حدیث نمبر: 14661
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ الْأَصْمَعِيُّ: الِاخْتِنَاثُ أَنْ تُثَنَّى أَفْوَاهُهَا ثُمَّ يُشْرَبُ مِنْهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ”مشکیزوں کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا۔“
اصمعی کہتے ہیں کہ «اِخْتِنَاث» مشک کے منہ کو دوہرا کر کے اس سے پیا جائے یا مشک کے منہ کو اوپر کی جانب موڑ کر اس سے پیا جائے۔
اصمعی کہتے ہیں کہ «اِخْتِنَاث» مشک کے منہ کو دوہرا کر کے اس سے پیا جائے یا مشک کے منہ کو اوپر کی جانب موڑ کر اس سے پیا جائے۔
حدیث نمبر: 14662
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا إِسْمَاعِيلُ الْمَكِّيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: لَقَدْ شَرِبَ رَجُلٌ مِنْ فَمِ سِقَاءٍ فَانْسَابَ فِي بَطْنِهِ جَانٌّ فَنَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ " ⦗٤٦٥⦘ إِسْمَاعِيلُ الْمَكِّيُّ فِيهِ ضِعْفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے مشک کے منہ سے پیا تو چھوٹا سا سانپ اس کے پیٹ میں چلا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے مشکوں کے منہ موڑ کر ان سے پینے سے منع فرما دیا۔
حدیث نمبر: 14663
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، نا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، نا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أُخْبِرُكُمْ بِأَشْيَاءَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " لَا يَشْرَبْ أَحَدُكُمْ مِنْ فِيِّ السِّقَاءِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تمہیں رسول اللہ ﷺ سے کچھ اشیاء کی خبر دیتا ہوں کہ: ”تم میں سے کوئی مشکیزے کے منہ کو منہ لگا کر پانی نہ پیے۔“
حدیث نمبر: 14664
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، نا الْحُمَيْدِيُّ، نا سُفْيَانُ، نا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ، نا عِكْرِمَةُ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَشْيَاءَ قِصَارٍ سَمِعْنَاهَا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فَمِ السِّقَاءِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: کیا میں تمہیں ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کی خبر نہ دوں جو میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنی ہیں؟ کہ رسول اللہ ﷺ نے ”مشک کے منہ سے منہ لگا کر پینے سے منع فرمایا ہے۔“
حدیث نمبر: 14665
وَفِي رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ، بِإِسْنَادِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى أَنْ يَشْرَبَ الرَّجُلُ مِنْ فِي السِّقَاءِ.
حافظ ثناء اللہ
ایوب رحمہ اللہ اپنی سند سے نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ”آدمی کو مشکیزے کے منہ سے (منہ لگا کر) پینے سے منع فرمایا۔“ ایوب رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے خبر ملی کہ اس شخص نے مشکیزے کے منہ کو منہ لگا کر پانی پیا تو سانپ نکل آیا۔
حدیث نمبر: 14666
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُشْرَبَ مِنْ فِي السِّقَاءِ، وَقَالَ: " إِنَّهُ يُنْتِنُهُ " هَكَذَا رُوِيَ مُرْسَلًا وَأَمَّا الَّذِي رُوِيَ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ فَأَخْبَارُ النَّهْيِ أَصَحُّ إِسْنَادًا وَقَدْ حَمَلَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى مَا لَوْ كَانَ السِّقَاءُ مُعَلَّقًا فَلَا تَدْخُلُهُ هَوَامُّ الْأَرْضِ، وَقَدْ ذَكَرْنَاهُ فِي كِتَابِ الْمَعْرِفَةِ، وَكِتَابِ الْجَامِعِ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مشکیزے کے منہ سے پینے سے منع فرمایا اور فرمایا: ”وہ خراب ہو جاتا ہے۔“ نہی اور رخصت کی دونوں طرح کی احادیث منقول ہیں۔
بعض علماء نے کہا ہے: جب مشکیزہ دیوار سے لٹکا ہوا ہو تو حشرات الارض اس میں داخل نہ ہو سکیں گے۔
بعض علماء نے کہا ہے: جب مشکیزہ دیوار سے لٹکا ہوا ہو تو حشرات الارض اس میں داخل نہ ہو سکیں گے۔