ ثَلَاثًا.
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس تھا کہ ان کے پاس آکر ایک شخص نے کہا: اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما خاموش ہو گئے، ہم نے گمان کیا کہ اس کی بیوی کو واپس کر دیں گے۔ پھر فرمانے لگے کہ تم میں کوئی ایک بے وقوفی والا کام کرتا ہے، پھر کہتا ہے: اے ابن عباس! اے ابن عباس! اللہ رب العزت فرماتے ہیں: ﴿وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًا﴾ [سورة الطلاق: 2] ”جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے نکالنے کا راستہ بنا دیتا ہے۔“ آپ اللہ سے ڈرے نہیں، میں آپ کے لیے نکالنے کی راہ نہیں پاتا، آپ نے اللہ کی نافرمانی کی ہے آپ کی بیوی آپ سے جدا ہو گئی۔ اللہ کا فرمان ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ [سورة الطلاق: 1] ان تین روایات میں اسی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 14944
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهَ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ مِائَةَ تَطْلِيقَةٍ قَالَ: عَصَيْتَ رَبَّكَ وَبَانَتْ مِنْكَ امْرَأَتُكَ لَمْ تَتَّقِ اللهَ فَيَجْعَلْ لَكَ مَخْرَجًا، ثُمَّ قَرَأَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ} [الطلاق: ١] " فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان سے ایک آدمی کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دی تھیں، انہوں نے فرمایا کہ تو نے اللہ کی نافرمانی کی، تیری بیوی تجھ سے الگ ہو گئی، تو اللہ سے ڈرا نہیں تاکہ اللہ تیرے لیے نکلنے کی راہ بنا دیتا۔ ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ [سورة الطلاق: 1]
حدیث نمبر: 14945
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، نا ابْنُ صَاعِدٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ أَلْفًا قَالَ: " أَمَّا ثَلَاثٌ فَتَحْرُمُ عَلَيْكَ امْرَأَتُكَ وَبَقِيَّتُهُنَّ عَلَيْكَ وِزْرٌ أَتَّخَذْتَ آيَاتِ اللهِ هُزُوًا؟ " ⦗٥٤٣⦘ فَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ جَعَلَ الْوِزْرَ فِيمَا فَوْقَ الثَّلَاثِ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرَوَاهُ الشَّافِعِيُّ عَنِ الزَّنْجِيِّ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي مِائَةٍ قَالَ: وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ اتَّخَذْتَ آيَاتِ اللهِ هُزُوًا، قَالَ الشَّافِعِيُّ فَعَابَ عَلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ كُلَّ مَا زَادَ مِنْ عَدَدِ الطَّلَاقِ الَّذِي لَمْ يَجْعَلِ اللهُ إِلَيْهِ وَلَمْ يَعِبْ عَلَيْهِ مَا جَعَلَ اللهُ إِلَيْهِ مِنَ الثَّلَاثِ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن جبیر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں نقل فرماتے ہیں جس نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دے دیں، فرمانے لگے: تین طلاقوں نے تیری بیوی کو تجھ پر حرام کر دیا اور باقی تیرے ذمے گناہ ہے جو تو نے اللہ کی آیات کے ساتھ مذاق کیا ہے، تو یہ حدیث تین سے زیادہ طلاقیں دینے کے گناہ پر دلالت کرتی ہے۔
(ب) حضرت عطاء، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے 100 سو طلاقوں کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ 97 ستانوے میں تم نے اللہ کی آیات کے ساتھ مذاق کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے تین سے زیادہ طلاقیں دینے پر عیب لگایا ہے۔
(ب) حضرت عطاء، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے 100 سو طلاقوں کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ 97 ستانوے میں تم نے اللہ کی آیات کے ساتھ مذاق کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے تین سے زیادہ طلاقیں دینے پر عیب لگایا ہے۔
حدیث نمبر: 14946
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ أَبِي اللَّيْثِ حَدَّثَهُ، نا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: " مَنْ أَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَ لِلسُّنَّةِ كَمَا أَمَرَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فَلْيُنْظِرْهَا حَتَّى تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ ثُمَّ لِيُطَلِّقْهَا طَاهِرًا فِي غَيْرِ جِمَاعٍ وَيُشْهِدُ رَجُلَيْنِ ثُمَّ لِيُنْظِرْهَا حَتَّى تَحِيضَ ثُمَّ تَطْهُرَ فَإِنْ شَاءَ رَاجَعَ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کا ارادہ مسنون طلاق کا ہو تو وہ ایسا طریقہ اختیار کرے جس کا اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے کہ وہ حیض کے بعد طہر کا انتظار کرے، پھر اس طہر میں بغیر جماع کے طلاق دے دے اور دو مردوں کو گواہ بنائے، پھر وہ حیض کے بعد طہر کا انتظار کر لے، اگر چاہے تو رجوع کر لے اور چاہے تو طلاق دے دے۔
حدیث نمبر: 14947
وَرَوَاهُ الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " طَلَاقُ السُّنَّةِ أَنْ يُطَلِّقَهَا فِي كُلِّ طُهْرٍ تَطْلِيقَةً فَإِذَا كَانَ آخِرُ ذَلِكَ فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللهُ بِهَا " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ السُّلَمِيُّ أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ نا الْحُسَيْنُ وَالْقَاسِمُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الْمَحَامِلِيُّ قَالَا: نا أَبُو السَّائِبِ سَلَمُ بْنُ جُنَادَةَ نا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنِ الْأَعْمَشِ فَذَكَرَهُ وَنَحْنُ هَكَذَا نَسْتَحِبُّ أَنْ يَفْعَلَ، وَقَدْ رُوِّينَا أَيْضًا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ جَعَلَ الْعُدْوَانَ فِي الزِّيَادَةِ عَلَى الثَّلَاثِ وَاللهُ أَعْلَمُ وَهُوَ فِيمَا رَوَاهُ يُوسُفُ الْقَاضِي عَنْ عَمْرِو بْنِ مَرْزُوقٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ⦗٥٤٤⦘ مَسْرُوقٍ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ لِعَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ مِائَةً قَالَ: بَانَتْ بِثَلَاثٍ وَسَائِرُ ذَلِكَ عُدْوَانٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابواحوص سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ طلاق دینے کا سنت طریقہ یہ ہے کہ ہر طہر میں طلاق دی جائے۔ جب یہ آخری ہو تو یہ وہ عدت ہے جس کا اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے۔
(ب) حفص بن غیاث، اعمش سے ذکر کرتے ہیں کہ اس طرح طلاق دینا ہم مستحب سمجھتے ہیں۔
(ج) مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کسی آدمی نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دیں۔ انہوں نے فرمایا کہ تین کی وجہ سے وہ جدا ہو گئیں اور باقی ساری نافرمانی کا ذریعہ ہیں۔
(ب) حفص بن غیاث، اعمش سے ذکر کرتے ہیں کہ اس طرح طلاق دینا ہم مستحب سمجھتے ہیں۔
(ج) مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کسی آدمی نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دیں۔ انہوں نے فرمایا کہ تین کی وجہ سے وہ جدا ہو گئیں اور باقی ساری نافرمانی کا ذریعہ ہیں۔
حدیث نمبر: 14948
وَأَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ إِجَازَةً، أنا أَبُو الْوَلِيدِ، نا ابْنُ زُهَيْرٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، وَالْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللهِ فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي مِائَةً قَالَ: " بَانَتْ مِنْكَ بِثَلَاثٍ وَسَائِرُهُنَّ مَعْصِيَةٌ ".
حافظ ثناء اللہ
علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے کہا: ”میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دی ہیں۔“ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تین کی وجہ سے وہ جدا ہو گئیں اور باقی ساری نافرمانی ہے۔“
حدیث نمبر: 14949
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا حُمَيْدٌ عَنْ وَاقِعِ بْنِ سَحْبَانَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ: رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا وَهُوَ فِي مَجْلِسٍ قَالَ: " أَثِمَ بِرَبِّهِ وَحَرُمَتْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ " قَالَ: فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ فَذَكَرَ ذَلِكَ لِأَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُرِيدُ بِذَلِكَ عَيْبَهُ فَقَالَ: أَلَا تَرَى أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ: كَذَا وَكَذَا؟ فَقَالَ أَبُو مُوسَى: أَكْثَرَ اللهُ فِينَا مِثْلَ أَبِي نُجَيْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
حمید بن واقع بن سحبان فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کے پاس آیا جس وقت وہ مسجد میں تھے۔ اس شخص نے کہا کہ اس نے اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دی ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے اور اس کی بیوی اس پر حرام ہوگئی ہے۔ پھر اس آدمی نے جا کر سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس اس کا ذکر کیا۔ وہ اس پر عیب نکالنے کا ارادہ رکھتا تھا اور کہنے لگا: آپ کا کیا خیال ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما اس طرح کہتے ہیں؟ تو سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ رب العزت ابونجید رضی اللہ عنہما جیسے شخص ہم میں زیادہ کر دے۔