کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: عورت پر شوہر کے حق کی عظمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14704
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْبَزَّازُ نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا لِمَا عَظَّمَ اللهُ مِنْ حَقِّهِ عَلَيْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں کسی کو سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے، اس وجہ سے کہ اللہ نے اس کا بہت زیادہ حق عورت پر رکھا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14704
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره»
حدیث نمبر: 14705
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الزِّيَادِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ النَّخَعِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، نا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ قَيْسٍ قَالَ: قَدِمْتُ الْحِيرَةَ فَرَأَيْتُ ⦗٤٧٦⦘ أَهْلَهَا يَسْجُدُونَ لِمَرْزُبَانَ لَهُمْ فَقُلْتُ نَحْنُ كُنَّا أَحَقَّ أَنْ نَسْجُدَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَيْهِ أَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي رَأَيْتُ قُلْتُ: نَحْنُ كُنَّا أَحَقَّ أَنْ نَسْجُدَ لَكَ فَقَالَ: " لَا تَفْعَلُوا أَرَأَيْتَ لَوْ مَرَرْتَ بِقَبْرِي أَكُنْتَ سَاجِدًا؟ " قُلْتُ: لَا قَالَ: " فَلَا تَفْعَلُوا فَإِنِّي لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ النِّسَاءَ أَنْ يَسْجُدْنَ لِأَزْوَاجِهِنَّ لِمَا جَعَلَ اللهُ مِنْ حَقِّهِمْ عَلَيْهِنَّ " وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ شَرِيكٍ فَقَالَ عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
شعبی رحمہ اللہ، قیس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں حیرہ شہر میں آیا تو وہاں کے لوگ اپنے سردار کو سجدہ کر رہے تھے۔ میں نے کہا کہ ہم زیادہ حق دار ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو سجدہ کریں، میں نے واپس آکر جو دیکھا تھا نبی ﷺ کو بتایا اور کہا کہ ہم زیادہ حق رکھتے ہیں کہ آپ کو سجدہ کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرنا، کیا تم میری قبر کے پاس سے گزرو تو سجدہ کرو گے؟“ میں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا نہ کرو۔ اگر میں کسی کو سجدے کا حکم دیتا تو عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوندوں کو سجدہ کریں، کیونکہ ان کے حقوق اللہ رب العزت نے ان پر رکھے ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14705
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره»
حدیث نمبر: 14706
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، نا الْحُمَيْدِيُّ، نا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ مِحْصَنٍ قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمَّتِي قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ قَالَ: " أَيْ هَذِهِ أَذَاتُ بَعْلٍ أَنْتِ؟ " قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ: " فَكَيْفَ أَنْتِ لَهُ؟ " قَالَتْ: مَا آلُوهُ إِلَّا مَا عَجَزْتُ عَنْهُ، قَالَ: " فَأَيْنَ أَنْتِ مِنْهُ فَإِنَّمَا هُوَ جَنَّتُكِ وَنَارُكِ ".
حافظ ثناء اللہ
حصین بن محصن کہتے ہیں کہ میری پھوپھی رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نبی ﷺ کے پاس کسی کام کے لیے گئی تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تیرا خاوند ہے؟“ میں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیری کیا حالت ہے اس کے لیے؟“ اس نے کہا: میں کمی نہیں کرتی جب تک میں عاجز نہ آجاؤں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس سے کہاں ہے؟ وہ تیری جنت اور جہنم ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14706
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه الحميدي 358»
حدیث نمبر: 14707
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْفَرَّاءُ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ نَهَارٍ الْعَبْدِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنَةٍ لَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ هَذِهِ ابْنَتِي قَدْ أَبَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَ، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَطِيعِي أَبَاكِ "، فَقَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَتَزَوَّجُ حَتَّى تُخْبِرَنِي مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ قَالَ: " حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ أَنْ لَوْ كَانَتْ لَهُ قُرْحَةٌ فَلَحَسَتْهَا مَا أَدَّتْ حَقَّهُ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص اپنی بیٹی کو لے کر نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! میری اس بیٹی نے شادی سے انکار کر دیا ہے،“ تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اپنے باپ کی اطاعت کرو۔“ وہ کہنے لگی: ”اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! جب تک آپ مجھے خاوند کا حق بیوی پر کیا ہے نہ بتائیں گے تو میں شادی نہ کروں گی۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”خاوند کا حق بیوی پر اتنا ہے کہ اگر خاوند کو زخم ہو اور بیوی اس کے زخم کو چاٹ کر صاف کرے تب بھی خاوند کا حق ادا نہیں ہوتا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14707
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»