کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بیان میں کہ حائضہ کو دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے اگرچہ وہ طلاقِ بدعی ہو۔
حدیث نمبر: 14918
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: بَيِّنٌ يَعْنِي فِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ الطَّلَاقَ يَقَعُ عَلَى الْحَائِضِ؛ لِأَنَّهُ إِنَّمَا يُؤْمَرُ بِالْمُرَاجَعَةِ مَنْ لَزِمَهُ الطَّلَاقُ، فَأَمَّا مَنْ لَمْ يَلْزَمْهُ الطَّلَاقُ فَهُوَ بِحَالِهِ قَبْلَ الطَّلَاقِ. قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ ذَكَرْنَا حَدِيثَ سَالِمٍ وَنَافِعٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یعنی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں یہ بات واضح ہے کہ حیض والی عورت پر طلاق واقع ہو جاتی ہے، کیونکہ رجوع کا حکم اسی کو دیا جاتا ہے جس پر طلاق لازم ہو چکی ہو، رہا وہ شخص جس پر طلاق لازم ہی نہ ہوئی ہو تو وہ اپنی اسی حالت پر ہے جو طلاق سے پہلے تھی۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ہم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سالم، نافع اور عبداللہ بن دینار رحمہم اللہ کی (روایت کردہ) حدیث ذکر کر چکے ہیں۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ہم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سالم، نافع اور عبداللہ بن دینار رحمہم اللہ کی (روایت کردہ) حدیث ذکر کر چکے ہیں۔“
حدیث نمبر: 14918
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَصَمُّ إِمْلَاءً نا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، نا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، نا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ قُلْتُ: رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَقَالَ: تَعْرِفُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ ⦗٥٣٣⦘ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَأَتَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ " فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يُطَلِّقَهَا فِي قُبُلِ عِدَّتِهَا "، قَالَ: قُلْتُ: فَيَعْتَدُّ بِهَا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ: فَيُعْتَدُّ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ؟ قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ.
حافظ ثناء اللہ
یونس بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: جس شخص نے اپنی عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی (اس کا کیا حکم ہے)؟ کہتے ہیں: کیا تم ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جانتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں۔ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ نے رجوع کا حکم فرمایا اور فرمایا: ”پھر وہ عدت سے پہلے طلاق دے۔“ میں نے کہا: کیا اس طلاق کو شمار کیا جائے گا؟ اس نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے، اگر وہ عاجز آجائے یا بے وقوف ہوجائے۔
(ب) حجاج بن منہال نے کہا کہ وہ ایک طلاق شمار کی جائے گی اور وہ عدت گزارے گی۔
(ب) حجاج بن منہال نے کہا کہ وہ ایک طلاق شمار کی جائے گی اور وہ عدت گزارے گی۔
حدیث نمبر: 14919
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا أَبُو الرَّبِيعِ، وَمُسَدَّدٌ قَالَا: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، قُلْتُ: رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ: تَعْرِفُ ابْنَ عُمَرَ؟ إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا " قُلْتُ: فَيُعْتَدُّ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ؟ قَالَ: فَمَهْ أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
حافظ ثناء اللہ
یونس بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا مرد اپنی عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دے دے؟ تو فرمانے لگے: ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جانتے ہو، اس نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تھی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے پوچھا، آپ ﷺ نے ”رجوع“ کا حکم دیا۔ میں نے کہا: کیا وہ ایک طلاق شمار کی جائے گی؟ فرمانے لگے: اگر وہ عاجز آ جائے یا بے وقوف ہو جائے۔
حدیث نمبر: 14920
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرُوَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ، بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، نا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ جُبَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ فَأَتَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيُرَاجِعْهَا فَإِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْهَا " قَالَ: فَقُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ فَاحْتَسَبْتَ بِهَا قَالَ: فَمَا يَمْنَعُهُ أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ لَفْظُ حَدِيثِ غُنْدَرٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ شُعْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.
حافظ ثناء اللہ
یونس بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو بتایا، نبی ﷺ نے فرمایا: ”وہ رجوع کرے اور حالتِ طہر میں طلاق دے دے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: کیا آپ نے اس کو شمار کیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: بھلا اس میں کون سی چیز رکاوٹ ہے؟ آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر وہ عاجز آ جائے یا بیوقوف ہو؟
حدیث نمبر: 14921
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، نا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ: فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَقَالَ: " لِيُرَاجِعْهَا فَإِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْهَا " قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ يَعْنِي لِابْنِ عُمَرَ: يُحْتَسَبُ بِهَا؟ قَالَ: فَمَهْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ شُعْبَةَ،.
حافظ ثناء اللہ
انس بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ میں نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو بتایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ رجوع کرے اور حالتِ طہر میں طلاق دے دے۔“ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا یہ شمار کی جائے گی؟ انہوں نے فرمایا: ٹھہریے۔
حدیث نمبر: 14922
وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ ⦗٥٣٤⦘ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " فَلْيُطَلِّقْهَا إِنْ شَاءَ " قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفَتَحْتَسِبُ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ؟ قَالَ: " نَعَمْ ".
حافظ ثناء اللہ
انس بن سیرین نے اس کی مانند ذکر کیا ہے کہ اگر چاہے تو طلاق دے دے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا اس کو ایک طلاق شمار کیا جائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“
حدیث نمبر: 14923
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ امْرَأَتِهِ الَّتِي طَلَّقَ فَقَالَ: طَلَّقْتُهَا وَهِيَ حَائِضٌ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا فَإِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْهَا لِطُهْرِهَا " قَالَ: فَرَاجَعْتُهَا ثُمَّ طَلَّقْتُهَا لِطُهْرِهَا، قُلْتُ: فَاعْتَدَّتْ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ الَّتِي طُلِّقَتْ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: مَالِي لَا أَعْتَدُّ بِهَا وَإِنْ كُنْتَ عَجَزْتَ وَاسْتَحْمَقْتَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
انس بن سیرین فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ان کی بیوی کے بارے میں پوچھا جس کو انہوں نے طلاق دی تھی؟ انہوں نے کہا: میں نے حالتِ حیض میں طلاق دی تھی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کو بتایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے حکم دو کہ وہ رجوع کرے۔ جب پاک ہو جائے تو طہر کی حالت میں طلاق دے۔“ کہتے ہیں: میں نے رجوع کر کے حالتِ طہر میں طلاق دے دی۔ میں نے کہا: کیا اس حالتِ حیض میں دی گئی طلاق کو شمار کیا جائے گا؟ فرمانے لگے: مجھے کیا ہے کہ میں اس کو شمار نہ کروں، اگرچہ میں بوڑھا اور بیوقوف ہی کیوں نہ ہو جاؤں۔
حدیث نمبر: 14924
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَبُو عَبْدِ اللهِ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا، فَقَالَ أَتَعْرِفُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا فَذَهَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْتَجِعَهَا قَالَ: لَمْ أَسْمَعْهُ يَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ لِأَبِيهِ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن طاؤس اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص کے متعلق سنا جس نے اپنی عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تھی، فرمانے لگے: کیا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو جانتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں، فرمانے لگے: اس نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تھی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس گئے اور بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ رجوع کرے۔“
حدیث نمبر: 14925
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا قَبِيصَةُ، نا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يُرَاجِعَهَا حَتَّى تَطْهُرَ فَإِذَا طَهُرَتْ طَلَّقَهَا.
حافظ ثناء اللہ
ابووائل فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تو نبی ﷺ نے انہیں رجوع کا حکم فرمایا: ”یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، جب پاک ہو جائے تو اسے طلاق دے دینا۔“
حدیث نمبر: 14926
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ نا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، نا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ أَبُو جَعْفَرٍ إِمْلَاءً مِنْ كِتَابِهِ نا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ: طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ وَاحِدَةً فَانْطَلَقَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ " فَأَمَرَهُ إِذَا طَهُرَتْ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يَسْتَقْبِلَ الطَّلَاقَ فِي عِدَّتِهَا ثُمَّ تَحْتَسِبُ بِالتَّطْلِيقَةِ الَّتِي طَلَّقَ أَوَّلَ مَرَّةٍ ".
حافظ ثناء اللہ
عامر فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں ایک طلاق دے دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو خبر دی۔ آپ ﷺ نے حکم دیا: ”جب وہ پاک ہو جائے تو وہ رجوع کرے، پھر اس کی عدت میں طلاق دے دے، جو اس نے پہلی طلاق دی ہے اس کو ایک شمار کر لیا جائے۔“ [حسن]
حدیث نمبر: 14927
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، نا أَبُو الْمَلِيحِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ ⦗٥٣٥⦘ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فِي حَيْضَتِهَا قَالَ: فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنْ يَرْتَجِعَهَا حَتَّى تَطْهُرَ فَإِذَا طَهُرَتْ فَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَ ".
حافظ ثناء اللہ
میمون بن مہران فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ ”وہ اس سے رجوع کر لیں یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر اگر وہ چاہیں تو طلاق دے دیں اور اگر چاہیں تو اسے (اپنے پاس) رکھ لیں، مجامعت کرنے سے پہلے پہلے۔“
حدیث نمبر: 14928
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَأَتَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ " فَجَعَلَهَا وَاحِدَةً " قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ: نا عَبْدُ الْوَارِثِ أَخْبَرَنَاهُ أَيُّوبُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: حُسِبَتْ عَلَيَّ بِتَطْلِيقَةٍ.
حافظ ثناء اللہ
نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ ﷺ نے اسے ایک طلاق شمار کیا۔
(ب) سعید بن جبیر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میرے ذمے ایک طلاق شمار کی گئی۔
(ب) سعید بن جبیر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میرے ذمے ایک طلاق شمار کی گئی۔
حدیث نمبر: 14929
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ مَوْلَى عُرْوَةَ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ قَالَ: كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا قَالَ: طَلَّقَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ عَبْدُ اللهِ فَرَدَّهَا عَلَيَّ وَلَمْ يَرَهَا شَيْئًا، وَقَالَ: " إِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْ أَوْ لِيُمْسِكْ " قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: ١] أَيْ فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ قَالَ مُسْلِمٌ: أَخْطَأَ حَيْثُ قَالَ عُرْوَةُ وَإِنَّمَا هُوَ مَوْلَى عَزَّةَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَأَبِي عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَفِيهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيُرَاجِعْهَا " فَرَدَّهَا وَهُوَ فِي رِوَايَةِ بَعْضِهِمْ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ قَالَ: فَقَالَ لِي: رَاجِعْهَا فَرَدَّهَا عَلَيَّ وَلَمْ يَرَهَا شَيْئًا.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ایمن نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا اور ابو زبیر سن رہے تھے کہ آپ کا ایسے شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے حالتِ حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی؟ وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ کے دور میں اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دی تھی، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی ہے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اس کو واپس کر دیا اور اس کو کچھ بھی خیال نہ کیا اور فرمایا: ”طہارت کے بعد وہ طلاق دے یا روک لے۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ [سورة الطلاق: 1] «أَيْ قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ»۔
(ب) ابن جریج فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”وہ رجوع کرے“ اور آپ ﷺ نے اس کی بیوی کو واپس کر دیا۔
(ج) عبدالرزاق فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے مجھے فرمایا: ”رجوع کر لو“ اور میری بیوی کو میری طرف لوٹا دیا۔
(ب) ابن جریج فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”وہ رجوع کرے“ اور آپ ﷺ نے اس کی بیوی کو واپس کر دیا۔
(ج) عبدالرزاق فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے مجھے فرمایا: ”رجوع کر لو“ اور میری بیوی کو میری طرف لوٹا دیا۔
حدیث نمبر: 14930
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَحَدِيثُ أَبِي الزُّبَيْرِ شَبِيهٌ بِهِ يَعْنِي بِمَا رَوَى نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَمْرِ بِالرَّجْعَةِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَنَافِعٌ أَثْبَتُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ وَالْأَثْبَتُ مِنَ الْحَدِيثَيْنِ أَوْلَى أَنْ يُقَالَ بِهِ إِذَا خَالَفَهُ قَالَ: وَقَدْ وَافَقَ نَافِعٌ غَيْرَهُ مِنْ أَهْلِ الثَّبْتِ فِي الْحَدِيثِ فَقِيلَ لَهُ: أَحُسِبَتْ تَطْلِيقَةُ ابْنِ عُمَرَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَطْلِيقَةً؟ قَالَ: فَمَهْ وَإِنْ عَجَزَ، يَعْنِي أَنَّهَا حُسِبَتْ ⦗٥٣٦⦘ وَالْقُرْآنُ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهَا تُحْسَبُ قَالَ اللهُ تَعَالَى: {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: ٢٢٩] لَمْ يُخَصِّصْ طَلَاقًا دُونَ طَلَاقٍ ثُمَّ سَاقَ الْكَلَامَ إِلَى أَنْ قَالَ: وَقَدْ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ لَمْ تُحْسَبْ شَيْئًا صَوَابًا غَيْرَ خَطَأٍ كَمَا يُقَالُ لِلرَّجُلِ فِي فِعْلِهِ، وَأَخْطَأَ فِي جَوَابٍ أَجَابَ بِهِ لَمْ يَصْنَعْ شَيْئًا يَعْنِي لَمْ يَصْنَعْ شَيْئًا صَوَابًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے رجوع کے حکم کے بارے میں نقل فرماتے ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ کے دور میں جو اپنی بیوی کو طلاق دی اسے ایک شمار کیا تھا؟ فرمایا: رکیے، ہاں اسے ایک شمار کیا گیا اور قرآن کی آیت بھی اس پر دلالت کرتی ہے: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229]
امام شافعی رحمہ اللہ سے کہا گیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ کے دور میں جو اپنی بیوی کو طلاق دی اسے ایک شمار کیا تھا؟ فرمایا: رکیے، ہاں اسے ایک شمار کیا گیا اور قرآن کی آیت بھی اس پر دلالت کرتی ہے: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229]
حدیث نمبر: 14931
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ هُوَ السِّجِسْتَانِيُّ قَالَ: الْأَحَادِيثُ كُلُّهَا عَلَى خِلَافِ مَا قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ تمام احادیث ابوزبیر کے قول کے خلاف ہیں۔
حدیث نمبر: 14932
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَوَارِسِ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْفَوَارِسِ أَخُو الشَّيْخِ أَبِي الْفَتْحِ الْحَافِظِ رَحِمَهُ اللهُ بِبَغْدَادَ نا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمٍ نا أَبُو جَعْفَرِ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، ثنا أَبُو الصَّلْتِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أبي أُمَيَّةَ الذَّرَّاعُ مِنْ حِفْظِهِ ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ طَلَّقَ لِلْبِدْعَةِ أَلْزَمْنَاهُ بِدْعَتَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے طلاقِ بدعت دے دی تو ہم اسی طلاقِ بدعت کو لازم کر دیں گے۔“
حدیث نمبر: 14933
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنَا أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيِّ الْحَافِظُ قَالَ: إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمِصْرِيُّ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
حافظ ثناء اللہ