کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: عورت پر شوہر کے حق کے بیان میں وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14708
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَا: نا مُسَدَّدٌ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ فَبَاتَ غَضْبَانًا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب مرد اپنی بیوی کو بستر پر بلائے تو وہ انکار کر دے اور خاوند نے ناراضی کی حالت میں رات گزاری تو فرشتے صبح تک اس عورت پر لعنت کرتے ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14708
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري5193۔5194»
حدیث نمبر: 14709
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا بَاتَتِ الْمَرْأَةُ هَاجِرَةً لِفِرَاشِ زَوْجِهَا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ أَوْ تُرَاجِعَ " شَكَّ أَبُو دَاوُدَ ⦗٤٧٧⦘ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ ثُمَّ فِي رِوَايَةِ بَعْضِهِمْ حَتَّى تُصْبِحَ وَفِي رِوَايَةِ بَعْضِهِمْ حَتَّى تَرْجِعَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جب عورت اپنے خاوند کا بستر چھوڑ کر رات گزارتی ہے تو اس کے صبح یا لوٹنے تک فرشتے لعنت کرتے ہیں۔“
(ب) بعض کی روایات میں کہ ”وہ صبح کرے“ اور بعض کی روایات میں کہ ”وہ واپس پلٹے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14709
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 14710
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، نا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا الرَّجُلُ دَعَا زَوْجَتَهُ لِحَاجَتِهِ فَلْتُجِبْهُ وَإِنْ كَانَتْ عَلَى التَّنُّورِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”جب مرد اپنی بیوی کو اپنی حاجت کے لیے بلائے تو اگر وہ تنور پر بھی ہو تو اس کی بات مانے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14710
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 14711
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَدِمَ الشَّامَ فَوَجَدَهُمْ يَسْجُدُونَ لِبَطَارِقَتِهِمْ وَأَسَاقِفَتِهِمْ فَرَوَى فِي نَفْسِهِ أَنْ يَفْعَلَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَدِمَ سَجَدَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي دَخَلْتُ الشَّامَ فَوَجَدْتُهُمْ يَسْجُدُونَ لِبَطَارِقَتِهِمْ وَأَسَاقِفَتِهِمْ فَرَوَيْتُ فِي نَفْسِي أَنْ أَفْعَلَ ذَلِكَ لَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تُؤَدِّي الْمَرْأَةُ حَقَّ رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا كُلَّهُ حَتَّى أَنْ لَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى قَتَبٍ أَعْطَتْهُ " أَوْ قَالَ: لَمْ تَمْنَعْهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ شام آئے تو انہوں نے دیکھا کہ وہ لوگ اپنے پادریوں کو سجدہ کرتے ہیں تو انہوں نے اپنے دل میں سوچا کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ ایسا ہی کریں گے، وہ واپس آکر نبی ﷺ کو سجدہ کرنے لگے تو آپ ﷺ نے انکار کر دیا، وہ کہنے لگے: ”اے اللہ کے رسول! میں شام آیا تو وہاں کے لوگ اپنے پادریوں کو سجدہ کر رہے تھے تو میں نے دل میں سوچا کہ میں آپ کے ساتھ ایسا کروں گا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت سے کہتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! عورت اتنی دیر اللہ کا بھی حق ادا نہیں کر سکتی جب تک وہ اپنے خاوند کا حق ادا نہ کرے۔ اگر وہ اپنی ضرورت کا سوال کرے اور وہ پالان پر بھی ہو تب بھی اس کے پاس آئے“ یا فرمایا: ”اس کو نہ روکے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14711
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بدون القصة»
حدیث نمبر: 14712
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الرَّزْجَاهِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى، أنا عَبْدُ اللهِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَلَا تَأْذَنُ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ كَسْبِهِ مِنْ غَيْرِ أَمْرِهِ فَإِنَّ نِصْفَ أَجْرِهِ لَهُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُقَاتِلٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ، وَأَخْرَجَاهُ، مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ كَمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورت خاوند کی موجودگی میں نفلی روزہ اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے اور اس کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر کسی کو گھر میں نہ آنے دے اور اس کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں سے خرچ نہ کرے۔ بے شک خرچ کرنے کا نصف اجر اس کو ملے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14712
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 5192»
حدیث نمبر: 14713
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَتَهُ أَتَتْهُ فَقَالَتْ: مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى امْرَأَتِهِ؟ فَقَالَ: " لَا تَمْنَعُهُ نَفْسَهَا وَإِنْ كَانَتْ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ، وَلَا تُعْطِي مِنْ بَيْتِهِ شَيْئًا إِلَّا بِإِذْنِهِ فَإِنْ فَعَلَتْ ذَلِكَ كَانَ لَهُ الْأَجْرُ وَعَلَيْهَا الْوِزْرُ، وَلَا تَصُومُ يَوْمًا تَطَوُّعًا إِلَّا بِإِذْنِهِ فَإِنْ فَعَلَتْ ذَلِكَ أَثِمَتْ وَلَمْ تُؤْجَرْ وَلَا تَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ فَإِنْ فَعَلَتْ لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ مَلَائِكَةُ الْغَضَبِ وَمَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ حَتَّى تَتُوبَ أَوْ تُرَاجِعَ " قِيلَ: فَإِنْ كَانَ ظَالِمًا؟ قَالَ: " وَإِنْ كَانَ ظَالِمًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے پوچھا: خاوند کا بیوی پر کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اپنے نفس کو اس سے نہ روکے اگرچہ وہ سواری پر ہی کیوں نہ ہو اور گھر سے کوئی چیز اس کی اجازت کے بغیر نہ دے، اگر تم نے کیا تو خاوند کو اجر اور تم کو گناہ ملے گا اور ایک دن کا نفلی روزہ بھی اس کی اجازت کے بغیر نہ رکھے۔ اگر ایسا کرو گی تو گناہ گار ہو گی، اجر بھی نہ ملے گا اور خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے بھی نہ نکلے۔ اگر ایسا کرو گی تو عذاب کے فرشتے اس کے واپس آنے تک لعنت کرتے رہیں گے۔“ کہا گیا: اگر خاوند ظالم ہی ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگرچہ وہ ظالم ہی کیوں نہ ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14713
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 14714
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، نا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ رَزِينٍ السُّلَمِيُّ، نا بِشْرُ بْنُ أَبِي الْأَزْهَرِ، نا هُشَيْمٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ؟ قَالَ: " أَنْ لَا تَمْنَعَ نَفْسَهَا مِنْهُ وَلَوْ عَلَى قَتَبٍ فَإِذَا فَعَلَتْ كَانَ عَلَيْهَا إِثْمٌ " ثُمَّ قَالَتْ: مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ؟ قَالَ: " أَنْ لَا تُعْطِيَ شَيْئًا مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ " تَفَرَّدَ بِهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سَلَمٍ فَإِنْ كَانَ حَفِظَهُمَا فَوَجْهُ الْحَدِيثِ الثَّابِتِ قَبْلَهُمَا فِي إِبَاحَةِ الْإِنْفَاقِ مِنْ بَيْتِهِ أَنْ تُنْفِقَ مِمَّا أَعْطَاهَا الزَّوْجُ فِي قُوتِهَا وَبِذَلِكَ أَفْتَى أَبُو هُرَيْرَةَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس ایک عورت آئی اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! خاوند کا بیوی پر کیا حق ہے؟“ فرمایا: ”بیوی اپنے نفس کو اس سے نہ روکے اگرچہ سواری پر ہی کیوں نہ ہو، اگر ایسا کرے گی تو گناہ گار ہوگی۔“ عرض کرنے لگی: ”خاوند کا بیوی پر کیا حق ہے؟“ فرمایا: ”گھر سے کوئی چیز اس کی اجازت کے بغیر نہ دے۔“
نوٹ: بیوی اپنے خرچہ سے دے سکتی ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بھی یہی فتویٰ ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14714
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم قبله»
حدیث نمبر: 14715
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأُمَوِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَكِيمِيُّ بِبَغْدَادَ قَالَا: نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الدُّورِيُّ، نا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، نا شُعَيْبُ بْنُ زُرَيْقٍ الطَّائِفِيُّ، نا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ السَّكْسَكِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تَأْذَنَ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَهُوَ كَارِهٌ، وَلَا تَخْرُجُ وَهُوَ كَارِهٌ، وَلَا تُطِيعُ فِيهِ أَحَدًا، وَلَا تُخَشِّنُ بِصَدْرِهِ، وَلَا تَعْتَزِلُ فِرَاشَهُ، وَلَا تَصْرُمُهُ فَإِنْ كَانَ هُوَ أَظْلَمَ مِنْهَا فَلْتَأْتِهِ حَتَّى تُرْضِيَهُ، فَإِنْ هُوَ قَبِلَ مِنْهَا فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَقَبِلَ اللهُ عُذْرَهَا، وَأَفْلَجَ حُجَّتَهَا، وَلَا إِثْمَ عَلَيْهَا، وَإِنْ هُوَ أَبَى أَنْ يَرْضَى عَنْهَا فَقَدْ أَبَلَغَتْ عِنْدَ اللهِ عُذْرَهَا ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”ایسی عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے جائز نہیں کہ کسی کو اپنے خاوند کے گھر آنے کی اجازت دے جس کو وہ ناپسند کرتا ہو، اور نہ ہی وہ گھر سے اس کی ناراضگی کی صورت میں نکلے، اور نہ ہی کسی دوسرے کی پیروی کرے، اور نہ ہی اس کے دل میں سختی پیدا کرے، اور نہ ہی اس کے بستر سے الگ ہو کر اس کو چھوڑ دے۔ اگرچہ وہ انسان ظالم ہی کیوں نہ ہو، تب بھی اسے راضی کرے۔ اگر وہ اس کی معذرت قبول کرتا ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے اور اللہ رب العزت بھی اس کا عذر قبول کریں گے اور اس کی دلیل کو مؤثر بنائیں گے اور اس کے ذمے کوئی گناہ نہ ہوگا۔ اگر وہ راضی ہونے سے انکار کر دے تو اس نے اپنا عذر اللہ کے ہاں پہنچا دیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14715
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»