کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس دعا کا بیان جو انسان کھانے سے فارغ ہونے کے بعد پڑھے۔
حدیث نمبر: 14671
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ الْعَدْلُ نا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، نا أَبُو نُعَيْمٍ الْمُلَائِيُّ، نا سُفْيَانُ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَفَعَ مَائِدَتَهُ قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، زَادَ غَيْرُهُ فِيهِ: حَمْدًا كَثِيرًا.
حافظ ثناء اللہ
ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے سامنے سے دستر خوان اٹھا لیا جاتا تو آپ ﷺ دعا فرماتے: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْدًا كَثِيْرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيْهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا» ”کثرت اور برکت سے بھر پور ساری تعریفیں صرف اللہ کے لیے ہیں جو نہ ختم ہوں اور نہ ان کو چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ اس سے بے نیازی دکھائی جا سکتی ہے، اے ہمارے پروردگار!“
(ب) ابو نعیم سے صحیح بخاری میں «حَمْدًا كَثِيْرًا» روایت ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصداق / حدیث: 14671
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ بخاري 5458۔ 5459»
حدیث نمبر: 14672
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، نا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْمُجَوِّزُ، نا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، نا خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَفَعَ الْعَشَاءَ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ: وَقَالَ مَرَّةً إِذَا رَفَعَ مَائِدَتَهُ قَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانَا وَأَرْوَانَا غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مَكْفُورٍ " قَالَ: وَقَالَ مَرَّةً: " لَكَ الْحَمْدُ رَبَّنَا غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا "، وَفِيهِ أَخْبَارٌ أُخَرُ قَدْ ذَكَرْنَاهُ فِي كِتَابِ الدَّعَوَاتِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی ﷺ کے سامنے سے دستر خوان اٹھا لیا جاتا تو آپ ﷺ دعا فرماتے: ”«الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ، غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا» کثرت اور برکت سے بھرپور ساری تعریفیں صرف اللہ کے لیے ہیں جو نہ ختم ہوں اور نہ ان کو چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ اس سے بے نیازی دکھائی جا سکتی ہے، اے ہمارے پروردگار!“
(ب) صحیح بخاری میں ابو عاصم سے روایت ہے کہ جب آپ ﷺ کھانے سے فارغ ہوتے اور دوسری مرتبہ کہتے ہیں کہ جب دستر خوان اٹھایا جاتا تو دعا فرماتے: ”«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانَا وَأَرْوَانَا، غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مَكْفُورٍ» تمام تعریفیں اس ذات کے لیے ہیں جس نے ہمیں سیر اور سیراب کیا، نہ ختم ہونے والی نعمت اور نہ ہی اس کی بے قدری کی جائے گی“ اور دوسری مرتبہ فرماتے: ”«الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّنَا غَيْرَ مَكْفِيٍّ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ رَبَّنَا» اے ہمارے رب! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں جو ختم نہ ہوں اور نہ ان کو چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ اس سے بے نیازی دکھائی جا سکتی، اے ہمارے پروردگار!“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصداق / حدیث: 14672
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»