کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: پانی میں منہ لگا کر (جانوروں کی طرح) پینے کے متعلق بیان۔
حدیث نمبر: 14660
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْعَوَّامِ، نا أَبُو عَامِرٍ، نا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حَائِطَهُ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ فَقَالَ: " إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي شَنَّةٍ وَإِلَّا كَرَعْنَا " قَالَ: وَالرَّجُلُ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ عِنْدِي مَاءٌ أَظُنُّهُ بَاتَ فِي شَنَّةٍ فَانْطَلَقَ إِلَى الْعَرِيشِ قَالَ: فَانْطَلَقَ فَسَكَبَ مَاءً فِي قَدَحٍ ثُمَّ حَلَبَ عَلَيْهِ مِنْ دَاجِنٍ لَهُ قَالَ: فَشَرِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ شَرِبَ الَّذِي دَخَلَ مَعَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْعَقَدِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنے ساتھیوں سمیت ایک انصاری کے باغ میں داخل ہوئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تیرے پاس اس مشکیزہ میں رات کا پانی پڑا ہوا ہو تو ٹھیک، وگرنہ ہم منہ لگا کر پی لیتے ہیں“ اور وہ اپنے باغ کو پانی لگا رہا تھا، اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا گمان ہے کہ رات کا مشکیزے میں پانی پڑا ہوا ہے، آپ ﷺ چھپر کی طرف چلے گئے، راوی کہتے ہیں: آپ ﷺ چلے تو اس نے پیالے میں پانی ڈالا، پھر بکری کا دودھ دوہا، پھر آپ ﷺ نے پیا اور اس نے بھی پیا جو آپ ﷺ کے ساتھ تھا۔