کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: تین طلاقوں کو نافذ کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان اگرچہ وہ بیک وقت دی گئی ہوں۔
حدیث نمبر: 14950
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: 229] وَقَالَ: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ} [البقرة: 230]⦗545⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فَالْقُرْآنُ وَاللهُ أَعْلَمُ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ مَنْ طَلَّقَ زَوْجَةً لَهُ دَخَلَ بِهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا ثَلَاثًا لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ ”طلاق (رجعی) دو مرتبہ ہے، پھر یا تو دستور کے مطابق روک لینا ہے یا اچھے طریقے سے رخصت کر دینا ہے۔“ [سورة البقرة: 229]
اور فرمایا: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ ”پھر اگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور شوہر سے نکاح کرے۔“ [سورة البقرة: 230]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پس قرآن، اور اللہ بہتر جانتا ہے، اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جس شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، خواہ اس سے دخول کر چکا ہو یا نہ کیا ہو، تو وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور شوہر سے نکاح کرے۔“
اور فرمایا: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ ”پھر اگر وہ اسے (تیسری) طلاق دے دے تو اس کے بعد وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور شوہر سے نکاح کرے۔“ [سورة البقرة: 230]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”پس قرآن، اور اللہ بہتر جانتا ہے، اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جس شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، خواہ اس سے دخول کر چکا ہو یا نہ کیا ہو، تو وہ اس کے لیے حلال نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور شوہر سے نکاح کرے۔“
حدیث نمبر: 14950
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، نا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، نا يَعْلَى بْنُ شَبِيبٍ الْمَكِّيُّ، نا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " كَانَ الرَّجُلُ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ مَا شَاءَ أَنْ يُطَلِّقَهَا وَإِنْ طَلَّقَهَا مِائَةً أَوْ أَكْثَرَ إِذَا ارْتَجَعَهَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا حَتَّى قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ: وَاللهِ لَا أُطَلِّقُكِ فَتَبِينِي مِنِّي، وَلَا أُؤْوِيكِ إِلِيَّ، قَالَتْ: وَكَيْفَ ذَاكَ، قَالَ: أُطَلِّقُكِ فَكُلَّمَا هَمَّتْ عِدَّتُكِ أَنْ تَنْقَضِيَ ارْتَجَعْتُكِ ثُمَّ أُطَلِّقُكِ وَأَفْعَلُ هَكَذَا فَشَكَتِ الْمَرْأَةُ ذَلِكَ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَكَتَ فَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ: {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: ٢٢٩] فَاسْتَأْنَفَ النَّاسُ الطَّلَاقَ مَنْ شَاءَ طَلَّقَ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يُطَلِّقْ " وَرَوَاهُ أَيْضًا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَالْحُمَيْدِيُّ عَنْ يَعْلَى بْنِ شَبِيبٍ وَكَذَلِكَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ بِمَعْنَاهُ وَرُوِيَ نُزُولُ الْآيَةِ فِيهِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مرد اپنی عورت کو جب چاہتا طلاق دے دیتا، اگرچہ سو یا اس سے زیادہ ہوتیں۔ جب عدت گزرنے سے پہلے بیوی کو واپس لاتا تو اپنی بیوی سے کہہ دیتا: نہ تو طلاق دے کر تجھے اپنے سے دور کروں گا اور نہ ہی اپنے پاس جگہ دوں گا۔ اس عورت نے کہا: وہ کیسے؟ کہتا: میں تجھے طلاق دوں گا جب تیری عدت ختم ہونے کے قریب ہوگی، پھر میں تجھ سے رجوع کر لوں گا پھر میں تجھے طلاق دوں گا اور اس طرح کرتا رہوں گا۔ اس عورت نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس شکایت کی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کے پاس اس کا ذکر کیا، آپ ﷺ خاموش ہو گئے، کچھ نہیں فرمایا، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229] تو لوگوں نے نئے سر سے طلاق دینا شروع کی، جو چاہے طلاق دے دے جو چاہے طلاق نہ دے۔
حدیث نمبر: 14951
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ ارْتَجَعَهَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا كَانَ ذَلِكَ لَهُ وَإِنْ طَلَّقَهَا أَلْفَ مَرَّةٍ فَعَمَدَ رَجُلٌ إِلَى امْرَأَةٍ لَهُ فَطَلَّقَهَا ثُمَّ أَمْهَلَهَا حَتَّى إِذَا شَارَفَتِ انْقِضَاءَ عِدَّتِهَا ارْتَجَعَهَا ثُمَّ طَلَّقَهَا وَقَالَ: وَاللهِ لَا أُؤْوِيكِ إِلِيَّ وَلَا تَخْلِينَ أَبَدًا، فَأَنْزَلَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: ٢٢٩] فَاسْتَقْبَلَ النَّاسُ الطَّلَاقَ جَدِيدًا مِنْ يَوْمِئِذٍ مَنْ كَانَ مِنْهُمْ طَلَّقَ أَوْ لَمْ يُطَلِّقْ " هَذَا مُرْسَلٌ وَهُوَ الصَّحِيحُ قَالَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ مرد اپنی بیوی کو طلاق دیتا، پھر عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کر لیتا تو یہ اسی کی ہوتی، اگرچہ ہزار طلاقیں بھی دے دے۔ تو ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا ارادہ کیا، پھر مہلت دی، جب عدت ختم ہونے کے قریب ہوئی تو رجوع کر کے پھر طلاق دے دی اور اس نے کہا: نہ تو اپنے پاس رکھوں گا اور نہ ہی تجھے چھوڑوں گا؛ تو اللہ رب العزت نے فرمایا: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229] تو لوگوں نے اس دن سے نئے سر سے طلاق دینا شروع کی، جس نے طلاق دی تھی یا نہ دی تھی۔
حدیث نمبر: 14952
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، نا الْحُمَيْدِيُّ، نا سُفْيَانُ، نا الزُّهْرِيُّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلَاقِي فَتَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَإِنَّمَا مَعَهُ مِثْلُ ⦗٥٤٦⦘ هُدْبَةِ الثَّوْبِ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لَا حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ " وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ فَنَادَى، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَا تَسْمَعُ إِلَى مَا تَهْجُرُ بِهِ هَذِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ وَغَيْرِهِ.
حافظ ثناء اللہ
عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رفاعہ قرظی کی بیوی نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں رفاعہ قرظی کے نکاح میں تھی تو اس نے مجھے تین طلاقیں دے دیں، تو اس کے بعد میں نے عبدالرحمن بن زبیر کے ساتھ شادی کی اور اس کے ساتھ (معاملہ) کپڑے کی جھالر کی مانند ہے۔ رسول اللہ ﷺ مسکرائے اور فرمایا: ”تو رفاعہ کے پاس واپس جانا چاہتی ہے؟“ عرض کیا: ہاں۔ فرمایا: ”نہیں، یہاں تک کہ تو اس کا ذائقہ چکھے اور وہ تیرا ذائقہ چکھے۔“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس تھے اور خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے اجازت کا انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے آواز دی: اے ابوبکر! سن رہے ہو یہ کس بات کا اظہار نبی ﷺ کے پاس کر رہی ہے۔
حدیث نمبر: 14953
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ هُوَ ابْنُ سُفْيَانَ نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ، نا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فَتَزَوَّجَتْ فَطَلَّقَ فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَحِلُّ لِلْأَوَّلِ؟ قَالَ: " لَا حَتَّى تَذُوقَ عُسَيْلَتَهُ كَمَا ذَاقَ الْأَوَّلُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنْ يَحْيَى، وَاحْتَجَّ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ أَيْضًا بِحَدِيثِ عُوَيْمِرٍ الْعَجْلَانِيِّ وَفَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ وَقَدْ ذَكَرْنَاهُمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا قاسم رحمہ اللہ سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے تین طلاقیں دے دیں، تو اس عورت نے شادی کی، تو دوسرے خاوند نے طلاق دے دی۔ نبی ﷺ سے سوال کیا گیا: کیا یہ پہلے خاوند کے لیے حلال ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، یہاں تک کہ تو اس کا ذائقہ چکھے جیسا کہ پہلے نے چکھا تھا۔“
حدیث نمبر: 14954
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، نا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ، أنا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ: مَكَثْتُ عِشْرِينَ سَنَةً يُحَدِّثُنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُهُمْ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا وَهِيَ حَائِضٌ فَأُمِرَ أَنْ يُرَاجِعَهَا فَجَعَلْتُ لَا أَتَّهِمُهُمْ وَلَا أَعْرِفُ الْحَدِيثَ حَتَّى لَقِيتُ أَبَا غَلَّابٍ يُونُسَ بْنَ جُبَيْرٍ وَكَانَ ذَا ثَبْتٍ فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَحَدَّثَهُ أَنَّهُ " طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً فَأُمِرَ أَنْ يُرَاجِعَهَا "، قَالَ: فَقُلْتُ أَفَحُسِبَتْ عَلَيْهِ؟ قَالَ: " فَمَهْ وَإِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں ۲۰ سال ٹھہرا رہا، مجھے انہوں نے بیان کیا جن پر میں تہمت نہیں لگاتا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں تین طلاقیں دے دیں تو انہیں رجوع کا حکم دیا گیا۔ کہتے ہیں: میں نے کہا کہ کیا اس کو طلاق شمار کیا گیا؟ فرمایا: ہاں اس کو طلاق شمار کیا گیا اگرچہ وہ بیوقوفی کیوں نہ ہو۔
حدیث نمبر: 14955
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا أَبُو أُمَيَّةَ الطَّرَسُوسِيُّ، نا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ الرَّازِيُّ، نا شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ، أَنَّ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ حَدَّثَهُمْ، عَنِ الْحَسَنِ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَهِيَ حَائِضٌ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُتْبِعَهَا بِتَطْلِيقَتَيْنِ أُخْرَاوَيْنِ عِنْدَ الْقُرْئَيْنِ الْبَاقِيَيْنِ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ⦗٥٤٧⦘ فَقَالَ: " يَا ابْنَ عُمَرَ مَا هَكَذَا أَمَرَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِنَّكَ قَدْ أَخْطَأْتَ السُّنَّةَ وَالسُّنَّةُ أَنْ تَسْتَقْبِلَ الطُّهْرَ فَتُطَلِّقَ لِكُلِّ قُرْءٍ " قَالَ: فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَاجَعْتُهَا ثُمَّ قَالَ لِي: " إِذَا هِيَ طَهُرَتْ فَطَلِّقْ عِنْدَ ذَلِكَ أَوْ أَمْسِكْ " فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَفَرَأَيْتَ لَوْ أَنِّي طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا كَانَ يَحِلُّ لِي أَنْ أُرَاجِعَهَا؟ قَالَ: " لَا كَانَتْ تَبِينُ مِنْكَ وَتَكُونُ مَعْصِيَةً ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دی اور باقی دو طلاقوں کو دینے کا بھی ارادہ کر لیا تو نبی ﷺ کو پتا چلا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن عمر! کیا اس طرح اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے؟ آپ نے سنت کی خلاف ورزی کی ہے اور سنت طریقہ یہ ہے کہ آپ ہر طہر میں طلاق دیں۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے مجھے رجوع کرنے کا حکم دیا، پھر مجھے فرمایا: ”جب یہ پاک ہو جائے تو اس وقت طلاق دے دینا یا روک لینا۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کا کیا خیال ہے کہ میں اس کو تین طلاقیں دے دوں، کیا میرے لیے یہ جائز ہے کہ میں اس سے رجوع کر لوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، وہ تجھ سے جدا ہو جائے گی اور تو نے نافرمانی کی ہے۔“
حدیث نمبر: 14956
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَأَنَا أَسْمَعُ حَدَّثَكُمْ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ أَبُو إِبْرَاهِيمَ نا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي يَعْنِي الْبَتَّةَ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ: عَصَيْتَ رَبَّكَ وَفَارَقْتَ امْرَأَتَكَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حِينَ فَارَقَ امْرَأَتَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَ امْرَأَتَهُ لِطَلَاقٍ بَقِيَ لَهُ، وَإِنَّهُ لَمْ يَبْقَ لَكَ مَا تَرْتَجِعُ بِهِ امْرَأَتَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے کہا: ”میں نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاقِ بتہ دے دی ہے۔“ انہوں نے کہا: ”تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور اپنی بیوی کو جدا کر لیا۔“ اس شخص نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو حکم دیا تھا جس وقت اپنی بیوی کو جدا کر لیا کہ وہ رجوع کرے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ”رسول اللہ ﷺ نے ان کو رجوع کا حکم طلاق کے باقی ہونے کی وجہ سے دیا تھا تو آپ کی طلاق کوئی باقی نہیں کہ آپ اپنی بیوی کو واپس لا سکیں۔“
حدیث نمبر: 14957
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، نا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، أَنَّ بَطَّالًا كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَطَلَّقَ امْرَأَتَهُ أَلْفًا فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنَّمَا كُنْتُ أَلْعَبُ فَعَلَاهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالدِّرَّةِ وَقَالَ: " إِنْ كَانَ لَيَكْفِيكَ ثَلَاثٌ ".
حافظ ثناء اللہ
زید بن وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بطال مدینہ میں تھا، اس نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دے دیں، معاملہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچا تو اس نے کہا: میں تو کھیل رہا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کوڑا لے کر کھڑے ہو گئے اور فرمایا: تین طلاقیں ہی تجھ سے کفایت کر جاتیں۔
حدیث نمبر: 14958
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ شَقِيقٍ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا قَالَ: " هِيَ ثَلَاثٌ لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ " وَكَانَ إِذَا أُتِيَ بِهِ أَوْجَعَهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں جس نے دخول کرنے سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، فرمایا: یہ تینوں ہی واقع ہو گئیں، یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے، جب ان کے پاس کسی کو لایا جاتا تو وہ سزا دیتے۔
حدیث نمبر: 14959
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الرَّزْجَاهِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي مُحَمَّدٍ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْكُوفِيِّ نا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، نا حَسَنٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِيمَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا قَالَ: " لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن لیلیٰ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں: جس شخص نے دخول سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ عورت اس کے لیے حلال نہیں یہاں تک کہ عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح کر لے۔
حدیث نمبر: 14960
وَحَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، أنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ عورت اس کے لیے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے۔
حدیث نمبر: 14961
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ حُبَيْشٍ الْمُقْرِئُ بِالْكُوفَةِ أنا أَبُو ⦗٥٤٨⦘ إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَزْدِيِّ بْنِ أَبِي الْعَزَائِمِ أنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي أَلْفًا قَالَ: " ثَلَاثٌ تُحَرِّمُهَا عَلَيْكَ وَاقْسِمْ سَائِرَهَا بَيْنَ نِسَائِكَ ".
حافظ ثناء اللہ
حبیب بن ابی ثابت اپنے بعض اصحاب سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اس نے کہا: میں نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دے دیں۔ انہوں نے فرمایا: تین طلاقوں نے تیرے اوپر تیری بیوی کو حرام کر دیا اور باقی ساری طلاقیں اپنی بیویوں کے درمیان تقسیم کر دے۔
حدیث نمبر: 14962
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أحمد بن عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا يُوسُفُ الْقَاضِي، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ قَالَ: حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ رَجُلًا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَارِحَةَ مِائَةً قَالَ: " قُلْتَهَا مَرَّةً وَاحِدَةً؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " تُرِيدُ أَنْ تَبِينَ مِنْكَ امْرَأَتُكَ؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: هُوَ كَمَا قُلْتَ، قَالَ: وَأَتَاهُ رَجُلٌ فقال رجل طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَارِحَةَ عَدَدَ النُّجُومِ قَالَ: " قُلْتَهَا مَرَّةً وَاحِدَةً؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: تُرِيدُ أَنْ تَبِينَ مِنْكَ امْرَأَتُكَ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: هُوَ كَمَا قُلْتَ، قَالَ مُحَمَّدٌ: فَذَكَرَ مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْأَرْضِ كَلِمَةً لَا أَحْفَظُهَا قَالَ: قَدْ بَيَّنَ اللهُ أَمْرَ الطَّلَاقِ فَمَنْ طَلَّقَ كَمَا أَمَرَهُ اللهُ فَقَدْ تَبَيَّنَ لَهُ وَمَنْ لَبَسَ عَلَيْهِ جَعَلْنَا بِهِ لُبْسَهُ وَاللهِ لَا تَلْبَسُونَ عَلَى أَنْفُسِكُمْ وَنَتَحَمَّلُهُ عَنْكُمْ هُوَ كَمَا تَقُولُونَ.
حافظ ثناء اللہ
علقمہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا کہ ایک آدمی نے گزشتہ رات اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دی ہیں، انہوں نے دریافت فرمایا کہ کیا اس نے ایک ہی مرتبہ میں یہ بات کہی تھی؟ اس نے کہا: جی ہاں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا تمہارا ارادہ یہ تھا کہ تمہاری بیوی تم سے جدا ہو جائے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ ویسے ہی ہے جیسے تو نے کہہ دیا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر ایک دوسرا شخص آیا اور اس نے کہا کہ ایک مرد نے گزشتہ رات اپنی بیوی کو ستاروں کی تعداد کے برابر طلاقیں دے دی ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دریافت فرمایا کہ کیا تو نے اپنی بیوی کو ایک ہی مرتبہ یہ بات کہی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا تو نے اپنی بیوی کو الگ کرنے کا ارادہ کیا تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ ویسے ہی ہے جیسے تو نے کہا۔ محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اہل زمین کی عورتوں کے متعلق بھی ایک بات کہی تھی، جسے میں یاد نہ رکھ سکا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے طلاق کا معاملہ واضح فرما دیا ہے، جس نے ویسے طلاق دی جیسا کہ اللہ رب العزت نے حکم دیا ہے تو اس کے لیے (حکم) واضح ہے، اور جس انسان پر معاملہ خلط ملط ہو گیا تو ہم نے بھی اس پر اسی طرح (فیصلہ) کر دیا۔ اللہ کی قسم! تم اپنے اوپر معاملے کو نہ الجھاؤ اور ہم تم سے وہی قبول کرتے ہیں جیسا کہ تم کہتے ہو۔
حدیث نمبر: 14963
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، نا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، نا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَاللَّفْظُ مُخْتَلِفٌ.
حافظ ثناء اللہ
علقمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، انہوں نے اس کا معنی ذکر کیا ہے اور الفاظ مختلف ہیں۔
حدیث نمبر: 14964
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَجِّيُّ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمَّادٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: " الْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يُدْخَلَ بِهَا بِمَنْزِلَةِ الَّتِي قَدْ دُخِلَ بِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مطلقہ ثلاثہ دخول سے پہلے اس عورت کے مرتبہ پر ہے جس کے ساتھ دخول کیا گیا۔
حدیث نمبر: 14965
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا ابْنُ قَعْنَبٍ، وَابْنُ بُكَيْرٍ عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ قَالَ: طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَنْكِحَهَا فَجَاءَ يَسْتَفْتِي فَذَهَبْتُ مَعَهُ اسْأَلُ لَهُ فَسَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَا: " لَا نَرَى أَنْ تَنْكِحَهَا ⦗٥٤٩⦘ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ "، قَالَ: إِنَّمَا كَانَ طَلَاقِي إِيَّاهَا وَاحِدَةً، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: " إِنَّكَ أَرْسَلْتَ مِنْ يَدِكَ مَا كَانَ لَكَ مِنْ فَضْلٍ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن ایاس بن بکیر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے دخول سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں۔ پھر بعد میں اسی عورت سے نکاح کا ارادہ بنایا تو فتویٰ پوچھنے کے لیے آیا، محمد بن عبدالرحمن بن سحبان کہتے ہیں کہ میں بھی اس کے ساتھ گیا کہ میں اس کے لیے مسئلہ پوچھوں تو اس نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں سوال کیا تو ان دونوں نے فرمایا: ”تو اس عورت سے نکاح نہ کر یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلے۔“ اس نے کہا کہ میری جانب سے صرف اس کو ایک طلاق تھی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: ”آپ نے اپنے ہاتھ سے جو زائد ہے بھیجی ہے۔“
حدیث نمبر: 14966
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُكَيْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللهِ بْنَ الْأَشَجِّ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعَاصِمِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ قَالَ: فَجَاءَهُمَا مُحَمَّدُ بْنُ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ فَقَالَ: إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَمَاذَا تَرَيَانِ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: " إِنَّ هَذَا لَأَمْرٌ مَا لَنَا فِيهِ قَوْلٌ اذْهَبْ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ فَإِنِّي تَرَكْتُهُمَا عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَسَلْهُمَا ثُمَّ ائْتِنَا فَأَخْبِرْنَا فَذَهَبَ فَسَأَلَهُمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: أَفْتِهِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ فَقَدْ جَاءَتْكَ مُعْضِلَةٌ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ " الْوَاحِدَةُ تُبِينُهَا وَالثَّلَاثُ تُحَرِّمُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ " وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مِثْلَ ذَلِكَ.
حافظ ثناء اللہ
معاویہ بن ابی عیاش انصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ سیدنا عبداللہ بن زبیر اور سیدنا عاصم بن عمر رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھے تھے کہ ان کے پاس محمد بن ایاس بن بکیر آئے، انہوں نے کہا کہ ایک دیہاتی شخص نے دخول سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں، تم دونوں کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اس معاملہ میں ہمارا کوئی قول نہیں، آپ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جائیں، میں ان دونوں کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس چھوڑ کر آیا ہوں، ان سے جا کر سوال کرو، پھر ہمیں بھی آکر بتانا۔ وہ گئے اور جا کر ان سے سوال کیا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ! ان کو فتویٰ دو کہ آپ کے پاس مشکل معاملہ آیا ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک طلاق میاں بیوی کو جدا کر دیتی ہے اور تین طلاقیں بیوی کو حرام کر دیتی ہیں یہاں تک کہ وہ عورت کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی اسی طرح فرمایا۔
حدیث نمبر: 14967
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنا الرَّبِيعُ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ يَسْتَفْتِي عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَمَسَّهَا فَقَالَ عَطَاءٌ فَقُلْتُ: إِنَّمَا طَلَاقُ الْبِكْرِ وَاحِدَةٌ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو: " إِنَّمَا أَنْتَ قَاصٌّ الْوَاحِدَةُ تُبِينُهَا وَالثَّلَاثُ تُحَرِّمُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
نعمان بن ابی عیاش انصاری، عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص مسئلہ پوچھنے کے لیے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کے پاس آیا کہ کسی مرد نے مجامعت سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں، عطاء رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ کنواری کی طلاق ایک ہوتی ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے کہا کہ آپ تو قصہ گو ہیں، ایک طلاق بیوی کو جدا کردیتی ہے اور تین طلاقیں حرام کردیتی ہیں یہاں تک کہ وہ عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح کر لے۔
حدیث نمبر: 14968
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ أَبِي اللَّيْثِ حَدَّثَهُمْ، عَنِ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: " إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب مرد دخول سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو یہ عورت اس شخص کے لیے حلال نہیں جب تک کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کر لے۔
حدیث نمبر: 14969
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، نا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ فَقَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي ثَلَاثًا وَهِيَ حَائِضٌ فَقَالَ: " عَصَيْتَ رَبَّكَ وَفَارَقْتَ امْرَأَتَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا کہ میں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں تین طلاقیں دے دی ہیں، وہ فرماتے ہیں: تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور اپنی بیوی کو جدا کر دیا۔
حدیث نمبر: 14970
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، نا أَبِي، نا شُعْبَةُ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ وَأَنَا شَاهِدٌ، عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ مِائَةً قَالَ: " ثَلَاثٌ تُحَرِّمُ وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ فَضْلٌ ".
حافظ ثناء اللہ
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے میری موجودگی میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں جس نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دیں، پوچھا تو انہوں نے فرمایا: تین طلاقیں تو بیوی کو حرام کر دیتی ہیں اور ٩٧ زیادہ ہیں۔
حدیث نمبر: 14971
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا ⦗٥٥٠⦘ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، نا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ: كَانَتْ عَائِشَةُ الْخَثْعَمِيَّةُ عِنْدَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا قُتِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَتْ: لِتَهْنِئْكَ الْخِلَافَةُ، قَالَ: بِقَتْلِ عَلِيٍّ تُظْهِرِينَ الشَّمَاتَةَ اذْهَبِي فَأَنْتِ طَالِقٌ، يَعْنِي ثَلَاثًا قَالَ: فَتَلَفَّعَتْ بِثِيَابِهَا وَقَعَدَتْ حَتَّى قَضَتْ عِدَّتَهَا فَبَعَثَ إِلَيْهَا بِبَقِيَّةٍ بَقِيَتْ لَهَا مِنْ صَدَاقِهَا وَعَشَرَةِ آلَافٍ صَدَقَةً، فَلَمَّا جَاءَهَا الرَّسُولُ قَالَتْ: مَتَاعٌ قَلِيلٌ مِنْ حَبِيبٍ مَفَارِقٍ، فَلَمَّا بَلَغَهُ قَوْلُهَا بَكَى ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ جَدِّي أَوْ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ جَدِّي يَقُولُ: " أَيُّمَا رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا عِنْدَ الْأَقْرَاءِ أَوْ ثَلَاثًا مُبْهَمَةً لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ " لَرَاجَعْتُهَا ". وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عائشہ خثعمیہ رضی اللہ عنہا حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے نکاح میں تھیں۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو وہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے کہنے لگیں: آپ کو خلافت مبارک ہو۔ تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قتل پر خوشی کا اظہار کرتی ہو! جاؤ تجھے تین طلاقیں ہیں۔“ اس نے اپنے کپڑے لپیٹے اور بیٹھ گئی، یہاں تک کہ اس نے اپنی عدت پوری کی تو حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اس کی جانب باقی ماندہ حق مہر بھیجا اور دس ہزار اضافی دیا۔ جب قاصد آیا تو عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: یہ قلیل مال ہے جدا ہونے والے محبوب کے مقابلے میں۔ جب عائشہ رضی اللہ عنہا کی بات حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو وہ رو پڑے، پھر فرمانے لگے: اگر میں نے اپنے نانا سے یا میرے باپ نے مجھے بیان نہ کیا ہوتا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے اپنی عورت کو حیض کے موقع پر تین طلاقیں دیں یا پوشیدہ انداز سے تین طلاقیں دیں تو یہ عورت اس شخص کے لیے حلال نہیں یہاں تک کہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کر لے“ تو البتہ میں اس سے رجوع کر لیتا۔