کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابکتاب: باری مقرر کرنے اور نشوز (عورت کی نافرمانی) کے مسائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 14703
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا عَارِمٌ، ح وَأنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا أَبُو الرَّبِيعِ قَالَا: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ فَالْأَمِيرُ رَاعٍ عَلَى النَّاسِ وَهُوَ مَسْئُولٌ، وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَى بَيْتِ زَوْجِهَا وَهِيَ مَسْئُولَةٌ، وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَى مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ أَلَا كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَارِمٍ أَبِي النُّعْمَانِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم سب ذمہ دار ہو، تم سب سے پوچھا جائے گا۔ امیر لوگوں کا ذمہ دار ہے، اس سے عوام کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ گھر کا فردِ اعلیٰ اپنے گھر والوں کی طرف سے جوابدہ ہے، اس سے اس کے گھر والوں کے متعلق پوچھا جائے گا اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگران ہے، اس سے اس کے بارے میں سوال ہوگا، آدمی کا غلام اپنے آقا کے مال کا محافظ ہے اس سے اس کے متعلق سوال ہوگا۔ تم میں ہر ایک شخص نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے پوچھا جائے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14703
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 893»